پاک روس تعلقات راست اقدامات کی ضرورت

سرد جنگ کے دوران پاکستان کی امریکا کے ساتھ دوستی کی اصل وجہ محض مالی اور تکنیکی امداد کا حصول تھا۔


Editorial April 17, 2015
روس ہمارا قریبی ہمسایہ ہے اور یہ ہمارا اہم معاشی معاون ہوسکتا ہے۔ روس سے تعلقات بہتر کرنے کے لیے راست اقدامات کی ضرورت ہے۔ فوٹو : فائل

اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف عالمی سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے بدھ کو ماسکو پہنچے، جہاں ان کی اپنے روسی ہم منصب سرگئی شوئیگوف سے ملاقات ہوئی، جس میں دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ روسی وزیر دفاع سے ملاقات میں دو طرفہ معاملات کے علاوہ افغانستان، یمن اور دیگر اہم علاقائی و عالمی امور پر بھی بات چیت کی گئی۔

سرد جنگ کے دوران ابھرنے والے بیشتر نظریات وقت کے ساتھ فنا ہوچکے ہیں اور اب تمام ممالک اپنے بہتر مفادات کی خاطر باہمی اشتراک اور اقتصادی تعاون پر مشتمل مراسم استوار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ پاکستان کو بھی اپنے وسیع تر مفادات کی خاطر ان تمام فرسودہ نظریات سے نجات حاصل کرنا ہوگی جو سرد جنگ کے دوران سازش کے تحت ہمارے ذہن پر مسلط کیے گئے۔ خارجہ پالیسی ترتیب دیتے وقت ملک کے وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھنا ازحد ضروری ہے۔

ملکی مفادات کو پس پشت ڈال کر نظریاتی عدم موافقت کا پرچار کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور غیر دینی مارکسی نظریات کا حامل سوویت یونین دوست نہیں بن سکتے، سے شدت پسندوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ سرد جنگ کے دوران پاکستان کی امریکا کے ساتھ دوستی کی اصل وجہ محض مالی اور تکنیکی امداد کا حصول تھا، پاکستانی حکومت اور پالیسی سازوں کی طرف سے اس وجہ کو نظریاتی لبادے میں لپیٹنے کی کاوش حیران کن نہیں ہے۔

ایک خاص سوچ کے تحت افغانستان پر روسی قبضے، اس کے پاکستان کے بارے میں عزائم اور امریکی حمایت یافتہ 'جہاد' کی ضرورت کے بارے میں اس وقت قوم کو باور کرایا گیا تھا، لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ ان مفروضات میں کس حد تک حقیقت تھی اور ہمیں کس کس طرح سے استعمال کیا گیا، نیز یہی وہ 'جہاد' تھا جس کی باقیات نے پاکستان سمیت پوری دنیا کے امن کو سبوتاژ کر رکھا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ روس نے اپنے اتحادی ممالک کو 'ایڈ نہیں ٹریڈ' کے تحت اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دی ہے، پاکستان اسٹیل ملز کا قیام اس کا واضح ثبوت ہے۔ مفروضات و شبہات کے لبادوں میں لپٹے ہوئے کئی عشروں کے بعد ہمیں تاریخ کا ازسر نو تعین کرنا چاہیے، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم نے کہاں دھوکا کھایا اور آج ہم کہاں دھوکا کھا رہے ہیں۔ روس ہمارا قریبی ہمسایہ ہے اور یہ ہمارا اہم معاشی معاون ہوسکتا ہے۔ روس سے تعلقات بہتر کرنے کے لیے راست اقدامات کی ضرورت ہے۔