پاک مالدیپ تعلقات میں پیش رفت

مالدیپی حکمرانوں اور عوام کی پاکستان سے محبت اور علاقائی و عالمی امور پر یکساں موقف اور برادرانہ چاہت لائق تحسین ہے


Editorial May 09, 2015
مالدیپ پاکستان کی انوسٹمنٹ فرینڈلی پالیسی سے بدلتے ہوئے اقتصادی حالات اور پاک مالدیپ دوستی کے آئینہ میں ہمہ جہت استفادہ کر سکتا ہے۔ فوٹو : پی آئی ڈی

GALLE: پاکستان اور مالدیپ نے منشیات اسمگلنگ کی روک تھام، کھیل، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیے جب کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مضبوط تعلقات ہیں جنھیں مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں، پاکستان ہمسایوں سے بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ جمعرات کو پاکستان اور مالدیپ کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔

مالدیپ اگرچہ آبادی و علاقائی محیط کے حوالے سے ایشیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے تاہم جو چیز اسے ممتاز کرتی ہے وہ اس کا خوبصورت محل وقوع اور بحر ہند و بحیرۂ عرب کے سنگم پر واقع ہونا ہے، اس کے ایک طرف بھارت اور دوسری انتہا پر سری لنکا ہے۔ مالدیپی حکمرانوں اور عوام کی پاکستان سے محبت اور علاقائی و عالمی امور پر یکساں موقف اور برادرانہ چاہت لائق تحسین ہے۔ مالدیپ کے پاکستان سے تعلقات ہمیشہ سے مثالی رہے ہیں، صدر ممنون حسین سے ایوان صدر میں اپنی ملاقات پر صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ سیکیورٹی کونسل میں مستقل رکنیت کے معاملہ میں دونوں ملکوں کا موقف یکساں اور دو طرفہ حمایت پر مبنی رہیگا۔

معاہدوں پر دستخط کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے پاکستانی وفد کی جب کہ مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم نے مالدیپ کے وفد کی قیادت کی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مالدیپ اور پاکستان کے درمیان مضبوط تعلقات کے مزید مستحکم ہونے اور دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافہ کے لیے طے پانے والے معاہدات پر پوری توجہ اور شفافیت کے ساتھ عملدرآمد کیا جائے، نیز جہاز رانی، سیاحت، دفاع، منشیات و انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔ مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مالدیپ کا مخلص دوست ثابت ہوا، ہم بنیادی ڈھانچے، دفاع اور سماجی ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے، توقع ہے کہ دورہ پاکستان باہمی تعاون کی نئی راہیں ہموار کرے گا۔

علاوہ ازیں مالدیپ کے صدر سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی اور ماحولیاتی ایشوز پر مالدیپ کی تشویش سے آگاہ ہے اور سارک کے زیرانتظام مالدیپ کے ساتھ ان ایشوز پر دوطرفہ تعاون کا خواہاں ہے۔ 2009 میں انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں بم دھماکے کے بعد مالدیپی طلبا و طالبات نے جس استقامت اور بے خوفی سے انتظامیہ کی جس قدر معاونت کی اس کے پیش نظر حکومت پاکستان نے ان طلبا کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان کے وطن روانگی میں ہر ممکن سہولت مہیا کی۔ مالی مالدیپ کا دارالحکومت ہے۔

اسے کنگ آئی لینڈ کا مرتبہ حاصل ہے کیونکہ تاریخی اعتبار سے زعمائے حکومت اسی مقام پر سرکاری رہائشیں رکھتے ہیں۔ مالدیپ پاکستان کی انوسٹمنٹ فرینڈلی پالیسی سے بدلتے ہوئے اقتصادی حالات اور پاک مالدیپ دوستی کے آئینہ میں ہمہ جہت استفادہ کر سکتا ہے جب کہ مختلف اقتصادی اور سماجی شعبوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ خیرسگالی کے قابل تقلید جذبات و احساست کے ساتھ مزید آگے بڑھ سکتے ہیں۔