پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد پر سعودی وزیر کا صائب موقف

یمن کی صورت حال پر دوٹوک فیصلہ کرنا پاکستان کے لیے ایک پیچیدہ اور مشکل امر ہے۔


Editorial April 14, 2015
اگر یمن کے مسئلے کو حل کرنے میں تاخیر کی گئی تو یہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا جائے گا اور خدشہ ہے کہ کہیں پورا مشرق وسطیٰ اس تنازع کی لپیٹ میں نہ آ جائے۔ فوٹو : فائل

سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور الشیخ صالح بن عبدالعزیز نے اتوار کو اسلام آباد ایئر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یمن کے تنازع کے حوالے سے پاکستانی پارلیمنٹ کی قرار داد پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی قرارداد پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان بہترین قریبی تعلقات قائم ہیں اور یہ ہمیشہ قائم رہیں گے، سعودی عرب پاکستان سے بہتری کی امید رکھتا ہے۔ دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے ریاض میں فرانسیسی ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران یمن کی صورت حال واضح کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہے، امید ہے کہ ایران یمن میں حوثی باغیوں کی مدد سے دستبردار ہو جائے گا۔

یمن کی صورت حال پر دوٹوک فیصلہ کرنا پاکستان کے لیے ایک پیچیدہ اور مشکل امر ہے۔ ایک طرف سعودی عرب ہے تو دوسری طرف ایران، دونوں برادر اسلامی ممالک سے پاکستان کے گہرے اور قریبی تعلقات ہیں، پاکستان کی یہ کوشش ہے کہ یمن کے تنازعے پر کوئی ایسا فیصلہ نہ کیا جائے جس سے کسی ایک برادر اسلامی ملک کے مفادات کو نقصان پہنچے۔

پاکستانی پارلیمنٹ نے یمن کے تنازع پر غیرجانبدار رہنے کا جو فیصلہ کیا وہ موجودہ حالات اور مصلحت کے عین مطابق تھا مگر غیرجانبدار رہنے کے ساتھ ساتھ پاکستان نے یہ یقین دہانی ضرور کرائی کہ اگر حرمین الشریفین کی حرمت اور سعودی عرب کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے تو ایسی صورت میں پاکستان سعودی عرب کا بھرپور ساتھ دے گا۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ ڈاکٹر انور محمد قرقاش نے پاکستانی پارلیمنٹ کی قرار داد پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو اس اہم مسئلے پر متضاد اور مبہم رائے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ عرب پارلیمنٹ کے چیئرمین احمد بن محمد الجروان نے بھی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کا فیصلہ عرب اور اسلامی ممالک کے موقف سے متصادم ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کے پاکستان کے بارے میں بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہ صرف سفارتی آداب کے منافی بلکہ لمحہ فکریہ بھی ہے، پاکستانی غیرت مند قوم ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ امارات کے عوام کے لیے بھی برادرانہ جذبات رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر انور محمد قرقاش اور احمد بن محمد الجروان کے اظہار ناراضگی سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ عربوں نے پاکستان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر رکھی تھیں۔

انھیں امید تھی کہ ان کے کہنے پر پاکستانی حکومت فی الفور اپنی افواج ان کی مدد کے لیے بھیج دے گی لیکن پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد ان کی توقعات کے بالکل برعکس تھی۔ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور الشیخ ڈاکٹر صالح عبداللہ بن عبدالعزیز نے جذباتی ہونے کے بجائے نہایت سمجھداری اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی قرارداد کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے ایک بہتر موقف اختیار کیا اور کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے مضبوط، معاشی، مذہبی اور دفاعی تعلقات ہیں، پاکستانی عوام بھی سعودی عرب کی حمایت کے خواہاں ہیں، ہمیں اچھے کی ہی امید ہے البتہ انھوں نے یمن کی صورت حال میں ثالثی کی بات کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اسے مذاق کے مترادف قرار دیا۔

انھوں نے یمن کے مسئلے کا حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ باغی ہتھیار پھینک دیں اور قانونی حکومت دوبارہ بحال کر دی جائے۔ اگر سعودی عرب پر کوئی غیر مسلم قوت حملہ آور ہوتی اور سعودی حکومت پاکستان سے مدد مانگتی تو ایسی صورت میں پاکستانی حکومت فوراً رضا مند ہو جاتی مگر یہ مسئلہ دو مسلم گروہوں کے درمیان تنازعہ کا ہے اس لیے پاکستان کو فوری طور پر جذباتی ردعمل دکھانے کے بجائے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا پڑے۔مبصرین کے مطابق یمن کا مسئلہ مذہبی نہیں بلکہ سیاسی ہے جو فی الفور پیدا نہیں ہوا بلکہ گزشتہ کئی سالوں سے وہاں کشیدگی چلی آ رہی تھی جس کی جانب اسلامی ممالک نے کوئی خاص توجہ نہیں دی اور اسے نظرانداز کرتے رہے۔

جس کا نتیجہ اب سب کے سامنے ہے۔ بعض ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر یمن کے مسئلے کو حل کرنے میں تاخیر کی گئی تو یہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا جائے گا اور خدشہ ہے کہ کہیں پورا مشرق وسطیٰ اس تنازع کی لپیٹ میں نہ آ جائے اس لیے عرب لیگ، او آئی سی اور تمام اسلامی ممالک کو مل کر اس مسئلے کا کوئی پرامن حل تلاش کرنا چاہیے۔

پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اسے اپنی حمایت کا یقین دلاتا چلا آ رہا ہے مگر پاکستان کی یہ کوشش ہے کہ یمن کا مسئلہ جنگ کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کر لیا جائے تو یہ سب کے لیے بہتر ہو گا۔ اگر فریقین نے اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل نہ کیا تو یمن میں خون اسی طرح بہتا رہے گا اور حالات روز بروز خراب تر ہوتے چلے جائیں گے اور وہاں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔