بلدیاتی انتخابات سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کی تفصیلات سپریم کورٹ میں طلب

دو رکنی بینچ نے 18مئی کو 90دن میں الیکشن کا حکم دیا تھا، ابھی تک تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا، حکم معطل کیا جائے


Staff Reporter October 09, 2012
حکومت کی ترجیح عام انتخابات ہیں، بلدیاتی الیکشن کرانا ممکن نہیں، معاملہ آئندہ منتخب حکومت پر چھوڑا جائے، درخواست میں استدعا فوٹو: فائل

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 3 یوم میں رجسٹرارسندھ ہائیکورٹ سے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانے سے متعلق فیصلے کی۔

تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل بینچ نے کراچی رجسٹری میں حکومت سندھ کی اپیل کی سماعت کی جو حکومت سندھ نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل عبدالفتاح ملک نے عدالت عظمی کو بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے 18مئی2012ء کو 90 دن میں بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کا حکم دیا تھا تاہم اب تک تفصیلی فیصلہ جاری نہیں ہوا۔ فاضل بینچ نے ہدایت کی کہ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ اس حوالے سے 3 دن میں رپورٹ پیش کریں۔ حکومت سندھ کی جانب سے دائر کردہ اپیل میں مؤقف اختیارکیا گیا ہے کہ سندھ میں 2 برس قبل آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی اور صوبے کا انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا۔

حکومت کو سیلاب متاثرین اور انفرا اسٹرکچر کی بحالی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث حتمی ووٹرلسٹوںکی تیاری میں بھی تاخیر ہوئی، ووٹر لسٹوں کی تیاری اور نئی حد بندیاں ابھی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ حتمی ووٹر لسٹوں کے بغیر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2000کی معیاد 24 فروری 2010ء کو ختم ہوگئی اور نئے ایڈمنسٹریٹرز تعینات کیے گئے تاہم پرانے بلدیاتی نظام ( سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979) میں ترمیم کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں حکومت اتحادی جماعتوں سے مشاورت کررہی ہے۔

ترمیم کیلیے اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو مسودہ تیار کرنے کیلیے اپنا کام کررہی ہے،اس ضمن میں دیگر صوبوں میں کام ہو رہا ہے، 18ویں ترمیم کے تحت آرٹیکل 140-A کے اضافے کے بعد حکومت نے مختلف اقدامات کیے ہیں اور لوکل گورنمنٹ کیلیے بھی قانون سازی کی خواہاں ہے، حکومت سندھ کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سال2013ء کی پہلی سہ ماہی میں عام انتخابات کا انعقاد بھی ہونا ہے، عام انتخابات حکومت کی ترجیح ہے، اس مدت میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جاسکتے اس لیے یہ ذمے داری عام انتخابات کے بعد آنے والی نئی حکومت پر چھوڑ دی جائے۔

حکومت اب تک سندھ ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کررہی ہے تاکہ مزید دلائل دیے تیار کیے جا سکیں، حکومت سندھ کی اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور اپیل کا حتمی فیصلہ آنے تک مذکورہ فیصلے کومعطل کیا جائے۔ واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے 18مئی2012ء کو سابقہ ضلع ناظمہ ٹنڈوالہ یار راحیلہ مگسی کی درخواست پر 90دن میں بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کا حکم دیا تھا۔