سیاسی قائدین کی آمریت
ارکان اسمبلی صرف نوٹوں سے ہی نہیں بلکہ اپنی پارٹی قیادت کے من مانے فیصلوں کی وجہ سے بھی منحرف ہوتے ہیں
سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی اپنی اپنی پارٹی پر گرفت اور ان کے ارکان اسمبلی کی وفاداریوں کا پتہ چل گیا وہاں جمہوریت کی حقیقت بھی ایک بار پھر کھل گئی اور کے پی کے میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کو اپنے 2 ارکان اسمبلی کے خلاف بھی کارروائی کرنا پڑی۔
اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ چاروں صوبوں میں ہارس ٹریڈنگ کی کوشش ہوئی جو دو قسم کی تھی جو کہیں کامیاب ہوئی اور کہیں ناکام مگر ماضی کی طرح نہیں ہو سکا اور صرف بلوچستان میں ایک سینیٹر آزادانہ طور پر منتخب تو ہوا مگر عملی طور پر اسے پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل تھی اور کچھ ٹریڈنگ بھی ہوئی اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی کے عہدے پر فائز شخص نے اپنی بیٹی کو کامیاب کرانے کے لیے اپنی پارٹی کے فیصلے کی خلاف ورزی کی اور پھر بلوچستان میں اپنی الگ مسلم لیگ بنانے کا بھی اعلان کر دیا۔
چاروں صوبوں میں ارکان اسمبلی نے اپنے قائدین کے فیصلوں سے نو سینیٹروں نے پی ٹی آئی کے امیدوار کو ووٹ دے کر ثابت کر دیا کہ انھیں اپنے سیاسی قائدین اور اپنی پارٹیوں پر اعتماد نہیں ہے، وزیراعظم نواز شریف نے تو سینیٹ کے انتخابات کو اہمیت ہی نہیں دی اور وہ سینیٹروں کے انتخابات کے موقعے پر ملک ہی میں نہیں تھے اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے موقعے پر آصف علی زرداری اپنی منصوبہ بندی میں کامیاب رہے اور وزیراعظم نواز شریف نے اپوزیشن کے مقابلے میں سرگرمی ہی نہیں دکھائی جب کہ الیکشن سے قبل انھوں نے فاٹا کے سلسلے میں صدر مملکت سے جلدی میں آرڈیننس نافذ کرا کر فاٹا کے ان سینیٹروں کو ناراض کر دیا جو آرڈیننس کے باعث کامیاب نہ ہو سکے اور فاٹا کے ارکان قومی اسمبلی بھی ناراض ہو گئے جو ہمیشہ وفاقی حکومت کا ساتھ دیتے ہیں اور اس آرڈیننس کا فائدہ بھی نہیں ہوا جو بعد میں واپس لینا پڑا۔
آصف زرداری کی سیاسی پھرتی نے حکومت کو پسپائی پر مجبور کر دیا اور وزیراعظم میثاق جمہوریت کے باعث نہیں بلکہ مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ اپوزیشن کے امیدوار میاں رضا ربانی کی حمایت پر مجبور ہوئے کیونکہ انھیں پتہ ہے میاں رضا ربانی کتنے اصول پرست ہیں۔ وزیراعظم پیپلزپارٹی کے اسی امیدوار کی حمایت پر مجبور ہوئے جو سر سے پیر تک پیپلزپارٹی کا وفادار ہے اور ماضی سے اب تک پی پی میں رہا ہے۔ پی پی پی کا عہدہ چھوڑنے کے باوجود میاں رضا ربانی پی پی کے وفادار رہیں گے جب کہ ان کے والد میاں ربانی آرائیں مسلم لیگی اور قائد اعظم کے قریبی ساتھی تھے۔
وزیراعظم ہی کیا، اصول پرست قرار پانے والے میاں رضا ربانی نے پی پی کی گزشتہ حکومت کے پانچ سالوں میں اپنے ہی مقررہ اصولوں پر عمل کیا تھا اور کبھی پی پی حکومت کے کسی اقدام کی مخالفت نہیں کی تھی اور پارٹی قیادت سے اختلافات کے باوجود ہمیشہ خاموش رہ کر پارٹی سے وفاداری نبھائی تھی اور فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری کے وقت بھی غلط سمجھتے ہوئے بھی پارٹی فیصلے پر روتے ہوئے عمل کیا تھا۔ جس کا صلہ آصف زرداری نے انھیں دے دیا ہے اور ثابت کر دکھایا ہے کہ کیسے اصول ان کے سینیٹر کو اپنے ضمیر کے مطابق نہیں بلکہ صرف ان کے فیصلے پر عمل کرنا ہے۔
میاں رضا ربانی اور چوہدری اعتزاز احسن نے اپنی پارٹی کی حکومتوں میں خاموش رہ کر موجودہ حکومت پر جو تنقید شروع کر رکھی تھی اس پر دونوں آصف علی زرداری کا اعتماد حاصل کر چکے تھے مگر صلہ رضا ربانی کو ملا ۔
22 ویں ترمیم کے موقعے پر آصف علی زرداری نے رضا ربانی سے اس کی حمایت میں ووٹ دلا کر پارٹی میں اپنی آمریت کا ثبوت دیا تھا تو میاں نواز شریف نے سندھ سے تعلق رکھنے والے 3 پارٹی رہنماؤں کو پنجاب سے منتخب کرا کر اور عمران خان نے ملک سے باہر رہنے والے اور اپنے پسندیدہ امیدواروں کو کے پی کے سے منتخب کرا کر اپنی پارٹیوں میں اپنی آمریت کا ثبوت دے دیا ہے۔
تینوں بڑی سیاسی پارٹیاں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف جمہوری ہونے کی دعویدار ہیں مگر سینیٹروں کی نامزدگی کے موقعے پر میاں نواز شریف، آصف علی زرداری اور عمران خان نے اپنی پارٹیوں سے مشاورت کرنے کی بجائے خود فیصلے کیے اور اپنے پسندیدہ رہنماؤں کو منتخب بھی کرا لیا مگر اپنے فیصلوں پر عمل کرانے کے لیے عمران خان نے تو کے پی کے کے اپنے ارکان اسمبلی کو دھمکی دینا پڑی تھی کہ اگر پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے ان کے نامزد امیدواروں کو ووٹ نہ دیے تو وہ اسمبلی توڑ دیں گے اور اپنے ایک منحرف رکن اسمبلی کی رکنیت تو عمران خان نے معطل بھی کرا دی تھی۔
میاں نواز شریف اور عمران خان کو اپنے ارکان کے منحرف ہو جانے کا پہلے سے ہی خدشہ تھا اسی لیے دونوں اس سلسلے میں آئینی ترمیم کے خواہاں تھے مگر آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن راضی نہ ہوئے، عمران خان کی سختی تو کام آ گئی مگر شریف برادران کو اپنے ارکان پر توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں تھی اور منتخب ہو جانے کے بعد دونوں بھائی اپنے ارکان سے دور ہو جانے کے عادی ہیں۔
اسی لیے پنجاب ہی نہیں بلکہ کے پی کے اور بلوچستان کے ارکان بھی اپنی قیادت کی آمریت سے منحرف ہونے پر مجبور ہو گئے اور انھوں نے لیگی امیدواروں کو ووٹ نہیں دیے پارٹی قائدین باتیں اور دعوے تو جمہوریت کے کرتے ہیں مگر عمران خان سمیت سب اپنی من مانیوں کے عادی ہیں اور اپنے فیصلوں ہی کو حرف آخر سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے فیصلوں پر کوئی رہنما بھی اعتراض نہ کرے۔
آصف زرداری نے اپنی صدارت میں اپنی پارٹی کے اچھی شہرت رکھنے والوں کو نظر انداز کر کے اپنی پسند کے جن دو رہنماؤں کو وزیراعظم نامزد کیا تھا ان دونوں کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو 2013ء کے عام انتخابات میں عوام نے مسترد کر دیا تھا مگر قیادت نے کوئی پروا نہیں کی اور آج سندھ میں آصف زرداری کی ارکان اسمبلی پر گرفت تو مضبوط ہے مگر شریف برادران کی اپنے اور عمران خان کی اپنے ارکان پر گرفت موجود نہیں مولانا فضل الرحمن کا بھی کے پی کے میں ایک رکن منحرف ہوا ہے۔
ارکان اسمبلی صرف نوٹوں سے ہی نہیں بلکہ اپنی پارٹی قیادت کے من مانے فیصلوں کی وجہ سے بھی منحرف ہوتے ہیں اور پارٹی کے فیصلے کے خلاف ووٹ دے کر اپنی قیادت کی آمریت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں اور تمام سیاسی قائدین آئینی ترمیم کے ذریعے اپنے منتخب ارکان کو کنٹرول میں لا بھی چکے ہیں اور ان کے حکم سے انحراف کرنے والے کی رکنیت ختم کرانے کا اختیار بھی رکھتے ہیں اور اختلاف رائے برداشت نہیں کرتے اور اپنے ارکان کو اظہار رائے کا حق صرف اس قدر دیتے ہیں کہ وہ ان کے فیصلے سے اختلاف نہ کرے اور صرف ان کے مسلط کردہ فیصلے کی تائید کرے اور وہ اسی کو جمہوریت قرار دیتے ہیں جب کہ یہ آمریت ہے جمہوریت نہیں۔