اصل شناختی کارڈ رکھنے کی لایعنی ہدایت

سندھ رینجرز نے کراچی کے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اپنے اصل شناختی کارڈ ہر وقت اپنے ہمراہ رکھیں


Editorial April 23, 2015
یہ حقیقت ہے کہ ملک کے تمام ہی شہر یکساں حالات کا شکار ہیں، ایسے میں کراچی سے ناروا سلوک اور شہریوں کو پریشان کرنے کی حکمت عملی مزید انتشار کو جنم دے گی۔ فوٹو : فائل

سندھ رینجرز کی جانب سے پیر کو کراچی کے شہریوں کو ہر وقت اپنے ہمراہ اصل قومی شناختی کارڈ رکھنے کی ہدایت نے بے چینی کی فضا کو جنم دیا ہے، منگل کو نہ صرف ڈبل سواری پر پابندی بلکہ اصل شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے شہری پریشانی کا شکار رہے۔

ترجمان سندھ رینجرز کے اعلامیے کے مطابق سندھ رینجرز نے کراچی کے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اپنے اصل شناختی کارڈ ہر وقت اپنے ہمراہ رکھیں، شناختی کارڈ کی نقل (فوٹوکاپی) کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہوگی جب کہ شناخت کی تصدیق نہ ہونے پر مذکورہ شہری کو تصدیق ہونے تک زیر حراست رکھا جائے گا۔ کراچی جیسے شہر خراباں میں جہاں چوری ڈکیتی کی وارداتوں کا تناسب پورے ملک سے زیادہ ہے اور شہری دوران سفر اپنے قیمتی سامان کے علاوہ بٹوہ سے محروم ہوجاتے ہیں۔

ایسے میں قانونی سقم اور نادرا سے دوبارہ شناختی کارڈ کا حصول جس ایذا رسانی کا باعث ہوتا ہے اس کی وجہ سے شہریوں کی اکثریت اصل شناختی کارڈ رکھنے سے گریزاں ہے۔ صائب کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاریوں کے لیے دن رات کام کررہے ہیں اور اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے شہریوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون ضروری ہے لیکن اصل شناختی کارڈ ہر وقت لازم رکھنے کا عجیب فیصلہ شہریوں کو ان اداروں سے بدگمان کرنے کا باعث بنے گا۔

ڈبل سواری پر پابندی کے نام پر پولیس کی جانب سے لوٹ کھسوٹ اور رشوت ستانی سے ڈسے شہری اسے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمائی کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔ اداروں کی ساکھ بہرحال اہمیت کی حامل ہے اور عوام الناس میں کسی ادارے کے خلاف منفی تاثر کا پنپنا خود ان اداروں کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتا ہے، جیسا کہ پولیس اپنے روایتی کردار کی وجہ سے بدنام ہے ایسے ہی اگر قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے بھی عوام کی نظر میں برے بن گئے تو نتائج خطرناک ہوں گے۔

اس لیے راست اقدام ہوگا کہ ہمیشہ صائب اور دانشمندانہ فیصلے لیے جائیں۔ شہر کی سب سے بڑی نمایندہ سیاسی تنظیم متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کا بیان بھی قابل غور ہے جس میں انھوں نے سوال اٹھایا کہ شناختی کارڈ کی شرط صرف کراچی ہی میں کیوں عائد کی گئی ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ ملک کے تمام ہی شہر یکساں حالات کا شکار ہیں، ایسے میں کراچی سے ناروا سلوک اور شہریوں کو پریشان کرنے کی حکمت عملی مزید انتشار کو جنم دے گی۔ شہر میں امن کے قیام کے لیے عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔