اور کتنے آنسو بہائیں گے

اس ملک کو دہری شہریت والوں سے نجات بھی ملے گی اور ان لوگوں سے بھی جن کا مال اور اولاد ملک سے باہر ہیں


Abdul Qadir Hassan October 13, 2012
[email protected]

بیٹی ملالہ یوسف زئی کو نیم قتل کیا گیا ہے تو ہماری حکومت نے فوراً ہی اعلان کر دیا ہے کہ ہمیں قاتلوں کا پتہ ہے۔

اس طرح بے نظیر کے سانحے پر بھی حکومت کے اداروں نے اپنی معلومات کا اسی طرح اعلان کیا تھا۔ یہ ایک بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہمارے جاسوسی اور تفتیشی ادارے اس قدر مستعد اور لائق فائق ہیں کہ ادھر کوئی جرم ہوتا ہے اور ادھر انھیں مجرموں کا پتہ چل جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی خوبی اور صلاحیت ہے جو شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ملک کے پاس ہو ورنہ ہم نے دنیا کی بڑی بڑی وارداتوں کے بارے میں یہی سنا کہ ملزموں کی تلاش جاری ہے اور ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کس نے کیا ہے۔

یہ نالائق لوگ ایسے ہیں جیسے کسی چوپال پر گاؤں میں ہونے والی ایک چوری کی تفتیش جاری تھی اور ہر کوئی صرف اندازے ہی لگا رہا تھا کہ ایک طرف سے ایک بڑے نے آواز دی کہ چپ کرو میں بتاتا ہوں۔ سب خاموش ہو کر چاچا کی بات کا انتظار کرنے لگے، اس نے ذرا ٹھہر کر کچھ سسپنس بناتے ہوئے کھانس کر سب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال اور عمر بھر کے تجربے کے مطابق یہ ضرور کسی چور کی واردات ہے۔ بات تو ہماری بھی ایسی ہی ہوتی ہے لیکن نوکری پکی کرنے کے لیے ہم ذرا آگے بڑھ کر بات کرتے ہیں۔

ملالہ کے سانحے کے بارے میں تو ہم نے یہ تک دعویٰ کیا کہ ہم اس کے مجرموں کے نام تک جانتے ہیں۔ اس قابل اطمینان بلکہ قابل رشک صورت حال کے بعد تو ہم نے اب تک ملزموں کو پکڑ لیا ہوتا کیونکہ کوئی بھی ملزم ریاست سے زیادہ طاقتور نہیں ہوتا۔ اگر ہمارے ریاستی عمائدین اور حکام نامزد ملزموں کو بھی نہیں پکڑ سکتے تو وہ استعفیٰ دے دیں یا اپنی دہری شہریت کے مطابق اپنے اصل وطن کو چلے جائیں۔ کیونکہ دہری شہریت حاصل کرنے کا جو معاہدہ اور حلف ہوتا ہے اس میں صاف صاف غیر مبہم اور قطعاً واضح انداز میں لکھا ہوتا ہے کہ کوئی حلف بردار اب آیندہ سے اس نئے ملک کا شہری ہو گا، اس کی حفاظت میں ضرورت پڑی تو جان تک لڑا دے گا اور اگر اپنے سابقہ ملک کے خلاف لڑنا پڑے تو اس پر بخوشی تیار ہو گا۔ نئے ملک کے آئین اور قانون کی پابندی تو شرط اول ہے ہی۔

اس لیے میں عرض کر رہا تھا کہ دہری، دوغلی اور منافقانہ شہریت رکھنے والے پاکستانی آزاد ہیں کہ وہ پاکستان کی حکومت سے خوش خوش الگ ہو کر اپنے پسندیدہ ملک چلے جائیں جہاں انھیں باقی عمر گزارنی ہے۔ پاکستان محض دنیا کا ایک اور ملک نہیں، یہ ایک نظریاتی اور اسلامی تعلیمات کی خدمت اور ترویج کے لیے وجود میں آیا ہے۔ اس کا شہری تو دہری شہریت لے ہی نہیں سکتا۔ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اکہری اور صرف پاکستانی شہریت ہی اس ملک کے شہری ہونے میں شامل ہے اور شرط اول ہے۔ آپ امریکی' برطانوی یا کسی دوسرے غیر مسلم ملک کا شہری بن کر اسلامی تعلیمات اور اسلامی نظریئے کی کون سی خدمت کر سکتے ہیں۔

اس لیے علماء کا فتویٰ ہے کہ کسی مسلمان کو کسی غیر مسلم ملک میں مستقل قیام نہیں کرنا چاہیے تا آنکہ وہ کسی ملک کو مسلمان بنانے کے جہاد میں شامل ہو۔ بہر کیف بات چلی تھی کہ جو ہمارے تفتیشی اعلیٰ حکام دہری شہریت رکھتے ہیں اور پاکستان کو وہ تنخواہ اور دیگر مراعات کے بدلے میں صرف بیان دیتے ہیں وہ یہاں سے چلے جائیں اور کسی پرانے تھانیدار کو یہ فرض سونپ دیں جسے خود اور جس کی اولاد کو یہیں رہنا ہے۔ میں ذاتی طور پر حالات سے بہت پریشان اور مایوس ہوں لیکن اصلاح اور بچائو عین ممکن ہے مگر ہماری موجودہ سیاسی قیادت اس ملک کو بچانے کی اہل نہیں ہے۔ ہماری بدقسمتی کہ ہم فوج کو بھی ایک دو بار نہیں چار بار آزما چکے ہیں اور اسے کھلی چھٹی دے چکے ہیں۔ مگر وہ جب بھی اقتدار سے الگ ہوئی تو اپنے پیچھے اتنا گند چھوڑ کر گئی جس میں ہمارے سیاستدانوں نے کچھ اضافہ ہی کیا اس کی صفائی نہیں کی۔

مسلمان انیسویں صدی کے اول تک دنیا کی سپر پاور رہے اور استنبول سے ایک دنیا پر حکومت کرتے رہے۔ ان کی طویل حکومتی تاریخ میں غلط حکمران بھی آئے اور نقصان دہ پالیسیوں والے بھی لیکن مسلمان خود ہی ان کی اصلاح کرتے رہے اور انھوں نے مجموعی طور پر انصاف کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا جو اس ریاست کی بنیاد تھی۔ ان کے ہاں علماء بھی تھے اور صوفی بھی جو نصیحت اور ان کی گرفت سے باز نہیں آتے تھے۔ درباروں میں بادشاہوں اور خلیفوں کو ٹوکنا تو عام بات تھی۔ علماء اس تبلیغ کے عوض میں کوڑے بھی کھاتے اور قید و بند میں زندگی بھی گزار دیتے۔

علماء کے لیے اپنے نظریات کے لیے قربانی کا یہ عالم تھا کہ کسی نے یقین کے ساتھ کہا کہ اب ہماری بات کوئی مانے نہ مانے لیکن ہمارے جنازے ہماری بے گناہی کی شہادت دیں گے اور اس کا ثبوت دیں گے اور پھر تاریخ نے ان جنازوں میں ہجوم کا جو بیان کیا اس پر حیرت ہوتی ہے کہ دارالخلافہ کی مسجدیں بند اور جنازہ بھر گئی ۔ عرض یہ ہے کہ انھی برے مایوس کن حالات میں سے کئی مصلحین اٹھے اور انھوں نے حالات کو بدل دیا۔ پاکستان کو بھی اﷲ تعالیٰ برے سیاستدانوں اور علماء سُو سے نجات دے گا اور کوئی نہ کوئی ایسا ضرور آئے گا جو حالات کو یکسر بدل دے گا۔ حالات کتنے ہی بُرے اور مایوس کن ہوں، پاکستان کو دنیا کے نقشے پر قائم رہنا ہے۔ قدرت کو یہی منظور ہے۔ اس ملک کو دہری شہریت والوں سے نجات بھی ملے گی اور ان لوگوں سے بھی جن کا مال اور اولاد ملک سے باہر ہیں۔

اﷲ کا فرمان ہے کہ مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں۔ ایک جید سیاستدان اور طبقہ امراء کی ایک خاتون نے اس بارے میں کچھ ارشاد کیا ہے جس پر میں جلد ہی لکھوں گا۔ لیکن اس وقت میں، آپ، ہم سب پاکستانی اپنے بڑوں اور حکمرانوں سے پوچھتے ہیں کہ جب انھیں ملالہ یا بے نظیر کے قاتلوں کا پتہ ہے تو ان کو پکڑتے کیوں نہیں؟ بے نظیر کے لیے نعرے لگانے اور ملالہ کے لیے آنسو بہانے کا کیا مطلب، عمل نہیں کریں گے، اپنا فرض ادا نہیں کریں گے تو کس کس کے لیے بیانات دیں گے' تقریبات کریں گے اور کس کس کے لیے آنسو بہائیں گے۔

مقبول خبریں