سیاسی مداخلت نے حیدرآباد کو تباہ کر دیا جماعت اسلامی

سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ہیں، ابتر صورتحال کیخلاف مظاہرہ


Numainda Express October 08, 2012
حیدرآباد میں صفائی کی ابتر صورتحال کے خلاف جماعت اسلامی کے کارکن مظاہرہ کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

حیدرآباد میں صفائی کی ابتر صورتحال، آلودہ پانی کی فراہمی اور سڑکوں کی تباہ حالی کے خلاف جماعت اسلامی نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

جماعت اسلامی کے رہنمائوں عبدالوحید قریشی، شیخ شوکت علی، مشتاق احمد خان اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج شہر میں ہر طرف کچرے کے ڈھیر، ابلتے گٹر اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں نظر آتی ہیں، متعلقہ اداروں کی غفلت اور اداروں میں سیاسی مداخلت کے باعث حیدرآباد کسی تباہ حال شہر کا منظر پیش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلٹر پلانٹ پر کئی ارب روپے خرچ کے دعوے کیے گئے تھے لیکن شہریوں کو آج بھی صاف پانی نہیں مل رہا۔ حیدرآباد میں سڑکوں کی تعمیر اور بالائی گزرگاہیں بناتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ 30 سال کی ضروریات کو پورا کر دیں گی لیکن سڑکیں ناظمین کے نظام کے ساتھ ہی رخصت ہوگئیں ، آج ہر طرف گڑھے اور دھنسی ہوئی سڑکیں نظر آتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بلدیہ حیدرآباد میں 2 ہزار قریب خاکروب ہیں اس کے باوجود ہر طرف گندگی کے ڈھیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واسا اور بلدیہ تباہی کے دہانے پر ہیں یہ کرپٹ افسران اورگھوسٹ ملازمین کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ شہر میں صحت وصفائی کا نظام برباد ہوگیا ہے گندگی اور مضر صحت پانی کی وجہ سے شہری بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، حیدرآباد کا کوئی پرسان حال نہیں۔