امپائرنگ تنازع سے آئی سی سی میں ہی پھوٹ پڑ گئی

آئی سی سی کے صدر مصطفی کمال نے بنگلہ دیش کیخلاف غلط فیصلے پر احتجاجاً مستعفی ہونے کا عندیہ دے دیا


Sports Desk March 21, 2015
آئی سی سی کے صدر مصطفی کمال نے بنگلہ دیش کیخلاف غلط فیصلے پر احتجاجاً مستعفی ہونے کا عندیہ دے دیا۔ فوٹو: فائل

لاہور: امپائرنگ تنازع سے آئی سی سی میں ہی پھوٹ پڑ گئی، صدر مصطفیٰ کمال نے بنگلہ دیشی ٹیم کیخلاف غلط فیصلے پر احتجاجاً مستعفی ہونے کا عندیہ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کومیلبورن میں منعقدہ کوارٹر فائنل میں امپائرز علیم ڈار اور ای ین گولڈ نے روبیل کی گیند کو اونچا سمجھ کر نوبال قرار دیدیا، اس پر بھارتی بیٹسمین روہت کیچ ہوگئے تھے۔ انھوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے انفرادی اسکور کو 90 سے 137 تک پہنچا دیا۔ آئی سی سی کے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے صدر مصطفیٰ کمال نے میچ کے بعد امپائرزپر سخت تنقید کی، انھوں نے کہا کہ کوارٹر فائنل میں امپائرنگ کا معیار بہت پست رہا، ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کوئی خاص بات ذہن میں رکھ کر میدان میں گئے تھے۔

آئی سی سی یہ دیکھے گی کہ ایسا جان بوجھ کر تو نہیں کیاگیا، کہیں بھارت کو ہر حال میں جتوانے کا مقصد تو نہیں تھا، انھوں نے بنگلہ دیشی ٹیم کیخلاف غلط فیصلے پر احتجاجاً مستعفی ہونے کا عندیہ دیدیا۔ مصطفی کمال نے آئی سی سی کو '' انڈین کرکٹ کونسل'' قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں اس کی صدارت نہیں کر سکتا۔

اس صورتحال پر کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن نے ایک بیان میں کہا کہ مصطفیٰ کمال نے اپنی ذاتی حیثیت میں جو بیان دیا وہ افسوسناک ہے۔ انھیں تنقید کرتے ہوئے اس بات کوذہن میں رکھنا چاہیے تھا کہ میچ آفیشلز کی ساکھ پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ ڈیو رچرڈسن نے کہاکہ مذکورہ 'نوبال' کا فیصلہ ففٹی ففٹی تھا، کھیل کی روح یہ کہتی ہے کہ امپائر کا فیصلہ حتمی اوراس کا احترام کرنا چاہیے، انھوں نے اس تاثر کو بھی سختی سے مستردکرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیاکہ امپائرزکے ذہن میں کھیل کے سواکچھ اوربات موجود تھی۔

واضح رہے کہ مصطفٰی کمال کی مدت صدارت جون میں ختم ہو رہی ہے اور ان کی جگہ پاکستان کے نجم سیٹھی یہ علامتی عہدہ سنبھالیں گے۔