ٹوکیو میں نئے آئی ایم ایف پروگرام کا معاملہ اٹھانے کا امکان

آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاسوں کیلیے وزیرخزانہ کی زیرقیادت وفد جاپان روانہ


Irshad Ansari October 10, 2012
سائیڈلائن میٹنگز میں ملٹی لیٹرل ڈونرز اور جاپانی تاجروں سے تبادلہ خیال کا موقع ملے گا، ذرائع فوٹو فائل

پاکستان کی طرف سے بدھ سے جاپان میں ہونے والے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہونے والی سائیڈ لائن میٹنگز میں آئی ایم ایف سے لیٹر آف کمفرٹ کے حصول اور نئے پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کا معاملہ اٹھائے جانے امکان ہے۔

جس کیلیے وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ وفد کے ہمراہ ٹوکیو پہنچ گئے، سیکریٹری خزانہ عبد الواجد رانا، سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن جاوید اقبال، ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن ڈاکٹر ندیم الحق، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان انور یاسین سمیت ودیگر حکام ان کے ساتھ ہیں۔ ذرائع کے مطابق 10 سے 14 اکتوبر تک آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس میں شرکت کیلیے ٹوکیو روانہ ہونے والا وفد آئی ایم ایف اور عالمی بینک حکام کے ساتھ سائیڈ لائن میٹنگز بھی کرے گا۔ ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں میں پاکستانی وفد کو مختلف ملٹی لیٹرل ڈونرز اور جاپانی تاجر و صنعتکار برادری کے ساتھ تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کا موقع ملے گا، اجلاس میں پاکستانی وفد آئی ایم ایف اور عالمی بینک حکام کو تفصیلی بریفنگ دے گا اور سائیڈ لائن میٹنگز میں موجودہ اقتصادی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا جائیگا۔

علاوہ ازیں 2011-12 کی ٹیکس وصولیوں کے اصل اعدادوشمار پر مبنی رپورٹ سے بھی آئی ایم ایف اور عالمی بینک حکام کو آگاہ کیا جائیگا اور رواں مالی سال کیلیے مقررہ ٹیکس اہداف کے بریک اپ سے بھی آگاہ کیا جائیگا ، یہ بھی بتایا جائے گاکہ ریونیو کے حصول میں کیا کیا رکاوٹیں اور ان کو دور کرنے کیلیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ سائیڈ لائن میٹنگز میں پاکستان کو لیٹر آف کمفرٹ جاری کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا اور آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے پر بھی تبادلہ خیال کا امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کو اب پوسٹ پروگرام مانیٹرنگ رپورٹ کی روشنی میںآئی ایم ایف سے قرضہ مل سکے گا جس کیلیے مذاکرات ہوچکے ہیں، آئی ایم ایف کا جائزہ مشن یہ رپورٹ اب آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پیش کریگا تاہم نیا پروگرام سیاسی قیادت کی مکمل حمایت پر ملنے کی توقع ہے کیونکہ آئی ایم ایف اس کیلیے زور دے رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر پاکستان کو لیٹر آف کمفرٹ مل جاتا ہے توعالمی بینک،ایشیائی ترقیاتی بینک ودیگر ڈونرز سے ڈیڑھ سے 2 ارب ڈالر اور آئی ایم ایف سے نیاپروگرام بھی مل جائے گا۔