بلدیہ فیکٹری آتشزدگی 2 چشم دید گواہ عدالت میں پولیس کو دیئے گئے بیانات سے منحرف

پولیس افسران نے گذشتہ روز دھمکی دی تھی کہ وہ پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق بیان قلمبند کرائے، گواہ عبدالمجید


Staff Reporter October 10, 2012
عدالت نے پولیس افسران کو حفاظت کا حکم دیکر بیانات قلمبند کرکے جیل بھیج دیا۔ فوٹو: اے ایف پی

سانحہ بلدیہ آتشزدگی کیس میں دوچشم دید گواہ عدالت میں پولیس کو دیے گئے بیانات سے منحرف ہوگئے۔

دوران سماعت پریشان اور پولیس سے خوف زدہ نظرآئے اور انھوں نے قتل ہونے کا خدشہ بھی ظاہرکیا اور تحفظ کی درخواست پر عدالت کی جانب سے تحفظ فراہم کردیا گیا ،تفصیلات کے مطابق بدھ کو تھانہ سائٹ نے استغاثہ کے دو گواہوں عبدالمجید اور زبیر کو ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 164کے تحت بیان قلمبند کرانے کیلیے جوڈیشل مجسٹریٹ غربی سہیل احمد مشوری کے روبرو پیش کیا تھا، اس مقدمے کی سماعت کے موقع پر جیل حکام نے مقدمے میں نامزد فیکٹری مالکان شاہد بھائیلہ ، ارشد بھائیلہ ، جنرل منیجر منصور احمد ،سیکیورٹی گارڈز فضل احمد ، علی محمد ، ارشد محمود کو عدالت کے حکم پر پیش کیا۔

جبکہ ضمانت پر رہا عبدالعزیز عدالت میں موجود تھے،گواہ عبدالمجید نے اپنے حلفیہ بیان میں عدالت کو بتایا کہ وہ فیکٹری میں چیف اکائونٹنٹ ہے ،وقوع کے روز آگ لگنے کا شور سن کر آفس سے باہر آیا، اس موقع پر اس نے سو سے زائد مردوں اور80کے قریب خواتین کو مین گیٹ سے باہر نکالا تھا اور ان کے گھروں کو روٹ کے مطابق جانے والی گاڑیوں میں سوار کرایا تھا اور پولیس نے اسے 22روز سے غیرقانونی حراست میں رکھا ہوا تھا اور اس دوران شدید تشدد کیا اور اپنی مرضی کا بیان دینے پر دبائو ڈالا تھا ، اسے پولیس افسران نے گذشتہ روز دھمکی دی تھی کہ وہ پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق بیان قلمبند کرائے ورنہ وہ گھر نہیں جاسکتا۔

اسی دوران وہ زار و قطار روپڑا اور اپنی جان کی تحفظ کی استدعا کی فاضل عدالت نے تھانہ سائٹ کے ایس ایچ او کو فوری طور پر اسے تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ،دوسرے گواہ زبیر نے بتایا کہ وہ فیکٹری میں سپروائزر تھا جب آگ لگنے کا شور سنا تو اس نے فوری طور پر لیبر سے کام بند کرادیا ،اس وقت 100قریب مرد اور80سے زاید خواتین کام میں مصروف تھیں جنھیں باحفاظت مین گیٹ سے باہر نکال کے انکے گھروںکو روانہ کیا اور امدادی کام میں لگ گیا تھا ،14ستمبر کو پولیس نے اسے حراست میں لیا اوراس وقت تک حراست میں ہی رکھا ،دبائو ڈالتے رہے کہ انکی مرضی کے مطابق بیان دینا انھیں رہا کردیا جائے گا ۔

اس نے بھی تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی تھی، فاضل عدالت کی جانب سے پولیس کو فوری تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی ، فاضل عدالت نے گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ملزمان کو دوبارہ جیل بھیج دیا، بعدازاں ملزمان کے وکیل نے عدالت میں فیکٹری مالکان کو بی کلاس کی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق درخواست دائر کی اور موقف اختیارکیا ہے کہ فیکٹری مالکان اعلیٰ تعلیم یافتہ اور حکومت کو بھاری انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں انھیں بی کلاس دی جائے،نیز پولیس نے تاحال مقدمے کی اورگواہوں کے قلم بندکیے گئے بیانات کی نقول فراہم نہیں کی، پولیس کو نقول فراہم کرنے کا حکم دیا جائے ،فاضل عدالت نے نوٹس جاری کیے ہیں اور سرکار کو طلب کرلیا ہے۔