شام کی فضائیہ کے حملے میں 40 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی

حملے میں 13 خواتین سمیت کئی بچے بھی ہلاک ہوئے اور ان ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے،برطانوی مبصر گروپ


ویب ڈیسک April 27, 2015
مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے حملے اور اس میں ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار شامی حکومت کو ٹھہرایا ہے، فوٹو:فائل

KARACHI: حکومت کی جانب سے صوبے پر فضائی بمباری کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ادلیب پر شام کی فضائیہ کی جانب سے فضائی بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ ملکی صورتحال پر نظر رکھنے والے ایک برطانوی مبصر گروپ کا کہنا ہےکہ حملہ ادلیب میں ال لاج اور درکوش کے علاقوں پر کیا گیا جس میں 13 خواتین سمیت کئی بچےبھی ہلاک ہوئے اور ان ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق شامی تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں حکومت مخالف گروپ نے حکومت کے آخری مضبوط مرکز جسر الشغر شہر پر قبضہ کرلیا تھا تاہم حکومتی افواج کی جانب سے قبضہ چھڑانے کے لیے مزاحمت جاری تھی جس کے باعث فضائی حملے کیے گئے جب کہ مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے حملے اور اس میں ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار شامی حکومت کو ٹھہرایا ہے۔

دوسری جانب شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے متاثر ہونے والے متعدد زخمیوں کے معالج ڈاکٹر طناری نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں دیئے گئے اپنے بیان میں حکومت کے حملوں میں کلورین گیس استعمال کیے جانے کا انکشاف کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ صوبہ ادلیب میں 16 مارچ کو بھی کیے گئے حملے میں مبینہ طور پر اس گیس کا استعمال کیا گیا جس میں ایک سے 3 برس کے بچے بھی ہلاک ہوئے جب کہ اس دوران انہوں نے کونسل کے سامنے شامی حکومت کی جانب سے کلورین گیس کے تازہ حملے کی ویڈیو بھی پیش کی۔