حیدرآباد پی پی رہنمائوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

ریلی کے دوران وکلا اور عدلیہ کیخلاف نعرے لگائے گئے، وکلا کی عدالت میں درخواست.


Numainda Express October 09, 2012
ریلی کے دوران وکلا اور عدلیہ کیخلاف نعرے لگائے گئے، وکلا کی عدالت میں درخواست. فوٹو: فائل

NEW YORK: سیکنڈ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج علی نواز سولنگی نے احاطہ عدالت سے مسلح ریلی گزارنے، عدلیہ اور وکلاء کے خلاف نعرے لگانے

وکلاء کو ہراساں کرنے کے خلاف پروگریسو لائرز فورم کی درخواست منظور کرتے ہوئے کینٹ پولیس کو درخواست گزار وکلاء کے بیان ریکارڈ کرنے اور معاملہ قابل دست اندازی جُرم ہونے کی صورت میں پیپلز پارٹی کے رہنمائوں زاہد علی بھرگڑی، امان اﷲ سیال، آفتاب خانزادہ، احسان ابڑو سمیت50 سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ایاز تنیو ، زاہد چوہان ، خدا بخش لغاری، عاجز لغاری سمیت 18 وکلاء نے عدالت کو درخواست دی تھی کہ پیر کی دوپہر پیپلز پارٹی اور اس کی تنظیموں نے خیرپور واقعہ کے خلاف نکالی جس کے شرکا کھلے عام اسلحے کی نمائش اور وکلاء کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

لیکن پولیس نے انہیں مکمل سپورٹ فراہم کی۔ دوسری جانب مسلح ریلی کو احاطہ عدالت میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر ایس پی ہیڈ کوارٹر نے سیشن کورٹ کے سیکیورٹی انچارج سب انسپکٹر علی نواز سولنگی سمیت 5 اہلکاروں کو معطل کر کے کوارٹر گارڈ کر دیا ہے اور واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے ۔ دریںاثناء مسلح ریلی کے شرکاء کے عدالت کے احاطے سے گزرنے کے خلاف وکلاء نے سیشن کورٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا۔پروگریسیو لائرز فورم کے رکن زاہد چوہان نے ایکسپریس کو بتایا کہ حیدرآباد سیشن کورٹ میں پیش آنیوالے واقعہ کے خلاف وکلاء منگل کو ہڑتال اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے۔