جنرل راحیل شریف کا دانشمندانہ خطاب

دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے مشکل ترین حالات میں بھی اچھے نتائج دیے ہیں۔


Editorial March 30, 2015
یہ امر خوش آیند ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم متحد ہے جب کہ سیاسی قیادت اور عسکری قیادت بھی اس حوالے سے ایک صفحے پر ہیں۔ فوٹو : فائل

سی ایم ایچ لاہور میڈیکل کالج کے تیسرے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ملک بھر میں جہاں بھی جانا پڑا جائیں گے، تا کہ آیندہ نسلوں کو تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے مگر اس کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا ہونگی۔ آرمی چیف کا یہ خطاب اس اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ بعض لوگ صورت حالات کی سنگینی سے کما حقہ، آگاہی نہیں رکھتے اور دھشت گردوں کے خلاف آپریشن کی اہمیت سے نا بلد ہیں۔

یہ درست ہے کہ پاک فوج نے قومی سرحدوں کے نگہبان کے طور پر اپنا کردار نبھانے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ قدرتی آفات کے دوران ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ آرمی میڈیکل کور کی خدمات کو سراہتے ہوئے جنرل راحیل نے کہا کہ دہشتگردی اور انتہاپسندی کی لعنت کے خلاف فوجی آپریشنز میں آرمی میڈیکل کور کا کردار انتہائی متاثر کن ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت ایک مضبوط قوم کے لیے ضروری ہے اور عام آدمی کو پیشہ وارانہ طبی سہولیات کی فراہمی سب کی ترجیح ہونی چاہیے۔

آرمی چیف کی اس بات سے مترشح ہوتا ہے کہ عوام الناس کے لیے صحت کی سہولیات فراہم کرنا ارباب اختیار کی ترجیحی ذمے داری ہونی چاہیے اور یہ سہولتیں دور دراز کے دیہات تک پہنچائی جانی چاہیئں نہ کہ اربوں کھربوں کے خرچے سے امریکی معیار کی سڑکیں اور فلائی اور بنائے جائیں کہ مریض انھی چکنی سڑکوں پر چڑھ کر شہر کے اسپتالوں میں دھکے کھانے کے لیے پہنچ سکیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ضروری ہے کہ وطن عزیز میں صدیوں سے رائج دیسی طریق علاج کو بھی منضبط کیا جانا چاہیے جو عوام کے لیے سہل الحصول ہوتا ہے۔

مزید براں آرمی چیف کی طرف سے ملک بھر میں آپریشن کے ذکر سے اس غلط فہمی کا بھی ازالہ ہو گیا کہ ہدف کوئی مخصوص علاقہ نہیں۔ بلاشبہ پاکستان میں امن و خوشحالی اس وقت آسکتی ہے' جب یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا جائے۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے مشکل ترین حالات میں بھی اچھے نتائج دیے ہیں' پاک فوج کے سربراہ نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ ہم دہشتگردی کی لعنت کا بھرپور قوت سے مقابلہ کر رہے ہیں اور اس کے مکمل خاتمے کے لیے ملک میں جہاں بھی جانا پڑا جائیں گے اور اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے دہشت گردوں کا ملک کے ہر حصے میں تعاقب کریں گے۔

یہ امر خوش آیند ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم متحد ہے جب کہ سیاسی قیادت اور عسکری قیادت بھی اس حوالے سے ایک صفحے پر ہیں، پاکستان میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے' یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف پورے ملک میں بھرپور کارروائیاں جاری ہیں اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان سے دہشت گردی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔