بلدیہ حیدرآباد افسران کی من مانیاں جاری تنخواہوں کی رقم ٹھیکیدار کو دیدی

ٹی ایم اے سٹی کے نئے ایڈمنسٹریٹرکو بھی بے خبر رکھا گیا، ملازمین 3ماہ کی تنخواہوں سے محروم، گھروں میں فاقے


Numainda Express October 12, 2012
ٹی ایم اے سٹی کے نئے ایڈمنسٹریٹرکو بھی بے خبر رکھا گیا، ملازمین 3ماہ کی تنخواہوں سے محروم، گھروں میں فاقے

ٹائون میونسپل ایڈمنسٹریشن سٹی حیدرآباد کے محکمہ فنانس نے نئے ایڈمنسٹریٹر و میونسپل آفیسر کی تقرری کے بعد بھی ان کے علم میں لائے۔

بغیر ملازمین کی تنخواہ کی مد میں آنے والے آکٹرائے ضلع ٹیکس کے شیئر میں سے ٹھیکیدار کو لاکھوں روپے کی ادائیگی کر دی جبکہ او زی ٹی شیئر پہلے ہی30 فیصد کٹوتی کر کے بھیجا گیا تھا جس پر ملازمین میں اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے ٹی ایم اے کی عمارت میں جمع ہوکر نااہل افسران کیخلاف نعرے لگائے۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صدر غلام محمد قریشی نے کہا کہ سٹی ٹائون کو نقصان پہنچانے والے افسران کیخلاف کارروائی کی جائے، ملازمین3 ماہ کی تنخواہ سے محروم ہیں، جس کے باعث وہ معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ جنرل سیکریٹری اکرم راجپوت نے کہا کہ چند افسران نے تحصیل کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

جو دن بدن خوشحال اور ملازمین بدحال ہو رہے ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ نئے ایڈمنسٹریٹر کیساتھ نئے افسران تعینات کیے جائیں اور کرپٹ افسران سے لوٹی ہوئی دولت واپس لی جائے۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے8 ستمبر کو تمام بلدیاتی اداروں کو اکائونٹ استعمال نہ کرنے اور صرف ملازمین کو تنخواہیں دینے کی ہدایت کی تھی اس کے باوجود بھاری کمیشن کے عوض ٹھیکیداروں کو لاکھوں روپے کی مسلسل ادائیگی کی جا رہی ہے جبکہ بلدیہ کے30 فیصد اسٹاف کو تاحال جولائی اور سو فیصد اسٹاف کو اگست اور ستمبر کی تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔

مظاہرے کے اختتام پر سی بی اے کے3 رکنی وفد نے سٹی ٹائون کے ایڈمنسٹریٹر عابد محمود قریشی سے ملاقات کی اور اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے افسران کے رویے پر تحفظات کا اظہار کیا اور4 افسران کو فوری طور پر ان کے عہدے سے فارغ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ دوسری جانب ڈی او فنانس محمد خالد عثمان خان نے رابطہ کرنے پر اس الزام کی تردید کی کہ انھوں نے ٹھیکیدار ریحان ناغڑ کو 21 لاکھ روپے کا چیک دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں بے قصور ہیں ان سے مذکورہ خالی چیک عید الفطر سے قبل سابق ایڈمنسٹریٹر کاشف صدیقی نے لے لیے تھے اور اب وہی چیک بینک سے کیش ہوا ہے جبکہ ہم نے بینک کو لیٹر بھی دیا ہوا تھا کہ حکومت سندھ کی ہدایت کی روشنی میں صرف ملازمین کی تنخواہیں ہی جاری ہو سکتی ہیں۔