عدلیہ کا تقدس ہر شے پر مقدم

دنیا بھر کے مہذب اور جمہوری معاشروں میں عدالتی احترام اور اس کے فیصلوں کی حرمت پر کوئی دو رائے نہیں ہوتی


Editorial May 12, 2015
انتخابی دھاندلی اور بے ضابطگی کے درمیان فرق کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ سیاسی جماعتیں انتخابی اصلاحات کو یقینی بنائیں۔ فوٹو : فائل

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ این اے 122 میں93 ہزار ووٹ غیرتصدیق شدہ ہیں جعلی نہیں، دھاندلی کا فیصلہ نہ تو نادرا نے اور نہ ہی میڈیا نے کرنا ہے، ٹریبونلز کا کام ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی زبان بندی کریں، وزیر داخلہ نے بجا کہا کہ یہ ٹیکنیکل ایشو ہے ۔ وہ اتوار کو پنجاب ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

وزیر داخلہ نے اپنی پریس کانفرنس میں بلاشبہ بعض اہم اور حساس امور پر اظہار خیال کیا ہے ، انھوں نے صائب مشورہ دیا کہ آئینی دائرہ میں کام کیا جائے تو بہتر ہے، ادھر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے بھی اس انداز نظر پر صاد کیا کہ حلقہ این اے 122 کے عدالتی فیصلہ سے قبل تبصرے مناسب نہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیا بھر کے مہذب اور جمہوری معاشروں میں عدالتی احترام اور اس کے فیصلوں کی حرمت پر کوئی دو رائے نہیں ہوتی ، عدالتی تقدس ہر چیز پر مقدم سمجھا جاتا ہے چنانچہ انتخابی دھاندلی یا بے ضابطگیوں پر دائر درخواستوں کی سماعت جاری ہو تو فریقین یا کسی جانب سے بلاجواز تبصروں یا مقدمات پر بالواسطہ یا بلاواسطہ اثرانداز ہونے کی کوشش ہر گز نہیں ہونی چاہیے ۔

میڈیا کی آزادی اور ایک آزاد عدلیہ کے آدرش ہم سب کے لیے اہمیت کے حامل ہیں تاہم عدالتی معاملات میں رائے زنی کرتے ہوئے جوڈیشل ایکٹیوازم کے بھی کچھ تقاضے ہیں جن کا خیال ہر سیاسی جماعت اور اہل دانش کو رکھنا چاہیے جب کہ الیکشن ٹریبونلز کے فیصلوں یا سماعتی دورانئے میں تنازع کے فریقین کوحد درجہ احتیاط برتنی چاہیے۔ نادرا کی جانب سے ہفتہ کو الیکشن ٹریبونل میں حلقہ این اے 122 سے جمع کرائی جانے والی فرانزک رپورٹ کے مطابق بیلٹ پیپرز کی بڑی تعداد کے کائونٹر فوائلز پر لگائے گئے انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

جس پر وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ غیر تصدیق شدہ ووٹ جعلی نہیں ، اس لیے ٹریبونلز فریقین کو چیک کرائیں۔ یوں معاملہ کی نزاکت اور حساسیت کے پیش نظر دیکھنا چاہیے کہ 2013 ء کے انتخابی عمل کی تحقیقات ایک با اختیار کمیشن کے پہلے ہی سپرد ہے، جس کی کارروائی جاری ہے، ادھر پیر کو سپریم کورٹ نے حلقہ این اے 125 اور پی پی 155سے متعلق الیکشن ٹریبونل کے فیصلہ کو معطل کردیا ۔

اس تناظر میں لازم ہے کہ عدلیہ کے تکنیکی معاملات پر ''لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام'' کا رویہ اختیار کیا جائے ، انتخابی دھاندلی اور بے ضابطگی کے درمیان فرق کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ سیاسی جماعتیں انتخابی اصلاحات کو یقینی بنائیں ۔ لہٰذا اس ضمن میں اہل سیاست کو عدلیہ کے تقدس کی خاطر مناظرہ ، بیان بازی اور پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کا بس مشورہ ہی دیا جاسکتا ہے۔