یمن پر مصالحتی کوششوں کا آغاز

یمن کا تنازع دراصل اس ملک کے اندرونی تضادات کا شاخسانہ ہے اور یہ تضادات اس کے ہمسایہ ممالک سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔


Editorial April 05, 2015
یمن کا بحران کثیرالجہتی ہے اور اسے جلد حل نہ کیا گیا تو خطرہ ہے کہ کہیں عالمی طاقتیں براہ راست اس میں داخل نہ ہو جائیں۔فوٹو : اے ایف پی

یمن میں سعودی عرب کے عسکری آپریشن اور مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال پر ترک قیادت سے بات چیت کرنے کے لیے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریفگزشتہروز ترکی کے دارالحکومت انقرہ پہنچے جہاں انھوں نے اپنے ترک ہم منصب وزیر اعظم داؤد اوغلو کے ساتھ مذاکرات کے بعد ان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ''پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے باہم مل کر کوششیں کریں گے''۔

یمن کے بحران پر مسلمان ملکوں میں خصوصی تشویش پائی جاتی ہے جس کے لیے یہ لازم تھا کہ اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) اس مسئلے کو پر امن طور پر حل کرانے کے لیے سب سے پہلے کوششوں کا آغاز کرتی لیکن نہ صرف او آئی سی بلکہ عرب لیگ کی طرف سے بھی کوئی مصالحتی کردار نمایاں نہیں ہے۔ بہر حال یہ اچھی بات ہے کہ پاکستان نے اس سلسلے میں پیشرفت کی کوشش کی ہے اور برادر اسلامی ملک ترکی کے ساتھ مل کر اس بحران کو حل کرانے میں مثبت کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کا آغاز وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے دورہ انقرہ سے ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے اس ایک روزہ دورے کی اس بنا پر زیادہ اہمیت ہے کہ ایک تو ترکی کے پاکستان کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات ہیں دوسری طرف ترکی کی مغربی ممالک کے ساتھ دیگر تمام مسلمان ملکوں کی نسبت کہیں بہتر رسائی ہے جو بحران پر قابو پانے میں مددگار ہو سکتی ہے۔

انقرہ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ یمن کا بحران امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کر سکتا ہے اور پورے خطے میں شورش برپا ہو سکتی ہے، لہذا صورتحال پر قابو پانے کے لیے تمام ممکنہ مشترکہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو چاہیے کہ ترکی کے علاوہ بھی دیگر اسلامی ممالک سے رابطے کر کے انھیں بھی اس ضمن میں مصالحتی کوششوں کی طرف لائیں تا کہ یہ بحران مزید پھیلاؤ نہ اختیار کر سکے بصورت دیگر اس کے پورے خطے پر نہایت مضر اثرات مرتب ہوں گے۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے یہ بھی بتایا پاکستان سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے نیز اگر سعودی عرب کو ضرورت پڑی تو پاکستان اور ترکی اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور اس کے استحکام اور علاقائی سلامتی کا دفاع کرنے کے لیے تمام ممکنہ مدد دی جائے گی۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں ترک وزیراعظم داؤد اوگلو نے بتایا کہ وہ یمن کی صورتحال پر سعودی عرب کے علاوہ ایران کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستانی ہم منصب سے ان امور پر بات ہوئی ہے کہ دونوں ممالک خطے میں استحکام کے لیے کیا کر سکتے ہیں اور کس طرح کر سکتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا اس پہلو پر بھی بات ہوئی ہے کہ فرقہ وارانہ لڑائی سے ہٹ کر کس طرح مل جل کر رہا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یمن میں مذاکرات کے لیے جو کوششیں ہو رہی ہیں اس کو اوّلیت دینا ضروری ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خطے میں غیر ریاستی عناصر کے مسئلے کا حل ضروری ہے۔ ترک وزیراعظم کی باتوں سے یہ حوصلہ افزا بات سامنے آئی ہے کہ یمن کے بحران پر ایران کے ساتھ بھی رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ یمن کا تنازع دراصل اس ملک کے اندرونی تضادات کا شاخسانہ ہے اور یہ تضادات اس کے ہمسایہ ممالک سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ہمسایہ ملک بھی اپنے اپنے گروپوں کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ یمن میں غیر ریاستی گروپوں میں جہاں حوثی شامل ہیں وہاں القاعدہ کا نیٹ ورک بھی مصروف کار ہے۔

یوں یمن کے سرمایہ دار، قبائلی سردار اور بڑے زمیندار تو اپنے اپنے گروپوں کے اتحادی بن کر محفوظ ہیں جب کہ عام آدمی شدید مسائل اور مصائب سے دوچار ہے۔ یہ صورت حال اس سارے خطے کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ اگر یمن کے صدر عبدالرب منصور ہادی اور علی عبداللہ صالح اپنے مفادات میں ہم آہنگی پیدا کرتے اور حوثیوں کے ساتھ مناسب انداز میں پاور شیئرنگ کی جاتی تو یمن کی یہ حالت نہ ہوتی اور وہاں القاعدہ جیسی تنظیموں کو بھی کھل کھیلنے کا موقع نہ ملتا لیکن المیہ یہ ہے کہ جتنے بھی مسلم ممالک میں بحران پیدا ہوئے، متحارب قوتوں نے اپنے معاملات کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ایک دوسرے کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی۔

عراق کا بحران ہو یا شام کا معاملہ یا لیبیا کا مسئلہ ہر جگہ ایسا ہی ہوا۔ یمن کا بحران کثیرالجہتی ہے اور اسے جلد حل نہ کیا گیا تو خطرہ ہے کہ کہیں عالمی طاقتیں براہ راست اس میں داخل نہ ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوا تو پھر گیم سعودی عرب، ایران، پاکستان اور ترکی کے ہاتھ سے بھی نکل جائے گی لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ یمن کے متحارب فریقین خود اور ان کے اتحادی مسلم ممالک اس معاملے کو جلد از جلد حل کریں۔