جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اتفاق

یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ اگر یہی بات پہلے مان لی جاتی تو مہینوں جاری رہنے والے دھرنوں کی کوئی ضرورت نہ رہتی۔


Editorial March 21, 2015
امید ہے کہ تحریک انصاف جمہوری عمل میں شریک ہو گی اور عوام کی فلاح وبہبود کے لیے قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور سینیٹ میں اپنا آئینی و جمہوری کردار ادا کرے گی۔ فوٹو : آن لائن

خوشی اور اطمینان کی بات ہے کہ وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی عدالتی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اتفاق ہو گیا ہے۔

اب ایک اچھی پیشرفت کے موقع پر فارسی کے اس محاورے کا ذکر نہیں کیا جانا چاہیے جس کا مفہوم کچھ اس طرح کا ہے نادان بھی بالآخر وہی راستہ اختیار کرتا ہے جو عقلمند آدمی کرتا ہے لیکن خاصی خجل خرابی کے بعد۔ لیکن چونکہ اس فارسی محاورے کی زد تمام فریقین پر پڑتی ہے لہذا کسی ایک کے لیے پریشانی کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ اگر یہی بات پہلے مان لی جاتی تو مہینوں جاری رہنے والے دھرنوں کی کوئی ضرورت نہ رہتی۔

بہرحال گزشتہ را صلوٰۃ کے مصداق آیندہ اگر جمہوریت کی گاڑی ہموار راستے پر استوار ہو جاتی ہے تو اسے فائدے کا سودا ہی سمجھنا چاہیے۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان گزشتہ روز ملاقات کے بعد باقی ماندہ 4 نکات پر اتفاق ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین نے پنجاب ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کمیشن پر اتفاق کا اعلان کیا۔

اس موقع پر دیگر وفاقی وزیر اور وزیر اعظم کے مشیر برائے قانونی امور کے مقابل تحریک انصاف کے بعض دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے تمام نکات پر اتفاق ہو گیا ہے، اس معاملے میں تحریک انصاف نے بہت لچک دکھائی، سیاسی جرگے نے بھی بہت کوششیں کیں جب کہ سیاسی جماعتوں سے بھی اس میں مشاورت کی گئی۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف ملک کی معیشت کو بہتر بنانے میں ہمارے ساتھ تعاون کرے۔ انھوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی منظوری کے بعد اس معاہدے پر تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان دستخط ہوں گے، پھر جوڈیشل کمیشن کے قیام کے سلسلے میں آرڈینیس لایا جائے گا نیز کمیشن کے قیام کے بعد اس کے نتائج دونوں پارٹیوں کو قبول ہوں گے۔ معاہدے کے مطابق صدر مملکت جوڈیشل کمیشن کے قیام کا آرڈیننس جاری کریں گے، جوڈیشل کمیشن جے آئی ٹی اور ایس آئی ٹی سے بھی مدد لے سکے گا۔

اس سارے معاملے میں وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا کریڈٹ اس اعتبار سے زیادہ ہے کہ اس وقت وہ برتر پوزیشن میں ہے کیونکہ دھرنے اور احتجاج ختم ہو چکا ہے اور مستقبل قریب میں بھی کسی بڑے احتجاج کے آثار نظر نہیں آئے۔ ایسی اپوزیشن ہونے کے باوجود جوڈیشل کمیشن کے قیام پر آنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سیاسی محاذآرائی کا خاتمہ چاہتے ہیں تاکہ جمہوری سفر آئین وقانون اور جمہوری روایات کے مطابق آگے بڑھتا رہے۔

انھوں نے عام انتخابات کے بعد ہی خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کو حکومت بنانے دی اور کسی قسم کا جوڑتوڑ نہیں کیا۔ اب امید ہے کہ تحریک انصاف جمہوری عمل میں شریک ہو گی اور عوام کی فلاح وبہبود کے لیے قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور سینیٹ میں اپنا آئینی و جمہوری کردار ادا کرے گی۔