ایک اچھی روایت

حکومت نے نیک نیتی سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا ہے۔


Editorial April 08, 2015
حکومت نے نیک نیتی سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا ہے۔ فوٹو:فائل

یمن کا بحران جاری ہے اور وہاں متحارب گروپوں کے درمیان مسلسل جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ ادھر یہ اطلاعات تو آ رہی ہیں کہ سعودی عرب نے پاکستان سے بری بحری اور فضائی مدد مانگی ہے۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یمن کی صورت حال پر کہا ہے کہ یمن کے معاملے پر سعودی عرب نے پاکستان سے مدد مانگی ہے لیکن کوئی بھی فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق پارلیمنٹ ہی کیا جائے گا۔ گزشتہ روز ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بھی موجود تھے۔

انھوں نے کہاکہ ساری صورت حال پر جتنی وضاحت خواجہ آصف نے کر دی ہے اس سے زیادہ مناسب نہیں تھی۔ہم کوئی بات چھپائی نہ چھپانا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب نے جو تعاون مانگا ہے ایوان اس پر رہنمائی کرے۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ سب کے مشورے جمع کر کے پالیسی کی شکل میں ڈھالنے کی نیت ہے۔

حکومت نے نیک نیتی سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں یمن کے معاملے کے حل کے لیے حکومت کی رہنمائی کریں۔ وزیر اعظم کے مختصر وضاحتی بیان کے بعد قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ترکی اور پاکستان کو مل کر کوئی راستہ نکالنا چاہیے۔ خورشید شاہ نے مزید کہا کہ ہم وہی بات کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان کے مفاد میں ہے۔

یمن کے بحران پر اور سعودی عرب کی جانب سے فوجی مدد کی اپیل پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا خوش آیند امر ہے ۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں نے تقاریر کیں اوراپنی تجاویز بھی پیش کیں۔ میڈیا میں جو تقاریر سامنے آئی ہیں ان سے یہی لگتا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی رائے یہ ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کسی نئے بحران کا حصہ نہ ہی بنے تو بہتر ہے ۔یہ بات بھی درست ہے کہ یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ وہاں کے اپنے تضادات کا شاخسانہ ہے۔

یمن کے متحارب گروپ اپنے مفادات میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اور جس کا نتیجہ خانہ جنگی کی شکل میں نکلا۔ اس بحران میں القاعدہ بھی شامل ہو گئی ہے ۔سعودی عرب بھی اس بحران کا حصہ بن چکا ہے کیونکہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی فضائیہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔ ایران کے بارے میں بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی اس بحران کا حصہ ہے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ بحران مشرق وسطیٰ کی علاقائی طاقتوں کا پیدا کردہ بھی لگتا ہے۔

اس بحران کو حل بھی علاقائی طاقتیں ہی کر سکتی ہیں۔ اگر سعودی عرب اور گلف کے دیگر ممالک یمن کے بحران کے حوالے سے ایران کے ساتھ رابطہ کریں تو صورت حال میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔ سعودی عرب پاکستان سے ہر قسم کی فوجی امداد چاہ رہا ہے ۔نیوی کی مدد طلب کرنے کا مطلب تو یہی ہے کہ حوثی باغیوں کے خلاف سمندر سے بھی کارروائی کی جائے یا سمندر کا بلاکڈ کیا جائے تاکہ سمندری راستے سے باغیوں کو کسی قسم کی مدد نہ پہنچ سکے۔

فوج کی مدد طلب کرنے کا مطلب یہی لگتا ہے کہ اگر یمن میں زمینی کارروائی کرنی پڑے تو وہاں فوج کو استعمال کیا جائے۔ یہ صورت حال خاصی پیچیدہ ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا انتہائی قریبی دوست ملک ہے ۔بلاشبہ جب کسی دوست ملک پر مشکل وقت آئے تو اس کی مدد کی جانی چاہیے لیکن مدد کرتے وقت پاکستان کو اپنے مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔

پاکستان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اگر وہ سعودی عرب کی خواہش کے مطابق اس کی مدد کرتا ہے تو اس کو کیا فوائد ہو سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر پاکستان سعودی عرب کی درخواست کو رد کر دیتا ہے اور غیر جانبدار رہتا ہے تو پھر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کیا رخ اختیار کریں گے؟ تیل نکالنے والے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی ؟ان تمام آپشنز پر غور کیا جانا چاہیے ۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس معاملے میں جلد کوئی فیصلہ کیا جائے ۔پارلیمنٹ کے اجلاس میں یمن کے بحران پر جو باتیں ہو رہی ہیں'اس سے کسی کو پتہ نہیں چل رہا کہ پارلیمنٹیرینز کہنا کیا چاہتے ہیں ۔ہر کوئی یہ بھی کہہ رہا ہے کہ سعودی عرب ہمارا گہرا دوست ہے' اس پر کڑا وقت آیا تو اس کا ساتھ دیا جائے گا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا کسی نے ساتھ نہیں دیا۔

یہ بھی کہا گیا کہ کسی نئے بحران میں نہ پھنسا جائے ۔یہ ساری باتیں ٹھیک ہوں گی لیکن اصل معاملہ یہی ہے کہ پارلیمنٹیرینز کو ایک واضح لائن اختیار کر کے حکومت تک اپنا پیغام پہنچانا چاہیے۔ بہر حال پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ حکومت اس حوالے سے جو بھی فیصلہ کرنا چاہتی ہے 'اس میں پارلیمنٹ کو شریک کرنا چاہتی ہے جو کہ ایک اچھی روایت ہے۔