پرانی گاڑیوں کی درآمد پر مقامی صنعت کو 10 سال میں 100 ارب کا نقصان

ہراستعمال شدہ گاڑی پرزہ جات کی انڈسٹری کیلیے 4لاکھ روپے خسارے کا سبب بن رہی ہے، رپورٹ


Kashif Hussain March 20, 2015
ہراستعمال شدہ گاڑی پرزہ جات کی انڈسٹری کیلیے 4لاکھ روپے خسارے کا سبب بن رہی ہے، پاپام رپورٹ۔ فوٹو: فائل

KARACHI: پاکستان میں درآمد ہونے والی ہراستعمال شدہ گاڑی پرزہ جات کی مقامی صنعت کے لیے 4لاکھ روپے خسارے کا سبب بن رہی ہے۔

گزشتہ 10سال کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے نام پر 2لاکھ 50ہزار سے زائد گاڑیاں درآمد کی گئی ہیں جن سے پرزہ جات کی مقامی صنعت کو مجموعی طور پر100ارب روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ پرزہ جات کی مقامی صنعت کی نمائندہ پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹوپارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچررز(پاپام) کی جانب سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے مقامی صنعت پر پڑنے والے اثرات سے متعلق خصوصی رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے دیے جانے والے گفٹ، رہائش کی تبدیلی اور بیگج اسکیموں کے غلط استعمال کے سبب استعمال شدہ گاڑیوں کی ''منظم تجارت ''نے پاکستانی آٹو انڈسٹری بالخصوص پرزہ جات کی تیاری میں کی گئی 100ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔

پاکستان میں لگ بھگ 1975پرزہ جات بنانے والے (آٹو پارٹس مینوفیکچررز) کام کررہے ہیں جن میں سے پہلی سطح (ٹیئر ون) کے 375 اور دوسری سطح (ٹیئر ٹو) کے 1600 مینوفیکچررز شامل ہیں۔ پاکستان میں تیار کی جانیو الی کاروں میں 55سے 70فیصد پرزہ جات یہی پاکستانی مینوفیکچررز فراہم کررہے ہیں، اس طرح گاڑیوں کی قیمت کو مقامی پرزہ جات کے ذریعے مناسب سطح پر رکھنے اور امپورٹ کا متبادل بنتے ہوئے سالانہ کروڑں ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت کا ذریعہ بننے کے ساتھ پاکستان میں 30لاکھ سے زائد افراد کو براہ راست روزگار فراہم کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے سازگار ماحول کی وجہ سے آٹو سیکٹر میں کی گئی سرمایہ کاری بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

پاکستان دنیا میں کار مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے لیے پرکشش مارکیٹ رہی ہے اور ایک وقت میں پاکستان میں بیک وقت 8کمپنیاں گاڑیاں تیار کررہی تھیں جن میں سے معروف عالمی برانڈز بنانے والے 5 پلانٹس، ہونڈائی، نسان، شیورلیٹ، فیٹ اور آدم موٹرز بند ہوچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پرزہ جات بنانے والوں اور آٹو اسمبلرز کے ساتھ خود حکومت کے لیے بھی خسارے کا سودا ہے۔ ایس آر او 577کے تحت درآمدی گاڑیوں پر فکس ڈیوٹیوں کے اطلاق سے حکومت کو ایک ہزار سی سی سے کم ہر گاڑی کی درآمد پر ٹیکسوں کی مد میں 2لاکھ 10ہزار روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔

ان گاڑیوں کی درآمد کا اوسط 3ہزار گاڑیاں ماہانہ ہے، اس طرح قومی خزانے کو ایک ہزار سی سی گاڑیوں کی درآمد پر کم ڈیوٹی کی وجہ سے7.5ارب روپے سالانہ نقصان کا سامنا ہے۔ پرزہ جات بنانے والی صنعت نے رپورٹ کے ساتھ حکومت کو جامع تجاویز بھی ارسال کی ہیں۔ ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ 1800سی سی سے زائد گاڑیوں کی طرح 1800سی سی سے کم طاقت کی گاڑیوں کی ویلیو ایشن مینوفیکچرر سجیسٹڈ ریٹیل پرائس( ایم ایس آر پی) کی بنیاد پر کی جائے تاکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان سے بچایا جاسکے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے نام پر استعمال شدہ گاڑیوں کی منظم تجارت کی روک تھام کے لیے تجویز دی گئی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کو دو سال میں ایک سے زائد گاڑی پاکستان نہ بھیجنے کا پابند بناتے ہوئے اسی ملک سے گاڑی پاکستان بھیجنے کی اجازت دی جائے جہاں وہ مقیم ہے۔

پاکستان میں درآمد کی جانیو الی گاڑی بیرون ملک مقیم پاکستانی یا اس کے فیملی ممبر کے نام پر رجسٹرڈ کی جائے اور اس کی ایک سال تک کسی ٹرانسفر پر پابندی عائد کی جائے (تھائی لینڈ میں بھی یہ ہی طریقہ رائج ہے)۔ استعمال شدہ وینز (1.5ٹن) کی درآمد کے لیے بھی تین سال کی ایج لمٹ عائد کی جائے اور تین سال سے زائد پرانی وینز کی درآمد پر بھی پابندی عائد کی جائے۔ سری لنکا اور دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی جاپانی گاڑیوں کی درآمد کے لیے جاپان کے آٹو اپریزل انسٹیٹیوٹ (جے اے آئی آئی) کے پری شپمنٹ سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ درآمد کی جانے والی گاڑیوں کی پاکستان میں درآمد سے قبل معیار اور سیفٹی کے اصولوں پر پورا اترنے کی تصدیق کی جاسکے۔

مقبول خبریں