آرمی چیف کا دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلیے عزم

فوج کی لازوال قربانیوں کی بدولت آج شمالی وزیرستان میں امن قائم ہونے سے آئی ڈی پیز کی واپسی کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔


Editorial April 03, 2015
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو بھی آگے آنا ہو گا کیونکہ یہ قومی مسئلہ ہے۔ فوٹو : فائل

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے بدھ کو جہلم کے قریب فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ملک سے دہشتگردی کی لعنت کو جڑوں سے اکھاڑنے کے لیے مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم کسی بھی قیمت پر اپنا مشن مکمل کیے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ انھوں نے جوانوں سے کہا کہ سخت تربیت اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں کیونکہ زمانہ امن میں سخت تربیت اور پیشہ ورانہ تیاریوں کا اعلیٰ معیار ہی امن کی ضمانت ہے۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف متعدد بار اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ فوج ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ فوج نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 15جون 2014 کو ضرب عضب کے نام سے جو آپریشن شروع کیا اب وہ بڑی تیزی سے اپنی منطقی انجام کی جانب بڑھ رہا ہے۔

فوج کی لازوال قربانیوں کی بدولت آج شمالی وزیرستان میں امن قائم ہونے سے آئی ڈی پیز کی واپسی کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ اسی طرح خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبرٹو کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے وادی تیراہ کے اہم پہاڑی علاقوں سندانہ اور نری بابا کا کنٹرول سنبھال کر وہاں پر قومی پرچم لہرا دیا ہے۔

فوج کے آپریشن کے باعث دہشت گردی کا شکار ان علاقوں میں اب امن قائم ہو رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب پوری قوم یہ خوشخبری سنے گی کہ ان علاقوں سے دہشت گردوں کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صفایا کر دیا گیا ہے اور یہ علاقے ایک بار پھر جائے امن بن گئے ہیں۔ ملک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے اور اسے دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے پوری قوم حکومت اور فوج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔

ایک وہ وقت تھا جب دہشت گردی کا عفریت بڑی تیزی سے پورے ملک میں پھیل رہا تھا اور ملکی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے اور یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ ملک سے دہشت گردی کا کبھی خاتمہ نہیں ہو گا اور دہشت گرد ملکی معاملات میں اہم حیثیت اختیار کر جائیں گے بعض حلقے تو یہاں تک خدشات کا اظہار کرنے لگے تھے کہ اگر دہشت گردوں کو روکا نہ گیا تو وہ عنقریب موجودہ نظام الٹ کر حکومتی باگ ڈور بھی سنبھالسکتے ہیں۔

اس قسم کے خدشات نے ملکی معاشی نظام اور اس کی ترقی کو شدید نقصان پہنچایا۔ غیر ملکی سرمایہ دار ادھر کا رخ کرنے سے ہچکچانے لگا اور ملکی سرمایہ کار کسی محفوظ مقام کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ نتیجتاً ملک میں معاشی سرگرمیاں مانند پڑنے سے بیروز گاری بڑھنے لگی اور ملک ایتھوپیا بنتا ہوا دکھائی دینے لگا۔ کچھ حلقے اس بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لیے اس کا حل انتہا پسندوں سے مذاکرات بتانے لگے۔

انھوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اگر انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا بلکہ فورسز کو شدید نقصان اٹھانا پڑے گا اور انتہا پسند پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو جائیں گے بالآخر حکومت کو مذاکرات ہی کا راستہ اپنانا پڑے گا تو کیوں نہ نقصان اٹھانے سے قبل ہی مذاکرات کی راہ اپنا لی جائے۔

دوسری جانب بعض حلقے مذاکرات کی مخالفت میں سرگرم ہو گئے ان کا موقف تھا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کا مطلب حکومتی شکست ہے اور اگر ایسا کیا گیا تو ملک میں امن کبھی قائم نہ ہو سکے گا اور حکومت ان کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہے گی۔ آج وقت نے ثابت کیا کہ ملک میں امن و امان قائم کرنے کا بہترین راستہ آپریشن ہی تھا جب آپریشن شروع کیا گیا تو دہشت گردوں نے گھبرا کر اپنی کارروائیاں تیز کر دیں۔

جس کا مقصد سیکیورٹی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عزم کمزور کرنا تھا مگر یقین محکم اور عزم صمیم کی دولت سے مالا مال ہماری بہادر افواج نے امن کے دشمنوں کو ناکوں چنے چبوا دیے اور آج وہ اپنی جان بچانے کے لیے چھپتے پھر رہے ہیں۔ آج دہشت گرد چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں چھپے بیٹھے ہیں عسکری قیادت اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ وہ انھیں تلاش کر کے نشانہ بنائے اور ملک میں ہر صورت امن و امان قائم کرے گی۔

ان چھپے ہوئے بے چہرہ دشمنوں کو اپنے انجام تک پہنچانے کے لیے حکومت اور سول اداروں کو بھی متحرک ہونا ہو گا فوج تو اپنے فرائض بخوبی ادا کر رہی ہے مگر اندرون ملک امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے جامع اور بہتر منصوبہ بندی کرنا حکومت کا کام ہے۔ اب دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور ان کی وہ پہلے سی قوت اور محفوظ علاقے موجود نہیں رہے اس لیے سول ادارے جس قدر زیادہ متحرک اور مربوط ہوں گے دہشت گردی سے اتنی جلدی ہی نجات ملے گی۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو بھی آگے آنا ہو گا کیونکہ یہ قومی مسئلہ ہے اور جب تک پوری قوم اس میں شریک نہ ہو اس پر قابو پانے میں دشواریاں اپنی جگہ موجود رہیں گی۔