پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد پر عرب حکام کا ردعمل

پاکستانی حکومت کا موقف بالکل درست ہے کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کو یمن بحران کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔


Editorial April 13, 2015
پاکستانی حکومت کو اس سازش کا بخوبی ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اس کھیل سے دور رہنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ فوٹو : فائل

پاکستانی پارلیمنٹ کے یمن تنازع میں غیرجانبدار رہنے کے فیصلے پر متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ ڈاکٹر انور محمد قرقاش نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اس اہم مسئلے پر متضاد اور مبہم موقف اپنانے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی، خلیج ٹائمز کے مطابق ٹوئٹر پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ عرب خلیج اس وقت خطرناک جنگ میں ہے، اس کی اسٹرٹیجک سیکیورٹی خطرے کے دہانے پر ہے اور اس وقت اس سچ کو واضح کرنا ہوگا کہ اصل اتحادی کون ہیں، میڈیا اور بیانات کی حد تک رہنے والے اتحادی کون ہیں۔ پاکستان کو خلیج تعاون کونسل کی چھ ریاستوں کے ساتھ اپنے اسٹرٹیجک تعلقات کے حق میں واضح موقف اختیار کرنا ہوگا، انھوں نے یمن کے تنازع پر ترکی اور ایران کے موقف کو یکساں قرار دیا جس میں ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ مسئلے کے سیاسی حل کی ذمے داری ترکی، ایران اور سعودی عرب کی ہے۔

جمعے کو پاکستانی پارلیمنٹ نے ایک متفقہ قرار داد منظور کرتے ہوئے کہا تھا کہ یمن کے تنازع میں پاکستان غیرجانبدار رہے گا جس پر متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناپسند کیا ہے۔ دوسری جانب عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق عرب پارلیمنٹ کے چیئرمین احمد بن محمد الجروان نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کا فیصلہ عرب اور اسلامی ممالک کے موقف سے متصادم ہے۔ اس صورت حال پر پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کے اس بیان پر تبصرہ کرنے سے قاصرہیں، وہ اخباری بیانات پر تبصرہ نہیں کر سکتیں ابھی اماراتی وزیر خارجہ کے بیان کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی واضح کرتے ہوئے کہا کہ عرب امارات کی طرف سے کوئی سرکاری معلومات یا مراسلہ نہیں آیا اگر کوئی آیا تو دفتر خارجہ اسے دیکھے گا، پاکستان ایک خود مختار ملک ہے، سعودی عرب اور حرمین الشریفین کی حرمت ہمیں بہت عزیز ہے، اگر حرمین الشریفین کی حرمت یا سعودی عرب کی سالمیت کو خطرہ ہوا تو پاکستان بھرپور دفاع کرے گا۔ بعض عرب حکام کی جانب سے پاکستانی پارلیمنٹ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنانے سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ انھیں شاید پاکستان سے ایسی توقع نہ تھی اور وہ امیدیں باندھے ہوئے تھے کہ پاکستان ان کی درخواست پر فوری طور پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنی فوجیں بھیج دے گا۔ سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی فوج کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل احمد العسیری نے غیر ملکی میڈیا کے مطابق بریفنگ میں کہا تھا کہ پاک فوج کی جنگی مہارت پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا، اس کی شمولیت سے جنگ کو مزید تقویت ملے گی۔

پاکستانی حکومت نے کسی جذباتیت کا شکار ہونے کے بجائے حقیقت کا صحیح ادراک کرتے ہوئے بالکل درست موقف اختیار کیا کہ یمن کی صورت حال کے تمام فریق اپنے مسائل پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کریں، فوری جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ اور او آئی سی کو متحرک کیا جائے۔ مبصرین اس حوالے سے کہہ رہے تھے یمن کا مسئلہ بہت حساس ہے اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کے سعودی عرب سے قریبی اور برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے اگر وہ سعودی عرب کا فی الفور ساتھ دیتا ہے تو اس کے ایران سے تعلقات خراب ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے اپنے ہاں فرقہ وارانہ اختلافات شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آسکتے ہیں اور اگر وہ سعودی عرب کا ساتھ دینے سے انکار کرتا ہے تو اس کے عرب ممالک سے تعلقات میں کشیدگی کے امکانات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بالآخر وہی ہوا جس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ عرب حکام کی جانب سے ناراضی کے بیانات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ ڈاکٹر انور محمد قرقاش نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کی مبہم اور متضاد رائے واضح ثبوت ہیں کہ لیبیا سے لے کر یمن تک کی ذمے داری کسی کی نہیں بلکہ عرب ریاستوں کی ہے اور ہمسایہ ممالک کے لیے یہ بحران اصل امتحان ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص منصوبہ بندی اور سازش کے تحت مسلم ممالک کو خانہ جنگی کا شکار کر کے عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

پاکستانی حکومت کا موقف بالکل درست ہے کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کو یمن بحران کے پاکستانی حکومت کو اس سازش کا بخوبی ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اس کھیل سے دور رہنے کو ترجیح دے رہی ہے۔حل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یمن میں جنم لینے والی لڑائی اقتدار کے حصول کے لیے ہے اس کا مسلکی اختلافات سے کوئی گہرا تعلق نہیں مگر یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر اس بحران کو حل نہ کیا گیا تو یہ پھیل کر مسلکی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ لہٰذا اس سے بچنے کے لیے ناگزیر ہے کہ اس کا ابھی سے تدارک کیا جائے اور یمن بحران کو تمام مسلم ممالک مل کر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔