کراچی کا ضمنی الیکشن ایم کیو ایم سرخرو

اس ضمنی انتخاب سے ملکی سیاسی و جمہوری اور انتخابی عمل کی شفافیت اور سیاسی رہنماؤں کی بلوغت کے اہم شواہد پیش کیے گئے


Editorial April 25, 2015
کراچی کا پر امن اور مجموعی طور پر شفاف ضمنی انتخاب ایک اہم پیش رفت ہے، جس میں حساس انتخابی حلقوں میں بھی جس جمہوری اسپرٹ کا مظاہرہ کیا گیا وہ لائق تحسین ہے۔ فوٹو: محمد نعمان/ایکسپریس

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے246پر ضمنی انتخاب میں غیرحتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق ایم کیوایم کے کنور نوید جمیل نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔

نتیجے کے حوالے سے اس حلقہ میں ایم کیو ایم کے امیدوار کی کامیابی بلاشبہ حیران کن یا غیر متوقع نہیں ہے ، بلکہ فرق بڑے یا کم مارجن سے جیتنے پر ہونے والی میڈیا کی غیر معمولی بحث یا وہ انوکھے اندازے تھے جس نے اس ضمنی انتخاب کو شہرت بخشی ، ورنہ حقیقت میں کراچی کے اس حلقہ کو ماضی کے انتخابی ریکارڈ کی روشنی میں ایم کیو ایم ''عقابوں کا نشیمن'' قرار دینے میں حق بجانب تھی جس میں ایم کیوایم کے امیدوار 93ہزار 122ووٹ لے کر اول، تحریک انصاف کے عمران اسماعیل دوسرے اور جماعت اسلامی کے راشد نسیم تیسرے نمبر پر رہے۔

اس ضمنی انتخاب سے ملکی سیاسی و جمہوری اور انتخابی عمل کی شفافیت اور سیاسی رہنماؤں کی بلوغت کے اہم شواہد پیش کیے گئے، جہاں انتخابی مہم پر جوش ، تند و تیز اور جذباتی ماحول پیدا کرگئی وہاں بد انتظامی کے اکا دکا واقعات کے سوا پولنگ نسبتاً پر امن رہی، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر ، آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی متحرک رہے ۔

الیکشن کمشنر سندھ تنویر ذکی نے کہا کہ رینجرز کی موجودگی شفاف الیکشن کا باعث بنی ہے، ممبر الیکشن کمشنر سندھ روشن عیسانی نے این اے 246 کی مانیٹرنگ کے لیے صوبائی الیکشن کمیشن میں قائم کنٹرول روم کا دورہ کیا، رینجرزحکام نے پولنگ بوتھ کے اندر اور باہر جب کہ پولیس فورس نے مجموعی طور پرسیکیورٹی کے ٹھوس اقدامات کیے ، قتل کے دو واقعات اور متفرق شکایات یا ناکافی انتظامات کی وجہ سے ووٹرز کو پریشانی ضرور ہوئی تاہم شہر میں جاری بدامنی کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ نظم و ضبط کے ساتھ ووٹنگ اختتام پذیر ہوئی ، اس میں ایم کیو ایم نے اضافی وقت بھی مانگا مگر اصرار نہیں کیا جو تعمیری سیاسی انداز نظر ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا بیان بھی حقیقت پسندانہ تھا کہ وہ انتخابی نتائج کو قبول کریں گے ، مگر ان کا یہ تبصرہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایم کیو ایم نے پہلی بار فیئر الیکشن لڑا ہے، ضمنی انتخاب کی شفافیت کا یہ کھلا اعتراف ہے۔ دوسری طرف اہم بات یہ ہے کہ دھاندلی کے روایتی الزامات اور پولنگ کی امکانی یا یقینی معطلی کے شور سے فضا قطعی مکدر نہیں ہوئی یہ بڑا بریک تھرو ہے۔

جماعت اسلامی کے امیدوار راشد نسیم کے مطابق رینجرز کی وجہ سے پولنگ پر امن رہی جس سے انتخابی عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی ، البتہ ووٹرز نے ناقص انتظامات اور غیر تربیت یافتہ عملہ کے حوالے سے جو شکایتیں کی ہیں انہیں مجوزہ انتخابی اصلاحات کے ایجنڈہ میں پیش نظر رکھنا چاہیے، جب کہ ملک بھر میں آج ہونے والے 42 کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ میں بھی شفاف انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

غیرسرکاری وغیر حتمی نتائج کے مطابق ایم کیوایم کے امیدوار کنورنوید نے ضمنی انتخاب میں93ہزار 122ووٹ حاصل کر کے مخالف امیدواروں کو واضح فرق کے ساتھ شکست دی ہے ، تحریک انصاف کے عمران اسماعیل نے22 ہزار ووٹ جب کہ جماعت اسلامی کے راشد نسیم 9 ہزار ووٹ حاصل کیے۔ جماعت کو دھچکا لگا ہے۔ جمعرات کو ہونے والے الیکشن میں ٹرن آؤٹ تقریباً 35 فیصد رہا۔ واضح رہے کہ عام انتخابات کے موقع پر این اے246میں ایم کیوایم کے نبیل گبول نے ایک لاکھ 37ہزار874ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے عامر شرجیل نے31ہزار 875ووٹ لے کردوسرے نمبر پرآئے تھے اور جماعت اسلامی کے راشد نسیم نے 10ہزار 516 ووٹ حاصل کیے تھے ۔

بہر حال کراچی کا پر امن اور مجموعی طور پر شفاف ضمنی انتخاب ایک اہم پیش رفت ہے، جس میں حساس انتخابی حلقوں میں بھی جس جمہوری اسپرٹ کا مظاہرہ کیا گیا وہ لائق تحسین ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کامیابی پر 3 روزہ جشن منانے کا اعلان کیا اورکہا کہ عوام نے کنور نوید کو بھاری اکثریت سے کامیاب کروا کر ایم کیو ایم پرعائد تمام الزامات اور میڈیا ٹرائل کو مسترد کر دیا ہے۔ اب ضرورت اس انتخابی رواداری اور جمہوری مشعل کو فروزاں رکھنے کی ہے۔