برطانوی انتخابات میں حکمران پارٹی کی جیت

انتخابات سےقبل تجزیہ نگاروں کی توقع تھی کہ گزشتہ انتخابات کی طرح اس مرتبہ بھی کوئی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکےگی


Editorial May 10, 2015
تھریسا مے بدستور وزیر داخلہ، فلپ ہیمنڈ وزیر خارجہ اور مائیکل فالن وزیر دفاع رہیں گے۔ فوٹو : فائل

برطانیہ کے عام انتخابات میں برسراقتدار کنزرویٹو پارٹی نے اکثریت حاصل کر لی ہے اور ملکہ الزبتھ نے ڈیوڈ کیمرون کی مزید 5 سال تک وزیراعظم رہنے کی توثیق کر دی ہے۔ لیبر پارٹی، لبرل ڈیموکریٹک اور یو کے انڈی پینڈنٹ پارٹی بدترین شکت سے دوچار ہوئیں جب کہ اسکاٹ لینڈ کی آزادی کی حامی اسکاٹش نیشنل پارٹی تیسری بڑی جماعت بن گئی۔

لیبر پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم کے امیدوار ایڈ ملی بینڈ نے اپنی نشست جیتنے کے باوجود اپنی پارٹی کی شکست کی ذمے داری خود قبول کرتے ہوئے پارٹی کی قیادت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یوکے انڈی پینڈنٹ پارٹی کے نک کلیگ اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ بھی پارٹی عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

برطانوی انتخابات میں اگرچہ کافی اپ سیٹ بھی دیکھنے میں آیا لیکن ہمارے وطن عزیز کے عمومی انتخابی رواج کے بر عکس کسی طرف سے دھاندلی کا کوئی الزام سامنے نہیں آیا اور شکست کھانے والوں نے بڑے حوصلے سے اپنی شکست کو قبول کیا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی موجودہ مخلوط حکومت میں ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ شامل تھی تاہم اب ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی کنزرویٹو پارٹی کی اکثریتی حکومت قائم کریں گے۔

پاکستانی قارئین کے لیے یہ بات فرحت و انبساط کا باعث ہو گی کہ برطانوی انتخابات میں فتح حاصل کرنے والوں میں 10 پاکستانی نژاد اراکین بھی شامل ہیں۔ بھارتی اخبار ہندو کے مطابق دس بھارتی نژاد برطانوی شہری بھی برٹش پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہو گئے ہیں حالانکہ برطانیہ میں مقیم بھارتی باشندوں کی تعداد پاکستانیوں سے کئی گنا زیادہ ہے نیز برصغیر کی تقسیم سے بہت پہلے بھی بعض بھارتی نژاد اراکین برطانوی پارلیمنٹ کے رکن رہے ہیں۔گزشتہ روز ہونے والے انتخابات میں برطانوی عوام نے ووٹ سے بڑے بڑے برج الٹ دیے ہیں۔

سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کے بیٹے انس سرور سمیت لیبر پارٹی کے رہنما ایڈ بیلز، جارج گیلووے اور کئی دیگر اہم رہنما الیکشن ہار گئے۔ برطانوی پارلیمنٹ جسے دارالعوام کہا جاتا ہے کی نشستوں کی مجموعی تعداد ساڑھے چھ سو ہے جس میں سے حکمران کنزرویٹو جماعت نے تین سو اکتیس نششتیں حاصل کیں ہیں جو اس کے لیے تنہا حکومت سازی کے لیے کافی ہیں۔

لیبر پارٹی کی نششتوں کی تعداد دو سو بتیس رہی۔ انتخابات میں حصہ لینے والی دیگر پارٹیوں میں یو کے انڈی پینڈنٹ، لبرل ڈیموکریٹک، اسکاٹس نیشنل پارٹی، گرین پارٹی سمیت بعض چھوٹی بڑی پارٹیاں شامل تھیں۔ انتخابات سے قبل تجزیہ نگاروں کی توقع تھی کہ گزشتہ انتخابات کی طرح اس مرتبہ بھی کوئی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی اور مخلوط حکومت معرض وجود میں آئے گی لیکن تمام تر دعوؤں، تجزیوں کے برعکس حکومتی پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ حکومت قائم کرنے کے لیے کسی بھی پارٹی کو تین سو چھبیس سیٹیں درکار ہوتی ہیں۔

جب کہ کنزرویٹو پارٹی تین سو اکتیس سیٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی۔ علیحدگی پسند اسکاٹش نیشنل پارٹی چھپن، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی آٹھ اور یوکے آئی پی صرف دو سیٹیں حاصل کر سکی۔ اعداد و شمار کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کی حمایت میں تئیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جارج گیلووے جو پاکستانی عوام میں کافی مقبول ہیں کو پاکستانی نژاد ناز شاہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈیوڈ کیمرون نے اپنی سیٹ جیتنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انتخابی وعدوں کو پورا کیا جائے گا۔

اب لبرل ڈیمو کریٹس کے ساتھ اتحاد کی ضرورت نہیں۔ ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ ہمیں قوم پرستی کی لہر نے ڈبو دیا ہے۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے نئی کابینہ میں خارجہ، داخلہ، خزانہ اور دفاع کے موجودہ وزرأ کو برقرار رکھا ہے لیکن وزیر خزانہ جارج اوسبرن کو فرسٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ قرار دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ وزیر اعظم کے نائب ہوں گے۔

تھریسا مے بدستور وزیر داخلہ، فلپ ہیمنڈ وزیر خارجہ اور مائیکل فالن وزیر دفاع رہیں گے۔ یوں دیکھا جائے تو نئے الیکشن کے بعد بھی برطانیہ کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں میں تسلسل رہے گا اور برطانیہ کی عالمی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہونے کے امکانات خاصے کم ہیں۔