شدید قلت آب کا سامنا

پانی ذریعہ حیات ہے لیکن گرمی کے موسم میں شدت آنے کے ساتھ ہی ملک بھر کے عوام پانی کی شدید قلت کا سامنا کررہے ہیں


Editorial May 12, 2015
دریا سوکھتے جارہے ہیں، مناسب حکمت عملی سے بارشوں و سیلاب کا پانی ذخیرہ کرکے اس بڑھتے مسئلے کی سنگینی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ فوٹو : فائل

پانی کی قدر ایک پیاسا ہی سمجھ سکتا ہے، لق و دق صحرا میں جہاں دور دور تک پانی کا نام و نشان نہ ہو وہاں ریت کے چمکتے ذرے ہلکورے لیتے پانی کا سراب دکھاتے ہیں، لیکن صحراؤں سے دور ترقی یافتہ متمدن علاقے جہاں نہ صرف انسانی بستیاں آباد ہیں بلکہ شہری و دیہی علاقوں کی تقسیم کے ساتھ منظم ادارے پانی کی تقسیم کا کام سرانجام دے رہے ہیں وہاں کے رہائشی بھی پانی کے سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور پانی ہے کہ ہاتھ نہیں آرہا۔

پانی ذریعہ حیات ہے لیکن گرمی کے موسم میں شدت آنے کے ساتھ ہی ملک بھر کے عوام پانی کی شدید قلت کا سامنا کررہے ہیں، خاص کر شہری علاقوں میں پانی کی شدت قلت ہے۔ کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں پانی کی قلت نے شہریوں کو بلبلانے اور احتجاج پر مجبور کردیا ہے، پانی کے ترسے پرامن شہری گھروں سے باہر سڑکوں، چوراہوں پر احتجاج پر مجبور ہیں۔ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور سیاست کی نذر ہونے سے معاملہ سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے، پانی جیسی نعمت خداوندی کو کاروبار اور پیسہ بنانے کی سوچ نے بحران کو مہمیز دی ہے۔

وہ پانی جو بلاتعطل شہریوں کو فراہم کیا جاتا تھا، اب نلکوں سے غائب ہے لیکن شہری حیران ہیں کہ شہر میں چلنے والے ہائیڈرنٹس اور ٹینکر مافیا کو پانی کی مستقل فراہمی جاری ہے جو مفت ملنے والے پانی کے فی ٹینکر 3 سے 5 ہزار روپے شہریوں سے وصول کررہے ہیں۔ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جس علاقے میں پانی فراہم نہیں ہورہا اسی علاقے کے ہائیڈرنٹس پانی سے کیسے فیضیاب ہورہے ہیں؟ شہری علاقوں سے دور دیہی علاقوں کی حالت بھی تسلی بخش نہیں۔ سب سے بڑا نہری نظام رکھنے والے ملک پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے۔

ٹیل کے علاقوں میں پانی بالکل نہیں پہنچ پاتا جس کے باعث زمینیں بنجر ہوتی جارہی ہیں۔ صحیح منصوبہ بندی کے فقدان اور غیردانشمندانہ فیصلوں نے قلت آب کو جنم دیا ہے۔

دریا سوکھتے جارہے ہیں، مناسب حکمت عملی سے بارشوں و سیلاب کا پانی ذخیرہ کرکے اس بڑھتے مسئلے کی سنگینی کو ختم کیا جاسکتا ہے لیکن ڈیم بنانے کے معاملے کو سیاست اور لسانیت کی بھینٹ چڑھا کر پاکستان کے عوام کو سزا دی جارہی ہے، دوسری جانب پڑوسی ملک پاکستان کے دریاؤں کا پانی روک کر اپنی شرانگیزی اور شاطرانہ چال کا مظاہرہ کررہا ہے۔ اگر اب بھی ارباب اختیار نے عقل کے ناخن نہ لیے تو انجام دردناک ہوگا۔