دو غیرملکی مغویہ خواتین کی رہائی

آئی ایچ ایچ نے اغوا کاروں کے ساتھ مسلسل دو ماہ تک طویل مذاکرات کے بعد ان کی رہائی میں کامیابی حاصل کی۔


Editorial March 30, 2015
مغویہ خواتین نے رہائی کے بعد کہا کہ وہ دو سال بعد سورج کی روشنی دیکھ کر بے حد خوش ہوئی ہیں۔

دو سال قبل چیکو سلواکیہ کی جن دو خواتین کو بلوچستان سے گزرتے ہوئے نا معلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا انھیں ترکی کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم (آئی ایچ ایچ) نے مذاکرات کے ذریعے آزاد کرا لیا ہے اور اب وہ اپنے آبائی وطن چیکو سلواکیہ واپس پہنچا دی گئی ہیں۔ آئی ایچ ایچ نے اغوا کاروں کے ساتھ مسلسل دو ماہ تک طویل مذاکرات کے بعد ان کی رہائی میں کامیابی حاصل کی۔ یہ بھی شنید ہے کہ اس کے لیے بھاری تاوان بھی ادا کیا گیا ہے۔ دونوں خواتین کو 13 مارچ 2013ء کو نوکنڈی کے مقام سے اغوا کیا گیا جب وہ ایک بس کے ذریعے ایران سے پاکستان آئی تھیں اور تافتان سے کوئٹہ جا رہی تھیں۔

یہ کہا جاتا رہا ہے کہ انھیں اغوا کرنے والوں کی تعداد آٹھ تھی۔ ان کو اغوا کرنے والے گروپ کا تعلق القاعدہ سے بیان کیا گیا تھا۔ ان خواتین کے بلوچستان میں سفر کے لیے پولیس کی ایک گارڈ بھی فراہم کی گئی تھی مگر انھیں بھی ساتھ ہی اغوا کر لیاگیا تھا جنھیں بعدازاں چھوڑ دیا گیا۔ مغویہ خواتین نے رہائی کے بعد کہا کہ وہ دو سال بعد سورج کی روشنی دیکھ کر بے حد خوش ہوئی ہیں۔ دو سال تک وہ گھر والوں کے لیے تڑپتی رہیں۔ ان خواتین کی رہائی اچھی بات ہے لیکن ہماری سیکیورٹی ایجنسیوں کو ایسے اغوا کار گروپوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تا کہ وطن عزیز کو عالمی سطح پر بدنام کرنے والوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔