گرمی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ

گرمیوں کا ابھی آغاز ہے اور ملک بھر میں غیر اعلانیہ بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے


Editorial May 13, 2015
ذرایع وزارت پانی و بجلی کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب 15200جب کہ پیداوار 11000میگاواٹ ہے، فوٹو:فائل

گرمیوں کا ابھی آغاز ہے اور ملک بھر میں غیر اعلانیہ بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ شہروں میں 8 جب کہ دیہات میں14گھنٹے کے لیے بجلی بند کی جاتی رہی، ذرایع وزارت پانی و بجلی کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب 15200جب کہ پیداوار 11000میگاواٹ ہے ، 4200میگاواٹ کا شارٹ فال ہونے سے تقسیم کار کمپنیوں کو لوڈ شیڈنگ کے سرکاری شیڈول پرعمدرآمد کروانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا بحران برسوں سے جاری ہے ۔ماضی کی جمہوری حکومت بھی پانچ برس بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کوششیں کرتی رہی لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ لوڈشیڈنگ میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہوسکی۔ اب موجودہ حکومت نے گزشتہ دو برس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کا افتتاح کر رہے ہیں لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ پورے ملک میں جاری ہے ۔کہیں کم ہے اور کہیں زیادہ۔ کراچی میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے ۔کراچی میں پانی کا جو بحران پیدا ہوا ہے اس میں بھی بجلی بند ہونے کا عنصر شامل ہے۔

بلاشبہ حکومت اس معاملے میں پلک جھپکتے کچھ نہیں کر سکتی تاہم اسے بجلی کی تقسیم کے حوالے سے ایسا میکنزم تیار کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں باقاعدہ شیڈول کے تحت بجلی بند ہو ۔بھارت کے کئی علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے لیکن وہاں ایک ٹائم مقرر ہے اور اس ٹائم پر بجلی بند ہوتی ہے اور اپنے مقررہ ٹائم پر بجلی آتی ہے ۔پاکستان کی صورت حال مختلف ہے یہاں بعض اوقات اچانک بجلی بند ہو جاتی ہے اور بعض اوقات کئی کئی گھنٹے بجلی نہیں آتی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے ایک فول پروف میکنزم تیار کرے۔