این ٹی ایس کے تحت اسکول اساتذہ کی بھرتیاں کئی امیدوار تقرری سے محروم

متاثرین میں11اضلاع کے ایک درجن سے زائد امیدوارشامل ہیں،انکشاف محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری سماعت کے دوران ہوا


Safdar Rizvi April 02, 2015
متنازع پالیسی میں خواتین کوحاصل کردہ نمبروں کے علاوہ 20اضافی مارکس دے دیے گئے ہیں۔ فوٹو: فائل

سندھ کے سرکاری اسکولوں میں این ٹی ایس کے تحت کی گئی بھرتیوں میں صوبے کے 11مختلف اضلاع میں ایک درجن سے زائد ایسے امیدواروں کاانکشاف ہواہے کہ جوبھرتیاں کرنے والے محکمہ تعلیم کے ذیلی ادارے ریفارم سپورٹ یونٹ کی جانب سے بنائے گئے میرٹ پرپورااترنے کے باوجود تقرری سے محروم رہ گئے۔

یہ انکشاف ان امیدواروں کی درخواست پر کی جانیوالے سماعت اوران کی دستاویزات اورنتائج کی اسکروٹنی کے موقع پرہواہے تاہم کراچی سمیت سندھ کے 11اضلاع کے ڈائریکٹراسکولز کی جانب سے مسلسل عدم تعاون کے سبب محکمہ تعلیم ان امیدواروں کے کیسز کی مزیداسکروٹنی اورانھیں تقرردینے میں ناکام ہوگیاہے ۔

کراچی سمیت سندھ کے 11اضلاع کے ڈائریکٹراسکولز نے آرایس یوکوامیدواروں کی حوالے سے لکھے گئے کسی خط کاجواب ہی نہیں دیاہے جس کے سبب میرٹ پوراکرنے والے ان امیدواروں کوتقرریاں دیے جانے میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے ان اضلاع میں کراچی، نوشہرو فیروز، کشمور، میرپور خاص، بدین، لاڑکانہ،خیرپور،جیکب آباد،سانگھڑ، مٹیاری اورشکارپورکے ڈائریکٹرایجوکیشن شامل ہیں، ''ایکسپریس''کے رابطہ کرنے پر ریفارم سپورٹ یونٹ کی پروگرام منیجرصبا محمود کاکہناہے کہ آرایس یوکی جانب سے 11اضلاع کے ڈائریکٹراسکولز کو19خطوط دیے جاچکے ہیں۔

اب تک کسی ڈائریکٹراسکولز کی جانب سے امیدواروں کو معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے جس کے سبب ان امیدواروں کے حوالے سے محکمہ تعلیم کوحتمی فیصلہ نہیں کرسکاہے ان کاکہناتھا کہ دوران سماعت متعلقہ امیدواروںکے کیسز کاجائزہ لینے سے یہ تاثرملاہے کہ یہ امیدوارمیرٹ کوپوراکرتے ہیں ۔

تاہم آرایس یوحتمی معلومات کے لیے متعلقہ اضلاع سے رابطہ کرتاہے توان کے ڈائریکٹرکی جانب سے جواب ہی موصول نہیں ہوتاواضح رہے کہ یہ وہ امیدوارہیں جن کے بارے میں گمان کیاجارہاہے کہ یہ میرٹ پوراکرتے ہیں جبکہ آرایس یوکی جانب سے بھرتیوں کے حوالے سے بنائی گئی متنازع اورغیرمنطقی پالیسی کے سبب ہزاروں امیدوارایسے ہیں جوٹیسٹ میں غیرمعمولی مارکس لینے کے باوجود بھرتیوں سے محروم ہیں۔

متنازع پالیسی میں خواتین کوحاصل کردہ نمبروں کے علاوہ 20اضافی مارکس دے دیے گئے ہیں جبکہ بھرتیاں اضلاع کے بجائے یونین کونسل کی سطح پر کیے جانے کے سبب بھی بڑی تعدادمیں امیدوارغیرمنطقی پالیسی کاشکارہوگئے ہیں کسی ایک یونین کونسل کے 80مارکس لینے والے امیدوارکواس لیے بھرتی نہیں کیاگیاکہ اس کی یوسی میں اسامی موجودنہیں جبکہ اس کے پڑوس میں موجود یونین کونسل میں 60مارکس لینے والاامیدواراسامی دستیاب ہونے کے سبب تقرری لینے میں کامیاب ہوگیا۔

مقبول خبریں