کراچی میں دہشت گردی کچھ سوالات

منی پاکستان کے مکینوں اور ملک کے تمام محب وطن لوگوں کو ایک شدید اجتماعی ذہنی دھچکا لگا ہے۔


Editorial May 15, 2015
سنگدل ٹارگٹ کلرز کے اندر سے یہ ہمدردی کہاں سے آئی کہ انھوں نے بس کے 45 مسافروں میں سے دو بچوں اور ایک ضعیف خاتوں کو زندہ چھوڑدیا ۔یہ ہمدردی تھی یا مستقبل کی کرمنل اسٹرٹیجی؟

لاہور: حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن تیز کرنے، کالعدم تنظیموں کے کارندوں اور دہشت گردوں کے معاونین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ بدھ کو گورنر ہاؤس کراچی میں وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، سابق صدر آصف زرداری، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیراعلیٰ قائم علی شاہ، ایم کیو ایم کے فاروق ستار، ڈی جی آئی ایس آئی، آئی جی پولیس سندھ، ڈی جی رینجرز سندھ اور دیگر سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے پر جتنا بھی دکھ کا اظہار کیا جائے کم ہے، سانحہ صفورا معاشی ترقی کے خلاف عالمی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ دشمنوں کا ایجنڈا ہے کہ کوئی بھی ایسی چیز نہ ہو جس سے ملک ترقی کرے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان کو فون کر کے کراچی میں دہشتگردوں کے بس پرحملے میں بے گناہ افراد کی ہلاکتوں پر افسوس اور دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ پاک فوج اس واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ قبل ازیں جنرل راحیل شریف دورہ سری لنکا منسوخ کر کے ہنگامی طور پر کراچی پہنچ گئے تھے ۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون اور دیگر عالمی رہنماؤن اور یورپی یونین نے سانحہ کراچی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایک ٹی وی کے مطابق ترجمان یورپی یونین نے کہا ہے کہ پاکستان کو فرقہ وارانہ تشدد سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ ایسے پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ملکی سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو بھی اس سانحے نے شدید صدمہ سے دوچار کیا۔ملک بھر میں سوگ منایا گیا۔پرنس کریم آغا خان نے اسے سنس لیس تشدد قراردیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی میں دہشتگردی کی ہولناک واردات نے کراچی آپریشن کو کئی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں ۔ منی پاکستان کے مکینوں اور ملک کے تمام محب وطن لوگوں کو ایک شدید اجتماعی ذہنی دھچکا لگا ہے ۔ ایک کراچی بچا تھا جو اپنی رواداری ، پاکستانیت اور کشادہ دلی سے پہچانا جاتا تھا۔میڈیا سمیت عوامی اور سیاسی حلقوں میں اس سانحے کے حوالے سے ایک اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ اگر یہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے تو کیوںاور کیسے یہ ممکن ہوا کہ دہشت گرد ایک مشہور چوراہے کے قریب اسماعیلی کمیونٹی کی بس کو گھیرے میں لے کر قتل وغارتگری کریں ۔

اس دیدہ دلیری میں ان کو کچھ وقت تو لگا ہوگا، وہ واردات کے بعد کسی طرف موٹرسائیکلیں بھگا کے چلے بھی گئے تو راستے میں پولیس اور رینجرز فورس کو کہیں بھی ان کو پھڑکانے میں کامیابی نہیں ہوئی، ستم یہ کہ وہ جدید ترین اسلحے سمیت فرار ہوگئے، کیا قریب کی آبادیوں اور فلیٹوں میں رہنے والوں نے گولیوں کی آوازیں نہیں سنی تھیں ،ان قاتلوں کو وحشت ناک انداز میں اپنی کمیں گاہوں میں واپس آتے کسی نے نہیں دیکھا، ان غیر ملکی کیمروں اور ان کی فوٹیج کا کیا ہوا جو شہر کے اہم چوراہوں اور سگنلز کے ساتھ آویزاں بتائے گئے، یہ ''جیو فینیسنگ'' اس سے قبل کتنی نتیجہ خیز ثابت ہوئی اور کتنے دہشت گردوں کے اصل ماسٹر مائنڈز ہاتھ لگے۔

اور وہ کب ختم ہوں گے؟ بلاشبہ کراچی میں آپریشن خاصی حد تک کامیاب ہے تاہم بعض حلقوں کے اس اندیشے کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ کراچی آپریشن کی بوجوہ سمت تبدیل ہوئی ہے، سینہ گزٹ چل رہا ہے کہ طالبان ، کالعدم تنظیموں دیگر خطرناک ٹارگٹ کلرز، کراچی میں موجود دہشتگردوں اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو پھانسی دینے کی حکمت عملی پر عملدرآمد سے زیادہ سیاسی حوالے سے کراچی آجکل ہدف پر ہے ۔ یہ بے چینی اسی کا سبب ہے۔ لازم ہے کہ تحقیق کی جائے۔ افسوس اس بات پر ظاہر کیا جاتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں ایسی ہولناک واردات کرنے والے پورا دن گزر جانے کے بعد بھی ہٹ نہیں ہوئے ، کہیں ان کا انکاؤنٹر نہیں ہوا، ظاہر ہے دہشت گردوں نے پیشگی پلان بنایا ہوگا، ایک جگہ جمع ہوئے ہوں گے ۔

ان کا بچ نکلنا لمحہ ندامت ہے۔ سنتے ہیں کہ کئی دہشت گرد پکڑے جاچکے ہیں، ان کے سہولت کار حراست میں ہیں ، پیش رفت کی روز خبریں ہیں مگر حالت یہ ہے کہ ان دعووں کے درمیانی وقفے میں کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہوجاتا ہے ۔ واضح رہے اسی گلشن جوہر کے قریب بدنام زمانہ ''سہراب گوٹھ ''میں سابق وزیراعلیٰ سید غوث علی شاہ نے کلین اپ آپریشن کیا تھا جس میں چڑیا کا بچہ بھی نہیں مارا گیا، اس وقت بھی منشیات کے اسمگلرز ، دہشت گرد گروپس اور لینڈ و کلاشنکوف مافیا کے ڈان چپکے سے غائب کردیے گئے تھے۔

سوال یہ بھی ہے کہ کیا ارباب اختیار ان کرمنل قوتوں کے خلاف کارروائی کی طاقت نہیں رکھتے جن سے دہشت گردی ، فرقہ وارانہ قتل ، بھتہ خوری ، بدامنی کے درجنوں واقعات منسوب ہیں ، کیا انھیں ان کے ٹھکانوں سے گھسیٹ کر قانون کے روبرو نہیں لایا جاسکتا ؟ اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو پھر اس کار جہاں دراز میں اس بے بسی و خرابئی بسیار کا انجام کیا ہوگا؟اگر ان کے لیے علاقے کا فوری محاصرہ ہوتا تو پانسہ پلٹ سکتا تھا۔ یہ سارے سوالات دہشت گردی کے خاتمے اور کراچی کی مافیاؤں کو انجام تک پہنچانے کے نیک نیتی پر مبنی دعوؤں کی عوام عملی تعبیر مانگتے ہیں اور فوری مانگتے ہیں ۔

ملک میں اب تک جتنے واقعات ہوئے ان میں ممکنہ طور پر ملوث ،ملزمان کے خاکے بنائے گئے، اشہاریوں کے بارے میں اطلاع دینے والوں ،گینگ وار کے مرکزی قیمتی سر والے ملزمان اور ٹارگٹ کلرز کی جے آئی ٹی رپورٹوں کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن حالیہ جنونی اور بزدلانہ حرکت کے محرکات کیا تھے، سنگدل ٹارگٹ کلرز کے اندر سے یہ ہمدردی کہاں سے آئی کہ انھوں نے بس کے 45 مسافروں میں سے دو بچوں اور ایک ضعیف خاتوں کو زندہ چھوڑدیا ۔یہ ہمدردی تھی یا مستقبل کی کرمنل اسٹرٹیجی؟