عالمی میڈیا کانفرنس کا شاندار اختتام

10 سال کے دوران 100 سے زائد صحافیوں کے قتل نے پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں شامل کیا ہے


Editorial May 05, 2015
متذکرہ میڈیا کانفرنس پاکستان کے سافٹ اور مثبت امیج کے حوالہ سے یادگار رہے گی۔ فوٹو : محمد عظیم

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے تحت منعقدہ سہ روزہ عالمی میڈیا کانفرنس کا اختتام منی پاکستان میں ایک مشترکہ اعلامیہ اور اہل صحافت کے ملکی نمایندوں و غیر ملکی مندوبین کے اس خوش کن پیغام سے ہوا کہ ''دنیا کو بتائیں گے پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔'' ادھر دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آزادی صحافت کا دن منایا گیا ، اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے پی ایف یو جے کے زیر اہتمام مظاہرہ کیا گیا، ملک کے چاروں صوبوں میں صحافتی تنظیموں نے ریلیاں نکالیں اور تقریبات کا انعقاد کیا۔ بلاشبہ کراچی میں عالمی میڈیا کانفرنس کا انعقاد لائق تحسین ہے۔

جس کے آئینہ میں پاکستان کا مثبت امیج پہلی بار دنیا کے سامنے پیش کرنے کی تعمیری اور فکر انگیز کوشش کی گئی اور جو اس امر کی نوید ہے کہ پاکستان میں ہر طرح کے عالمی ایونٹس ہوسکتے ہیں، جب کہ دشت صحافت اور ورکنگ جرنلسٹس کو درپیش گراں بار مسائل کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ان کو حل کرے، جب کہ کانفرنس کے شرکا نے مشترکہ طور پر کہا کہ آئی ایف جے، پی ایف یو جے، اور دیگر ممالک کی صحافتی تنظیموں کے درمیان رابطہ بڑھایا جائے گا۔

تاہم کانفرنس کے اس نکتہ کو نمایاں کیا گیا کہ 10 سال کے دوران 100 سے زائد صحافیوں کے قتل نے پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں شامل کیا ہے، صحافیوں کی ایک غیر منافع بخش عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ بھی چشم کشا ہے، جس کے مطابق نے بھارت کو دنیا میں آزادی صحافت کے حوالے سے 136ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ 1992 سے اب تک سب سے زیادہ166 عراق جب کہ بھارت میں 34 صحافی مارے گئے۔ رپورٹ اسکینڈی نیوین ممالک آزادی صحافت کے حوالہ سے اس فہرست میں سب سے آگے ہیں۔

انٹرنیشل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں 14 صحافی شہید ہوئے، اسی روز وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے قابل توجہ خطاب کیا اور کہا کہ آئین کا تقاضا ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں، عدلیہ پر تنقید نہ کی جائے۔ کراچی میں اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام ''ادب اور اہل قلم کا پرامن معاشرے کے لیے کردار'' پر کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ آئین کی پاسداری تمام سیاسی جماعتوں کی ترجیح ہونی چاہیے۔

امید کی جانی چاہیے کہ ارباب اختیار چوتھے ستون کے استحکام ملکی اقدار اور آزاد میڈیا کے تقاضوں کے حوالہ سے ہر قسم کے تحفظات سے بالاتر ہوکر صحافت اور اہل سیاست کے درمیان تعمیری تنقید کا خندہ پیشانی سے خیرمقدم کریں گے۔ بہر حال متذکرہ میڈیا کانفرنس پاکستان کے سافٹ اور مثبت امیج کے حوالہ سے یادگار رہے گی۔