اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کی ریکارڈ تعداد

شام اوریوکرین جیسےتنازعات کےسبب اپنےگھربارسےمحروم ہوکراندرون ملک نقل مکانی پرمجبورافراد کی تعداد38ملین تک پہنچ گئی ہے


Editorial May 08, 2015
دنیا کی طاقتور اقوام کی ذمے داری ہے کہ وہ ان ممالک میں امن قائم کرنے کی کوشش کریں۔ فوٹو : فائل

GUJRANWALA: جنیوا میں قائم اندرون ملک نقل مکانی کے مانیٹرنگ مرکز ''آئی ڈی ایم سی''(انٹرنل ڈسپلیسمنٹ مانیٹرنگ سینٹر) کی جانب سے گزشتہ روز شایع کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام اور یوکرین جیسے تنازعات کے سبب اپنے گھر بار سے محروم ہو کر اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور افراد کی تعداد 38 ملین (یعنی تین کروڑ اسی لاکھ) تک پہنچ گئی ہے جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ واضح رہے ان بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بعض چھوٹے ملکوں کی آبادی کے برابر ہے۔

ادھر ہمارے وطن عزیز میں بھی دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے نتیجے میں بھی لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے تھے جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ ان میں سے بیشتر کی اپنے گھروں کو واپسی مکمل ہو گئی ہے۔ اس سے قبل سوات اور جنوبی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کی بخیر و خوبی واپسی عمل میں لائی جا چکی ہے جس پر ہمارے ارباب اختیار اپنے احساس ذمے داری کے باعث تحسین کے مستحق ہیں۔

تاہم عالمی منظر نامہ بہت تشویشناک ہے۔ آئی ڈی ایم سی کی رپورٹ کے مطابق شام اور یوکرین سے ایک کروڑ دس لاکھ باشندے محض گزشتہ برس بے گھر ہو کر اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پچھلے سال شام اور یوکرین میں روزانہ بنیادوں پر تیس ہزار سے زاید باشندے اندرون ملک نقل مکانی کرتے رہے ہیں۔ جو اب تک ایک نسل کی مجبوراً نقل مکانی کے بد ترین اعداد و شمار ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عالمی طاقتیں معصوم شہریوں کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2013ء کے آخر تک دنیا بھر میں بطور مہاجر رہنے والوں کی تعداد 16.7 ملین یا ایک کروڑ سٹرسٹھ لاکھ ہے۔ عراق اور سوڈان کے علاقے دارفر سے بے گھر ہونے والوں کی تعداد عروج پر رہی۔ نئے آئی ڈی پیز پانچ ممالک میں سامنے آئے جن میں عراق' جنوبی سوڈان' شام' کانگو اور نائیجیریا شامل ہیں۔ شدید ترین متاثر ملک عراق رہا جہاں 2.2 ملین یا بائیس لاکھ لوگوں نے اندرون ملک ہجرت کی۔ شام کی مجموعی آبادی کا چالیس فیصد بے گھر ہو چکا ہے۔

یہ تمام آئی ڈی پیز اپنے ملکوں میں ہونے والی جنگوں کے نتیجے میں گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے جہاں اپنے ہم وطنوں کی قتل و غارت کے لیے ترقی یافتہ اور مہذب کہلوانے والے ممالک کا اسلحہ استعمال ہو رہا ہے جن کی اسلحہ ساز فیکٹریاں تین شفٹوں میں چوبیس گھنٹے چل رہی ہیں اور اپنے ملکوں کے قومی خزانوں کو لبالب بھرتی چلی جا رہی ہیں۔دنیا کی طاقتور اقوام کی ذمے داری ہے کہ وہ ان ممالک میں امن قائم کرنے کی کوشش کریں۔

جہاں خانہ جنگی بدترین شکل اختیار کر چکی ہے ۔عراق ،شام ،کانگو اور نائیجیریا اس کی بدترین مثالیں ہیں۔یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ طاقتور اقوام جھگڑوں کو ختم کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پسماندہ ملکوں میں طاقتور گروہ قتل و غارت شروع کر دیتے ہیں۔بڑی طاقتیں چاہیں تو خانہ جنگی زدہ ملکوں میں امن قائم ہو سکتا ہے۔