جمہوریت فیصلہ کن دوراہے پر

قوموں پر کڑے وقت آتے ہیں اور ان سے عہدہ برآ ہو کر ہی وہ کندن بنتی ہیں۔


Editorial March 21, 2015
ملک اپنی سیاسی تاریخ کے انتہائی نازک اور بحرانی دور سے گزر رہا ہے۔ فوٹو:فائل

جمعرات کو وزیراعظم نوازشریف سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملاقات کی جس میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب اور کراچی میں امن کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کے موقع پر وزیر خزانہ اسحٰق ڈار بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران ملک میں امن و امان کی صورتحال ، آپریشن ضرب عضب میں پیشرفت اور شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کی واپسی سمیت دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن اور اس کے اثرات پر بھی تفصیلی غورکیا گیا۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک اپنی سیاسی تاریخ کے انتہائی نازک اور بحرانی دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف ملک کو دہشتگردوں، فرقہ وارانہ و مسلکی گروہوں ،کالعدم تنظیموں اور دوسری جانب داخلی بدامنی ، اسٹریٹ کرائم اور سیاسی کشیدگی کے کثیر جہتی چیلنجز درپیش ہیں ۔

حکومت اور عسکری قیادت کے پیش نظر ایم کیو ایم کا رد عمل ، صولت مرزا کے مستقبل ، تہلکہ خیز ویڈیو بیان کے مضمرات ، اس کے خلاف تحقیقات ، بیان پر قانونی حلقوں میں چھڑنے والی بحث، اس کے وعدہ معاف گواہ بنائے جانے کی قیاس آرائیاں ایک گھمبیرتا ہے جس سے نمٹنے کے لیے حکمراں ہوش و حواس اور حسن تدبر سے کام لیں۔ آگ لگانے والے بہت ہونگے مگر روح عصر کہتی ہے کہ سیاسی مسائل کا حل سیاست اور جرائم سے متعلق فورم ملکی عدالتیں ہیں۔

سب سے اہم محاذ دہشت گردی اور جرائم پیشہ مافیائیں ہیں جس کے مختلف مظاہر نے وطن عزیز کے ناگزیر سماجی امن ، صنعتی و اقتصادی ترقی اور قومی خوشحالی کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونے کے امکانات کو دھندلا دیا ہے، بادی النظر میں یوں نظر آتا ہے کہ ملک ایک عفریتی اور دلدلی صورتحال میں گرفتار ہے۔

لہٰذا حکمرانوں سے اس بات کی بجا طور پر توقع رکھی جا رہی ہے کہ وہ دور اندیشی ،دانشمندی، اور معروضی حقائق کا گہرا ادراک کرتے ہوئے قوم کو حالات کی تاریک سرنگ سے نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گے ، کیونکہ جمہوریت کا کام یہی ہے کہ اس کے کثیرالمقاصد فورمز پر داخلی کشمکش، کشیدگی ، سیاسی اختلاف رائے ، تنازعات اور انتقامی سیاسی روش سے اجتناب کے کئی راستے دستیاب ہیں، ان پر چل کر سیاسی مسائل کو طاقت کے بجائے افہام و تفہیم سے حل کیا جانا چاہیے۔

مگر بنیادی چند حقیقتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، اول یہ کہ پاکستان کو ابتدائی ادوار سے امتحانی اور آزمائشی صورتحال کا سامنا رہا ہے ، کئی حکوتیں آئیں مگر اداروں کے استحکام، قانون کی حکمرانی ،جمہوری رویوں کی بالیدگی ، رواداری ، قومی سوچ اور اہم ملکی و عالمی امور پر اسٹبلشمنٹ اور جمہوری قوتوں کے مابین اتفاق رائے اور خیر سگالی کا مسلمہ پارلیمانی نظام اقدار جڑ نہیں پکڑ سکا ۔ اور سیاست میں رفتہ رفتہ انتہا پسند ، پریشر گروپس ، کرمنل عناصر اور مفاد پرست طبقے نے اسٹیٹس کو کو قوم و ملک کی تقدیر بنا دیا۔

اس امر کو جھٹلانے کے بجائے سیاسی جماعتیں اس حقیقت کا اعتراف کریں کہ جو کچھ ملک میں آج ہورہا ہے یہ حادثہ ایک دم نہیں ہوا ۔ اس کی وقت نے برسوں پرورش کی ہے اور حکمرانوں نے جمہوریت و آمریت کے زمانے جمود ، فرسودگی، اور عوام سے بے وفائی میں گزار دیے۔ یہ مکافات عمل ہے جس میں قوم اہل اقتدار کو پکار رہی ہے کہ وہ کراچی سمیت ملک میں امن لائیں ۔ میڈیا ذمے دار ہے اور عدلیہ آزاد ہے، ملک کو کوئی آنچ نہیں آنی چاہیے ، سیاست جرائم سے پاک ہوکر ہی قومی امنگوں کی صحیح ترجمانی کرسکتی ہے جب کہ کرمنل عناصر خود سیاسی جماعتوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔

مصلحتوں کا دور لد گیا، اب ملک ایک بے یقینی سے نکل کر دوسری بے سمتی کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لیے حکمراں سیاسی تنازعات ، مسائل ، اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کی سمت کو بلا امتیاز درست رکھتے ہوئے قیام امن کا قوم کو تحفہ دیں۔ہر ذی شعور پاکستانی جانتا ہے کہ ملک جمہوریت اور قومی سلامتی کے ایک فیصلہ کن دوراہے پر آیا ہے۔

جہاں لمحہ موجود کی سیاسی صورتحال ''میک آر بریک'' جیسی ہے ، تاہم امید فردا سے معمور فضا ایک واضح پیغام دے رہی کہ تمام سیاسی مسائل اور تنازعات کا حل اسی جمہوریت میں ہے، ملکی عدلیہ اور میڈیا نے جو شعور بیدار کیا ہے اور سیاسی پنگ پانگ کے کھیل کی بساط جس طرح ادھر ادھر کی ہے یہ اسی جمود شکن میڈیائی دباؤ کا شاخسانہ ہے کہ ملک میں ایک ابھار کی سی صورت ہے ۔

اسے انقلاب نہ کہتے ہوئے ایک غیر معمولی تبدیلی کا نام دیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت مؤثر پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے لیکن حالیہ برسوں میں پیدا ہونے والی خرابیاں جادوئی چھڑی سے دور نہیں کی جا سکتیں، ہمیں خود کو مضبوط بنانا ہے، کراچی میں آپریشن کے آغاز سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا اور سب کے اتفاق رائے سے آپریشن شروع کیا گیا، بدامنی میں ملوث عناصر کے خلاف یہ آپریشن ہم سب کے مفاد میں ہے تاکہ ملک کے تجارتی مرکز کو پرامن اور مستحکم رکھا جا سکے، استحکام لازم ہے مگر قانون کا نفاذ بھی ناگزیر ہے۔

بم دھماکے روکے جائیں، کراچی میں بم دھماکا انتباہ ہے، صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا صائب ہے گورنر سندھ کی تبدیلی اور دیگر معاملات پر فوری ہوائی گھوڑے نہ دوڑائے جائیں ، واضح رہے کہ میڈیا میں وزارت داخلہ سے منسوب غیر مصدقہ بیانات کی تشہیر پر وزیر داخلہ نے برہمی کا اظہار کیا ہے ، عزیر بلوچ کی حوالگی میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہونے کی اطلاع ہے۔ جمعیت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے مطابق ایم کیو ایم کا جرائم پیشہ مافیا سے اظہار لاتعلقی خوش آیند ہے۔

ان کا یہ بیان قابل غور ہے کہ ایم کیوایم ایک کالعدم تنظیم نہیں، وہ ایک سیاسی حقیقت کے طور پر اپنا وجود برقرار رکھے گی۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اچھے اور برے دہشتگرد کا فرق دراصل دہشتگردی کو دوام بخشتا رہا ہے اور ملک مزید ایسی غیر منطقی سوچ کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ ایک دانشور کا کہنا ہے کہ انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے لیے انصاف کی کوئی حد نہیں ہونی چاہیے۔

آج قوم کی خوش نصیبی ہے کہ قومی امور اور دہشت گردی سے نمٹنے میں سیاسی و عسکری قیادت ایک سوچ کے دھارے میں ہیں، جمہوری عمل کو جاری رکھنا ہے تو انصاف کا توازن حسن عدل کی مثال بنے ،کسی سیاسی جماعت حتیٰ کہ کوئی ملزم مجرم بنتے تک بے انصافی کی شکایت زبان پر نہ لائے، جب کہ معتوب سیاسی جماعتوں کو بھی انصاف کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے کی روایت ترک نہیں کرنی چاہیے۔

اسی میں سب کا مفاد ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر معاملے میں ہوش مندی اور زیرکی کا مظاہرہ کیا جائے ۔حالات جس نہج پر ہیں' یہاں کسی بڑی غلطی کی گنجائش نہیں ہے' قوموں پر کڑے وقت آتے ہیں اور ان سے عہدہ برآ ہو کر ہی وہ کندن بنتی ہیں۔