الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانا ضروری ہے

الیکشن کے عمل کو صاف و شفاف بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کو ہر اعتبار سے با اختیار بنانا انتہائی ضروری ہے۔


Editorial April 24, 2015
یہ حقیقت ہے کہ الیکشن سسٹم میں جو خرابیاں موجود ہیں ،وہ حکومت کی نظر میں ہیں لیکن ان سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ من پسند نتائج حاصل کیے جائیں۔فوٹو : فائل

پاکستان میں الیکشن میں دھاندلی اور الیکشن کمیشن کے اختیارات اور دائرہ کار پر عرصے سے باتیں ہوتی آ رہی ہیں۔کم و بیش ہر الیکشن میں دھاندلیوں کی باتیں سامنے آئی ہیں۔

1977 کے الیکشن میں تو دھاندلیوں کے خلاف تحریک چلی جس کے نتیجے میں مارشل لا نافذ ہوا۔ 2013 کے الیکشن کے حوالے سے بھی تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا، تحریک انصاف نے تو انتخابی دھاندلیوں کو بنیاد بنا کر اسلام آباد میں دھرنا دیا، اس کے نتیجے میں ایک جوڈیشنل کمیشن بھی قائم ہوا ہے جو 2013 کے الیکشن میں مبینہ دھاندلیوں کا جائزہ لے رہا ہے، ادھر انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بھی قائم کی گئی۔

گزشتہ روز پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات سے متعلق ذیلی کمیٹی کا اسلام آباد میں ان کیمرہ اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان بھی اس میں شریک ہوئے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے ارکان کو کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ سفارشات سے متعلق آگاہ کیا گیا اور ان کی کاپی فراہم کی گئی۔ کمیٹی کے کنوینئر زاہد حامد نے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان کی مشاورت کے بعد انتخابی اصلاحات کا حتمی مسودہ تیار کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں الیکشن کمیشن کو توہین عدالت کا اختیار اور انتخابی عمل میں سرکاری تبادلے روکنے کا بھی اختیار دیا جائے۔

الیکشن کے عمل کو صاف و شفاف بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کو ہر اعتبار سے با اختیار بنانا انتہائی ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن کے ڈھانچے میں بھی اختیارات کے حوالے سے جن تبدیلیوں کی ضرورت ہے، وہ کی جانی چاہئیں۔ مئی 2013 کے الیکشن میں چیف الیکشن کمشنر کے بے اختیار ہونے کی باتیں بھی عام ہیں،چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم بھی اس حوالے سے بات کرتے رہے ہیں اور انھوں نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ بھی شاید اسی وجہ سے کیا تھا۔

ان تمام خامیوں کو دور کرنا انتہائی ضروری ہے، جمہوریت کی مضبوطی اور استحکام کے لیے الیکشن کمیشن کا مضبوط ہونا اور پولنگ کا نظام خامیوں سے پاک ہونا انتہائی ضروری ہے۔ جب عوام کو پتہ چلتاہے کہ وہ ووٹ تو فلاں امیدوار کو ڈال کر آئے لیکن جیت گیا کوئی اور تو پھر ان میں مایوسی پیدا ہوتی ہے اور جمہوریت پر بھی ان کا اعتماد مجروح ہوتاہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کو بچانے کے لیے انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن میں بنیادی اصلاحات لائی جانی چاہیے۔

اس حوالے سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے انتخابی نظام سے مدد لی جا سکتی ہے، بھارت بھی اس حوالے سے ایک مثال بن سکتا ہے۔ بھارت میں عام انتخابات آئین کے مطابق مسلسل ہو رہے ہیں، ابتدا میں وہاں بھی دھونس دھاندلی کی اطلاعات ملتی رہیں ہیں لیکن بتدریج انتخابی نظام میں موجود خامیوں پر قابو پالیا گیا اور اب بھارت کا الیکشن کمیشن انتہائی بااختیار ہے اور انتخابی نظام بھی شفاف ہو گیا ہے۔وہاں الیکشن کے بعد کوئی سیاسی جماعت دھاندلی کا الزام عائد نہیں کرتی۔الیکشن کے نتائج ہر حال میں تسلیم کرنے پڑتے ہیں۔ الیکشن کمیشن جتنا زیادہ مضبوط ہو گا، انتخابی نظام اتنا ہی بہتر ہوتا جائے گا۔

یہ تجویز بالکل درست ہے کہ الیکشن کمیشن کو سرکاری تبادلے روکنے کا اختیار ہونا چاہیے۔عام انتخابات سے پہلے حکومت کو ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا بھی اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ پولنگ کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم بھی انتہائی ضروری ہے، اس طریقے سے دھاندلی کا امکان مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

بھارت میں عام آدمی پارٹی کی جیت کی وجہ بائیو میٹرک نظام ہی تھا، اس نظام میں ایک تو دھاندلی نہیں ہو سکتی اور کوئی ووٹر کسی دوسرے کا ووٹ کاسٹ نہیں کر سکتا اور دوسرا گنتی کا عمل بھی شفاف ہو جاتا ہے اور رزلٹ بھی کمپیوٹرائزڈ ہوتا ہے اور ووٹنگ کاسٹ کرنے کے عمل کے ساتھ ساتھ جاری رہتا ہے۔

الیکشن کنڈکٹ کرنے والے عملے کے احتساب کا بھی فول پروف طریقہ ہونا چاہیے۔ جمہوریت کو بچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ عوام کو یقین ہو کہ ان کے ووٹ کا تقدس پامال نہیں ہو رہا۔الیکشن کے نتائج جب ایک فول پروف نظام کے ذریعے سامنے آئیں گے تو اس پر الیکشن لڑنے والی سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد ہو گا اور عوام بھی مطمئن ہو جائیں گے۔

یہ حقیقت ہے کہ الیکشن سسٹم میں جو خرابیاں موجود ہیں ،وہ حکومت کی نظر میں ہیں لیکن ان سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ من پسند نتائج حاصل کیے جائیں ۔پاکستان میں یہ باقاعدہ اصول بن گیا ہے کہ ضمنی الیکشن برسراقتدار جماعت ہی جیتتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ برسراقتدار جماعت اپنی مرضی کے سرکاری اہلکاروں کو متعلقہ حلقے میں تعینات کر دیتی ہے۔ پولنگ سسٹم میں بھی خرابیوں کا فائدہ طاقتور امید وار کو پہنچتا ہے۔ اب ان برائیوں کو ختم کرنا ضروری ہو گیا۔