سندھ صنعتی زمین کروڑوں کے واجبات وصول کیے بغیر ہی ریگولرائز کردی گئی

نئے مالکان کے نام بھی ٹرانسفر،کئی پلاٹس ریکوری کے بغیرلیزکردیے گئے،قرض کے لیے مارگیج کی این اوسی بھی جاری


Kashif Hussain October 13, 2012
نئے مالکان کے نام بھی ٹرانسفر،کئی پلاٹس ریکوری کے بغیرلیزکردیے گئے،قرض کے لیے مارگیج کی این اوسی بھی جاری فوٹو :فائل

سندھ میں سرکاری صنعتی زمین کروڑوں روپے واجبات کی ریکوری کے بغیرہی ریگولرائز کردی گئی جسے وصولیوں کے بغیر ہی مزید 38 حصوں میں تقسیم کرکے نئے مالکان کے نام ٹرانسفر کردیا گیا۔

متعدد پلاٹس کو ریکوری کے بغیر نہ صرف لیزکردیاگیابلکہ بینکوں سے قرض کیلیے مارگیج کی این اوسی بھی جاری کردی گئی ہے۔کرپشن اورسرکاری اثاثوں کی بے دریغ بندربانٹ کا یہ کارنامہ سائٹ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائٹ لمیٹڈ) میں 2005اور 2006کے درمیان رونما ہوا جس کی ریکوری 7سال گزرنے کے باوجودآج تک مکمل نہ ہوسکی اورنہ ہی کروڑوں روپے مالیت کے چیک غائب کرنیوالے افسران اوربوگس چیک دینے والے پلاٹ مالکان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

کروڑوں روپے کے واجبات کی وصولی اورچیک کے مبینہ غبن کے باوجود 38حصوں میں تقسیم کرکے ٹرانسفر کی جانے والی 22ایکڑ اراضی کا پلاٹ (نمبر D-67 )سائٹ سپر ہائی وے میں واقع ہے جسے 12اکتوبر ب2005میں ریگولرائز کیا گیا اس پلاٹ کے پریمیم اور مارک اپ کی مد میں 9کروڑ71لاکھ 28ہزار 280 روپے، رینٹ،ڈیولپمنٹ چارجزاوررینٹ پر پینلٹی کی مد میں 9 لاکھ 28ہزار 529 روپے کے واجبات ہیں۔

سائٹ لمیٹڈ کے ریکارڈکے مطابق پلاٹ کے پارٹ پیمنٹ کیلیے 13 اکتوبر 2005کو جمع کرایاگیا ایک کروڑ 65 لاکھ روپے مالیت کا چیک نمبر MNC-8839140 رسید نمبر 8102کے تحت وصولی کیاگیاجس کی وصولی اورتصدیق سائٹ سپرہائی وے کے اکائونٹ افسرظفرحسین اورڈائریکٹر فنانس چوہدری عبدالمجید نے کی اس چیک کے بائونس ہونیکی ریورس انٹری بھی سائٹ کے ریکارڈ میں موجود ہے لیکن چیک کے بائونس ہونے کی اطلاع پلاٹ کی ادائیگی کرنیوالے کو نہیں دی گئی،اگلے سال 13مارچ 2006کودوبارہ ایک کروڑ 65 لاکھ روپے کی رقم کاچیک رسید نمبر8502کے ذریعے وصول کیا گیا تاہم یہ چیک سائٹ لمیٹڈ کے اکائونٹ میں جمع نہیں کرایا گیا اوراس رقم کو بھی ایڈمن ڈپارٹمنٹ میں وصول شدہ قراردے دیاگیا۔

حیرت انگیزطور پرکروڑوں روپے کے واجبات کی وصولی کے بغیر ہی پلاٹ کو 38سب پلاٹس میں تقسیم کرکے ٹرانسفر کردیا گیا اور اصل اور مجموعی پریمیم اورچارجز سے کم کی وصولیاں شروع کردی گئیں۔ سائٹ کے ریکارڈ کے مطابق 38پلاٹوں سے اب 6کروڑ 60لاکھ روپے وصول کیے جا رہے ہیں جس میں سے 2 کروڑ 22لاکھ روپے وصول کیے جاچکے ہیں جبکہ مزید 4 کروڑ 37لاکھ روپے کی وصولیاں باقی ہیں۔ 38پلاٹس کے واجبات کی مد میں جمع کرائے گئے متعدد چیکس بھی بائونس اور ڈس اونر ہوچکے ہیں تاہم متعدد پلاٹس کو ایک پیسہ وصول کیے بغیر ہی نہ صرف لیز کردیا گیا بلکہ بینکوں میں رہن رکھنے کیلیے این او سی بھی جاری کیے جاچکے ہیں ان پلاٹوں کے مالکان نے ان پلاٹس کو بینکوں میں بطور رہن رکھتے ہوئے بھاری مالیت کے قرضے بھی حاصل کرلیے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ایک پارٹی کو ادائیگی کے باوجود نوٹس کے اجرا پر پارٹی کی جانب سے اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ سے رجوع کرنے کے بعد سائٹ لمیٹڈ میں ہلچل مچی ہوئی ہے تاہم سرکردہ افسران مبینہ غبن اور دھاندلی میں ملوث افسران کو بچانے کیلیے سرگرم ہیں یہی وجہ ہے کہ مذکورہ افسران کو محکمہ جاتی لیٹر روانہ کیے جانے کے باوجود کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔سائٹ لمیٹڈ کے ریکارڈ کے مطابق سائٹ سپر ہائی وے پر 22ایکڑ پلاٹ کے پریمیم اور دیگرواجبات کی مد میں وصول ہونیوالا ایک کروڑ 65لاکھ روپے کا چیک بائونس ہوگیا جس کی سرکاری ریکارڈ میں انٹری ہونے کے باوجود بائونس ہونیوالے چیک کی وصولی کیلیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے بعد ازاں اتنی ہی مالیت کا ایک اور چیک بینک میں جمع کرانے کے بجائے غائب کردیا گیا چیک کی بازیابی اور رقم کی وصولی کیلیے تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں