بلوچستان میں بے گناہ مزدوروں کا قتل

بے گناہوں کو قتل کرنا دنیا کے کسی مذہب یا تہذیب میں جائز نہیں ہے بلکہ ایسا کرنےوالوں کو انتہائی نفرت سے دیکھا جاتا ہے


Editorial April 13, 2015
بلوچستان کی ترقی کے لیے اس صوبے میں پرانے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے تعمیر و ترقی کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے یہاں امن کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ فوٹو : آن لائن

بلوچستان میں تربت کے علاقے گوگدان میں جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب دہشتگردوںنے تعمیراتی شعبے سے وابستہ مزدوروں کے کیمپ میں اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 20افرادجاں بحق جب کہ تین زخمی ہوگئے، جس وقت دہشت گردوں نے فائرنگ کی یہ مزدورکیمپ میں سوئے ہوئے تھے،جاں بحق ہونے والے مزدوروںکاتعلق پنجاب اور سندھ سے تھا، وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اوروزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے اس سانحے کی تحقیقات حکم دیدیا جب کہ غفلت کے مرتکب 8 لیویز اہلکاروں کو معطل کر کے گرفتارکرلیا گیا، وزیراعلیٰ بلوچستان نے جاںبحق مزدوروں کے لواحقین کے لیے 10 ,10 لاکھ اورزخمیوں کے لیے 50 ,50 ہزار روپے امداد کا بھی اعلان کیا ہے، کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔

اے ایف پی نے صوبائی انتظامیہ کے سینئر افسرکے حوالے سے خبر دی ہے کہ حملہ آوروں نے مزدوروں کو اٹھایا، ایک قطار میں کھڑا کیا اور شناخت کے بعد انھیں گولیاں ماردیں، مقامی مزدوروں کو چھوڑ دیا، عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ کیمپ کی حفاظت پر مامور لیویزاہلکار بڑی تعداد میں حملہ آوروں کو دیکھ کر مزاحمت کیے بغیر موقع سے بھاگ گئے، جاں بحق ہونے والوں میں 16 کا تعلق رحیم یارخان اورصادق آباد جب کہ 4کا تعلق سندھ کے ضلع حیدرآباد سے بتایا جاتا ہے۔

بے گناہوں کو قتل کرنا دنیا کے کسی مذہب یا تہذیب میں جائز نہیں ہے بلکہ ایسا کرنے والوں کو انتہائی نفرت سے دیکھا جاتا ہے اور اگر ایسے مجرم گرفتار ہو جائیں تو انھیں سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے۔بلوچستان میں خاصے عرصے سے مزدوروں 'ہنر مندوں،حتیٰ کہ ڈاکٹر ز 'انجینئرز اور اساتذہ کو بھی قتل کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ یہ سب کر رہے ہیں 'اب وہ ڈھکے چھپے بھی نہیں ہیں ۔وہ اپنے جرائم کا اعتراف بھی کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کے افراد کو بھی قتل کیا جاتا رہا ہے۔ اس معاملے میں کوئی بھی جواز پیش کیا جائے 'اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ کسی معاملے پر آئین اور قانون کو پس پشت ڈال کر ہتھیار اٹھانا اور پھر بے گناہوں کو قتل کرنا عہد جاہلیت کی نشانیاں ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان ایسا ملک بن گیا ہے جہاں مسلح گروہ ریاست کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔وہ جس منصوبے کو چاہیں غلط قرار دے دیں جس نظام کو چاہیں باطل قرار دے دیں۔ یہاں تک کہ بعض ایسے گروہ بھی ہیں جو یہاں تک کہتے ہیں کہ فلاں ملک سے تعلقات رکھے جائیں اور فلاں سے ختم کیے جائیں۔ تربت میں جن افراد کو قتل کیا گیا 'انھیں شاید سیاست کی الف ب کا بھی پتہ نہیں ہو گا۔ انھیں یہ بھی نہیں پتہ ہو گا کہ قوم پرستی کیا ہوتی ہے ۔وہ تو بچارے غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر اپنے گھر بار چھوڑ کر روزی روٹی کمانے میں مصروف تھے۔ ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا تھا نہ کوئی مسلکی معاملہ ۔ایسے سادہ لوح اور غریب افراد کو گولیاں مار کر قتل کرنا بہادری نہیں بلکہ پرلے درجے کی بزدلی ہے۔ دلیر لوگ ایسا کام کبھی نہیں کرتے۔ بلوچستان کا المیہ بھی فاٹا سے ملتا جلتا ہے۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ دونوں جگہ قبائلیت اور سرداری پر مشتمل قدیم نظام چل رہا ہے۔

پاکستان کی کسی حکومت نے ان علاقوں میں نظام تبدیل کرنے پر توجہ نہیں دی۔ اگر نظام تبدیل کر دیا گیا ہوتا تو آج ان علاقوں میں مسلح لشکر وجود میں نہ آتے۔ بہر حال بلوچستان کے موجودہ وزیراعلیٰ روشن خیال سیاستدان ہیں۔ بلوچستان سے جو سیاستدان منظر عام پر ہیں 'وہ بھی فہم و فراست کے حامل ہیں۔ وہ شرپسندوں اور قاتلوں کی سرکوبی کرنا چاہتے ہیں۔ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ انھیں ہر قسم کی مدد اور وسائل فراہم کرے تاکہ بے گناہوں کو قتل کرنے والوں کو انجام تک پہنچایا جا سکے۔ سانحہ تربت کے حوالے سے یہ خبر بھی پریشان کن ہے کہ مزدوروں کی سیکیورٹی پر مامور لیویز اہلکار موقع سے بھاگ گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی تربیت ناقص ہے۔ اگر لیویز اہلکار صحیح معنوں میں تربیت یافتہ ہوتے اور ان کے پاس جدید ہتھیار ہوتے تو وہ دہشت گردوں کو تعداد میں زیادہ دیکھ کر راہ فرار اختیار نہ کرتے۔

اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کو اس حوالے سے کسی قسم کے دباؤ یا مصلحت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ شرپسند اور دہشت گرد کسی کے دوست یا ہمدرد نہیں ہوتے۔ ان کی کوئی قومیت ہوتی ہے اور نہ ہی وہ کسی دین کو اس کی روح کے مطابق سمجھتے ہیں۔ حالات کا فائدہ اٹھاکر یہ لوگ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ہتھیار کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ بلوچستان کے سیاستدانوں ،دانشوروں اور اہل علم کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ بلوچستان کی ترقی کے لیے اس صوبے میں پرانے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے تعمیر و ترقی کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے یہاں امن کا قیام انتہائی ضروری ہے۔

مقبول خبریں