جامعہ کراچی میں میڈیکل کالج اور اسپتال کے قیام کی منظوری 14 شعبوں کے سربراہوں کا تقرر

سینڈیکیٹ نے ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری‘‘کی بااثر اور طاقتور انتظامیہ کے خلاف تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی


جامعہ کا طبی کالج اوراسپتال ڈاکٹر نادرا پنجوانی ٹرسٹ کے تحت قائم ہوگا، فوٹو: ایکسپریس/فائل

SEOUL: جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ نے یونیورسٹی کیمپس کی سیکیورٹی جزوی طور پر نجی سیکیورٹی کمپنی کے حوالے کرنے کی منظوری دیدی ہے اور تجرباتی طور پر ابتدا میں یونیورسٹی کے تمام دروازوں پر اسلحہ بردارنجی سیکیورٹی گارڈز تعینات کیے جائیں گے جن کی تعداد 18 ہوگی نجی سیکیورٹی گارڈکی خدمات کے حصول کے لیے باقاعدہ ٹینڈر دیا جائے گا۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر کی صدارت میں کی سینڈیکیٹ کااجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں 14شعبہ جات میں نئے صدور کی تقرریوں کی منظوری بھی دی گئی جس کے مطابق شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن میں شبیب الحسن، فارماسیوٹکس میں حارث شعیب، فزیکل ایجوکیشن میں باسط انصاری، تاریخ اسلام میں زبیراحمد، فزکس میں الطاف حسین، بزنس اسکول میں دانش صدیقی، انگریزی میں فرحانہ وزیر خان، ارضیات میں شاہد نسیم، جغرافیہ میں جمیل کاظمی، فارماکگنوسی میں محتشم حسن، ابلاغ عامہ میں محمود غزنوی، جرمیات میں فتح محمد برفت، کامرس میں طاہرعلی خان اوربائیلوجیکل ریسرچ سینٹر میں تبسم محمود کی تقرری کی منظوری دی گئی۔

ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے بورڈآف گورنرزمیں نمائندہ سینڈیکیٹ کے طورپرپروفیسرحارث شعیب جبکہ اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں انیس زیدی اورثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے بورڈآف گورنرزمیں محسن علی کونامزدکیاگیاجبکہ بورڈ برائے اعلیٰ تعلیم وتحقیق کے لیے سینڈیکیٹ کے نمائندوں کے طورپرپروفیسرجمیل کاظمی اورپروفیسرحارث شعیب کوانتخاب کے ذریعے نامزدکیاگیا،سینڈیکیٹ کے اجلاس میں طویل بحث کے بعدڈاکٹرنادراپنجوانی ٹرسٹ کی جانب سے پیش کیے گئے میڈیکل کالج اوراسپتال کے قیام کے منصوبے کو اصولی طور پر منظور تو کرلیا گیا تاہم سینڈیکیٹ کے ایک رکن سرداریاسین ملک کے اعتراض پراس کی حتمی منظوری نہیں ہوسکی۔

سردار یاسین ملک کاکہنا تھا کہ چونکہ وہ گزشتہ سینڈیکیٹ میں شریک نہیں ہوسکے لہذا اس منصوبے سے واقف نہیں ہیں جس کے بعد طے کیا گیا کہ اس سلسلے میں کمیٹی انھیں بریفننگ دے گی جس کے بعدوائس چانسلر بحیثیت چیئرمین سینڈیکیٹ اسے منظورکرلیں گے جس کے سبب میڈیکل کالج کے قیام میں مزیدکچھ تاخیرکا امکان ہے، واضح رہے کہ اس کمیٹی کے کنوینر پرنسپل سیکریٹری برائے گورنرسندھ محمد حسین سید کی مصروفیات کے سبب پہلے ہی میڈیکل کالج کی رپورٹ تاخیر سے یونیورسٹی انتظامیہ کوموصول ہوئی تھی اوروائس چانسلر سینڈیکیٹ کے اجلاس سے ایک روز قبل تک اس رپورٹ کے منتظر تھے۔

علاوہ ازیں سینڈیکیٹ کے اجلاس میں سن 2010میں اس وقت کے قائم مقام وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرناصرخان کی جانب سے سینئر اور جونیئر اکاؤنٹنٹس ،سینئراورجونیئراکاؤنٹس کلرکس اورریزیڈنٹ آڈیٹرکی اپ گریڈیشن کے معاملے کوبحث کے بعد مسترد کردیا گیا جبکہ گریڈ 17، 18 اور 19 میں کام کرنے والے 37 کنٹریکٹ افسران کی ملازمت کی مستقلی کو19اپریل کو مشتہر اسامیوں کے سلیکشن بورڈمیں شرکت اور اسے پاس کرنے سے مشروط کیاگیا اورکہا گیاکہ اگریہ افسران سلیکشن بورڈپاس نہیں کریں گے توان کے کنٹریکٹ میں مزیدتوسیع نہیں ہوگی واضح رہے کہ وائس چانسلرکے پاس ایک بار کنٹریکٹ ملازمین کی ملازمت میں توسیع کااختیارہوتاہے جبکہ یہ ملازمین سابق انتظامیہ کے دورسے تعینات ہیں۔

ایچ ای جے کی بااثرانتظامیہ کیخلاف تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی

جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ نے انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی کے ادارے ''ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری''کی بااثر اور طاقتور انتظامیہ کے خلاف تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی،یہ تحقیقاتی کمیٹی ملازمین کی جانب سے ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ کے خلاف مسلسل آنے والی شکایات کے بعد قائم کی گئی ہے ،کمیٹی میں گورنرسندھ کے پرنسپلز سیکریٹری محمد حسین سید، لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نوشاد شیخ اور پروفیسرحارث شعیب کوشامل کیا گیا ہے، ادھر جامعہ کراچی کے ملازمین کے ایک گروپ نے سینڈیکیٹ کے اجلاس کے دوران ایچ ای جے کی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا،واضح رہے کہ اس سے قبل وائس چانسلرکے احکام پر رجسٹرار کی جانب سے ایچ ای جے کی انتظامیہ کے خلاف ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی تاہم اس کمیٹی نے کام ہی نہیں شروع کیا۔

مقبول خبریں