سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن بد ترین زبوںحالی کا شکار

ایک لاکھ طلبا کی تعلیم متاثر، تنخواہیں نہ ملنے سے اساتذہ اورسہولتیں نہ ہونے سے طالبعلم بھی اسکول چھوڑ رہے ہیں


Safdar Rizvi March 27, 2015
رواں مالی سال میں بھی ادارے کے ماتحت اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ 3ماہ کی تنخواہوں سے محروم ہیں۔ فوٹو: فائل

حکومت سندھ کی عدم توجہی کے سبب صوبے میں خواندگی کی شرح میں اضافے اورغریب طلبا کومفت تعلیم دینے کے لیے کام کرنے والاادارہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن زبوحالی کاشکارہے۔

ادارے کے تحت غریب طلبا کی تعلیم کے لیے چلنے والے 2اہم منصوبے ''انٹی گریٹڈایجوکیشن لرننگ پروگرام(آئی ای ایل پی) اوررولربیس کمیونٹی اسکول (آربی سی ایس)''حکومت سندھ کی جانب سے بجٹ کی عدم فراہمی کے سبب بند ہونے کے قریب ہیں،بجٹ جاری نہ ہونے کے سبب ان اسکولوں کی عمارتوں کاڈھانچہ تباہ ہورہا ہے ۔

اساتذہ کوتنخواہوں کی ادائیگی روک دی گئی ہے تنخواہیں نہ ملنے کے سبب اساتذہ جبکہ سہولتیں نہ ملنے پر زیرتعلیم طلبا نے اسکول چھوڑناشروع کردیاہے، منصوبے کو فنڈجاری نہ ہونے کے سبب سندھ کے ایک لاکھ طلبا کی تعلیم متاثرہورہی ہے ادارہ اسکولوں میں تدریسی خدمات انجام دینے والے اساتذہ کوگزشتہ مالی سال میں6ماہ کی تنخواہیں ادانہیں کرسکاجس کی ادائیگی بھی اب ناممکن ہوگئی ہے۔

رواں مالی سال میں بھی اس ادارے کے ماتحت اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ 3ماہ کی تنخواہوں سے محروم ہیں، حکومت سندھ کی جانب سے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کورواں سال کی سہ ماہی گزرنے کے باوجوداب تک مجموعی بجٹ کامحض 26 فیصد 573 ملین روپے جاری کیے جاسکے ہیں جبکہ باقی 74فیصد بجٹ کی ادائیگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے بجٹ میں 2.2ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، واضح رہے کہ 8ماہ کے بعد صوبائی حکومت نے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں سابق سیکریٹری تعلیم ناہید درانی کومنیجنگ ڈائریکٹرمقررکیاہے تاہم ان کی تقرری ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ادارہ مالی مشکلات سے دوچارہے اوراس کے تحت چلنے والے منصوبے بند ہونے کے قریب ہیں، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کوصوبائی حکومت کے علاوہ عالمی بینک کی جانب سے فنڈزکابڑاحصہ دیاجاتاہے۔

جس کے تحت سندھ میں ''پروموٹنگ پرائیویٹ اسکولنگ ان رولرایریا سندھ (پی پی آرایس)،رولربیس کمیونٹی اسکول(آربی سی ایس)،ارلی لرننگ پروگرام (ای ایل پی) اورچائلڈلیبرایجوکیشن پروگرام (سی ایل ای پی)سمیت دیگرپروگرام جاری ہیں یہ پروگرام ادارے کے تحت چلنے والے 2418اسکولوں میں جاری ہیں جس میں 490گود لیے گئے اسکول بھی ہیں جبکہ صرف کراچی میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 300اسکول چل رہے ہیں جن میں سے 200 گود لیے گئے۔

ان اسکولوں میں طلبا کے داخلے ڈھائی لاکھ کے قریب پہنچ چکے ہیں ،ان اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد 5ہزارسے زائد ہے جن کی تنخواہیں 3ہزارسے 12ہزارروپے ماہانہ تک ہیں جبکہ اسکولوں کے طلبا کوماہانہ وظیفے کے طورپر450سے لے کر 600 روپے ماہانہ تک اداکیے جاتے ہیں۔

دریں اثنا ''ایکسپریس''کے رابطہ کرنے پر سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر عزیزکابانی نے صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ ادارے میں نئی منیجنگ ڈائریکٹرکی تقرری سے ان منصوبوں کے جاری رہنے اورفنڈزکی فراہمی کی امید پیداہوگئی ہے۔

مقبول خبریں