زرعی شعبے کو عالمی معیار پر لانے کیلیے پاک گیپ سرٹیفکیشن کا فیصلہ

چاول، آم، کینو اور آلو کے باغات اور پیک ہاؤسز کی رجسٹریشن جلد ہی شروع کردی جائیگی


ملک میں بیماریوں سے پاک پھلوں کی پیداوار کیلیے صوبوں کو پیسٹ فری زون قائم کرنا ہوں گے جہاں پروگریسیو فارمنگ کے ذریعے خدشے کے شکار پھلوں کی کاشت کی جاسکے۔ فوٹو : فائل

پاکستان نے زراعت کے شعبے میں عالمی معیارات اور جدید رجحانات کے فروغ کے لیے پاک گیپ سرٹیفکیشن کا فیصلہ کرلیا ہے۔

جلد ہی چاول، آم، کینو اور آلو کے باغات اور پیک ہاؤسز کی رجسٹریشن شروع کردی جائیگی۔ پاک گیپ کے نفاذ سے پاکستان میں زراعت کے شعبے کوجدید خطوط پر استوار کرکے زیادہ پیداوار حاصل کرنے اور معیارکی بہتری کے ذریعے بیرونی منڈیوں سے زیادہ اچھی قیمت حاصل کی جاسکے گی۔

ڈائریکٹر جنرل پلانٹ پروٹیکشن ڈاکٹر مبارک احمد نے صحافیوں سے ملاقات میں بتایا کہ اگرچہ 18ویں ترمیم کے بعد زراعت کے شعبے کی بہتری صوبوں کی ذمے داری ہے تاہم وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ اپنی قومی ذمے داری سمجھتے ہوئے ہر سطح پر زراعت کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات بوسن کی ہدایت پر سہ رخی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے جس کے تحت ایک جانب پاکستان میں زراعت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب زرعی تحقیق کے قومی اداروں اور جامعات کو آن بورڈ لے چیلنجز کا مقامی سطح پرحل تلاش کیا جارہا ہے۔ سب سے اہم چیلنج فارم کی سطح پر معیار کو بہتر بنانا ہے جس کیلیے کاشتکاروں کی تربیت اور آگہی کی مہم جاری ہے جس میں پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔

زرعی شعبے میں جدید رجحانات کیلیے پاک گیپ سرٹیفکیشن کا آغاز دنیا میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے معروف بین الاقوامی ادارے سی اے بی آئی کے اشتراک سے کیا جائے گا۔ اس مقصد کیلیے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ، پی ایف وی اور سی اے بی آئی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت طے پاچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ اور پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی کوششوں سے پاکستانی آم اور کینو کے لیے چین کی وسیع منڈی کھل رہی ہے۔

چین نے پاکستان سے کینو اور آم کے ساتھ مختلف اقسام کی بیریز اور چاول کی درآمد میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے چین نے پاکستان سے کینو، آم اور چاول کی درآمد کیلیے فارمز اور پیک ہاؤسز پراسیس فیکٹریوں کا معائنہ کرنے کے لیے اپنے معائنہ کار بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اب پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے یورپی یونین کے لیے آم اور کینو کے باغات کی رجسٹریشن کے عمل کے نتائج دیکھتے ہوئے چین نے پاکستانی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے معائنے اور رجسٹریشن کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

اسی طرح پاکستان سے چین کو 10کروڑ ڈالر مالیت کے سرسوں کے بیج برآمد کیے جاتے تھے تاہم چین نے 2سال سے سرسوں کے بیج کی درآمد بھی بند کردی تھی تاہم اب پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے چینی حکام کو پاکستان مدعو کیا ہے تاکہ سرسوں کے بیج کی پیداوار، پراسیسنگ اور قرنطینہ جانچ کے عمل کا معائنہ کرکے سرسوں کے بیج کی ایکسپورٹ بھی بحال کرائی جاسکے۔

سرٹیفکیشن کے لیے اسٹاف کی بھرتیوں کی سفارش ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے حکومت کو ارسال کردی گئی ہے جس کی ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کی فنانس کمیٹی نے منظوری دے دی ہے اور بورڈ کی منظوری کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اسی طرح کراچی، لاہور، ملتان اور پشاور میں پیک ہاؤسز کی کامن فیسلیٹی کے قیام کا منصوبہ بھی ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ بورڈ کو جمع کرایا جاچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آم اور کینو کے باغات کو بیماریوں سے پاک کرنے کے لیے صوبائی سطح پر ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بالخصوص کینو کے باغات میں بیماری کا مسئلہ خطرناک شکل اختیار کرچکا ہے فارم کی سطح پر معیار کی بہتری کے لیے کاشتکاروں کو بھی فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ملک میں بیماریوں سے پاک پھلوں کی پیداوار کیلیے صوبوں کو پیسٹ فری زون قائم کرنا ہوں گے جہاں پروگریسیو فارمنگ کے ذریعے خدشے کے شکار پھلوں کی کاشت کی جاسکے۔

مقبول خبریں