صدراوباما ایران کی جوہری تنصیبات پرحملے کے منصوبے پرغورکررہے ہیں امریکی اخبار

اخبار کے مطابق چند گھنٹے کے اس آپریشن سے ایران کئی سال پیچھے چلا جا سکتا ہے.


ویب ڈیسک October 10, 2012
یہ حملہ امریکی صدر براک اوباما اور اسرائیل کے درمیان بہترین تعاون کی مثال ہوگا. فوٹو: اے ایف پی

UNITED NATIONS:

امریکی اخبار کے مطابق صدرباراک اوباما اپنے مدمقابل سیاسی حریف کےسوال کا جواب دینے کے لئے ایران کی جوہری تنصیبات پرحملے کے منصوبے پرغورکررہے ہیں۔


امریکی اخبار فارن پالیسی کے مطابق چند گھنٹے کے اس آپریشن سے ایران کئی سال پیچھے چلا جا سکتا ہے، حملوں کا سلسلہ کئی روز بھی جاری رہ سکتا ہے، ایران کے شہر نتاناز میں موجود جوہری تنصیبات کوکسی بھی حملےسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ حملہ ڈرون اوربمبارطیاروں سے کیا جاسکتا ہے۔


امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ امریکی صدر براک اوباما اور اسرائیل کے درمیان بہترین تعاون کی مثال ہوگا۔


اخبارکے مطابق ری پبلکن امیدوار مٹ رومنی نے انتخابی مہم کے دوران اس حوالے سے صدرباراک اوباما کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اورامکان ہے کہ صدر اوباما اس تنقید کا جواب ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی صورت میں دے سکتے ہیں۔