امریکا اور کیوبا میں اعلیٰ سطح کا رابطہ… تاریخی پیشرفت

ایک وقت ایسا بھی آیا جب امریکا اور روس میں ایٹمی جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا جس کو بمشکل تمام ٹالا جا سکا۔


Editorial April 12, 2015
کیوبا کے ساتھ امریکا کے تعلقات کی بحالی سے عالمی تعلقات میں کشیدگی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی. فوٹو : اے ایف پی

امریکا اور سوویت روس میں سرد جنگ کے آغاز کے بعد سے کیوبا کے ساتھ امریکا کی دشمنی انتہا پر پہنچ گئی کیونکہ روس نے لاطینی امریکا کے اس چھوٹے سے ملک میں جو اس کا اتحادی تھا ایٹمی میزائل نصب کر دیے تھے۔

یہ روس کو ہدف بنا کر نصب کیے گئے امریکی میزائلوں کا جواب تھا۔ امریکی سی آئی اے نے صدر کینیڈی کے دور میں کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کا تختہ الٹنے کی بھی متعدد بار کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکی تاہم اس سے دونوں ملکوں کی دشمنی میں مزید اضافہ ہوا اور امریکا نے کیوبا کو طرح طرح کی پابندیوں میں جکڑ دیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب امریکا اور روس میں ایٹمی جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا جس کو بمشکل تمام ٹالا جا سکا۔

اب جب کیوبا کے اولین انقلابی لیڈر فیڈل کاسترو اپنی پیرانہ سالی اور ضعف کے باعث اقتدار اپنے بھائی راول کاسترو کے حوالے کر کے خود دستبردار ہو چکے ہیں لہٰذا امریکا اور کیوبا پرانی دشمنی ترک کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ اس ضمن میں اولین پیشرفت کے طور پر امریکا کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے پانامہ میں کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز سے ملاقات کی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان نصف صدی سے زیادہ عرصے میں اعلیٰ سطح کا پہلا باضابطہ رابطہ ہے۔

ادھر امریکا کے محکمہ خارجہ نے کیوبا کا نام دہشتگردی کی پشت پناہی کرنیوالے ممالک کی فہرست سے نکالنے کی سفارش بھی کر دی ہے۔ اگر اس سفارش پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں کیوبا اور امریکا میں ان دونوں ممالک کے سفارتخانے دوبارہ کھلنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ وزرائے خارجہ کی ملاقات پانامہ میں براعظم شمالی و جنوبی امریکا کے 35 ممالک کی سربراہ کانفرنس کے آغاز سے قبل ہوئی ہے۔

ماضی میں کیوبا اور امریکا کے اعلیٰ حکام 1959ء میں ملے تھے جب فیڈل کاسترو اور امریکا کے نائب صدر رچرڈ نکسن کی ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے دو برس بعد فریقین نے سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے۔ گزشتہ برس امریکا کے موجودہ صدر بارک اوباما نے باہمی تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا باب کھولنے کی بات کی تھی۔ اب معلوم ہوا ہے کہ صدر اوباما اور کیوبا کے لیڈر راول کاسترو کی ٹیلی فون پر گفتگو بھی ہوئی ہے۔ تاہم وہائٹ ہاؤس نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

امریکی صدر کے سینئر مشیر بن روہڈز نے کہا ہے کہ صدر اوباما اور کیوبا کے صدر راول کاسترو آج تاریخی بات کرنے کے لیے تیار ہیں' جو 50ء کی دہائی کے بعد دونوں ممالک کے رہنماؤں کی پہلی ملاقات ہو گی۔ کیوبا کے ساتھ امریکا کے تعلقات کی بحالی سے عالمی تعلقات میں کشیدگی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی اور سابقہ دشمنوں یعنی امریکا اور روس کو بھی ایک دوسرے کے قریب آنے کی راہ ہموار ہو گی۔