شاہدآفریدی نے ورلڈ ٹوئنٹی 20 کیلیے پلان تیار کرلیا

مختاراحمد کی صورت میں بہترین اوپنرمل گیا،2 اچھے آل راؤنڈرزدرکار ہیں،کپتان


Sports Desk June 17, 2015
سلیکٹرزتجربات ابھی کرلیں، ایونٹ سے 4،5 ماہ قبل کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے فوٹو: ایکسپریس/فائل

شاہد آفریدی نے آئندہ برس بھارت میں شیڈول ورلڈ ٹوئنٹی 20 کیلیے پلان تیار کرلیا، پاکستانی کپتان کو ایونٹ کیلیے 2 اچھے آل رائونڈرزدرکار ہیں، ان کے مطابق مختار احمد کی صورت میں بہترین اوپنر مل گیا، سلیکٹرز پر واضح کردیا جو تجربات کرنے ہیں ابھی کرلیں۔

ایونٹ سے 4،5 ماہ قبل کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے، کیریئر کے اختتام سے قبل ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیل کردل خوش ہوگیا، چیمپئنزٹرافی میں رسائی سے زیادہ فکرڈومیسٹک نظام کی ہے، ملک میں غیرملکی ٹیموں کی عدم آمد کو اپنے لیے بہانہ نہیں بناسکتے، آل راؤنڈر نے ان خیالات کا اظہار ایک انٹرویو میں کیا۔ورلڈ ٹوئنٹی 20 آئندہ برس مارچ اپریل میں بھارت میں کھیلا جائیگا،اس طرز میں کپتان آفریدی 2009 کی طرح گرین شرٹس کو پھر سے چیمپئن بنانے کیلیے پُراعتماد ہیں، انھوں نے کہا کہ بطورکپتان مجھے میگا ایونٹ کی تیاریوں کیلیے 2 اچھے آل رائونڈرز اور ہارڈ ہٹرز کی ضرورت ہے ۔

ہمیں پہلے ہی ایک اچھا اوپنر مختار احمد مل چکا، میں نے سلیکٹرز کو اپنے پلان سے آگاہ کردیاکہ ہمارے پاس تجربات کا یہی وقت ہے، ایونٹ سے 4،5 ماہ قبل کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے۔ آفریدی نے ملک میں 6 برس بعد دورہ کرنیوالی پہلی ٹیسٹ ٹیم زمبابوے کیخلاف 2ٹوئنٹی 20 میچز میں بھی قیادت کی تھی، اس بارے میں انھوں نے کہاکہ یہ میرے لیے ایک بڑا موقع تھا کہ کیریئر ختم ہونے سے قبل ہوم کرائوڈ کے سامنے کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا، میں نے اس سیریز کا حصہ بن کر کافی لطف اٹھایا، کرائوڈ کی انٹرنیشنل کرکٹ کیلیے بے قراری دنیا بھر نے دیکھ لی۔

مجھے امید ہے کہ مزید ٹیمیں بھی اب پاکستان آئینگی۔ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی رسائی کے حوالے سے سوال پر آفریدی نے کہا کہ میرے لیے اس سے زیادہ فکرمندی کی بات ڈومیسٹک نظام ہے۔

اگرہم اسے بہتر بنا لیں تو انٹرنیشنل کرکٹ ویسے ہی بہتر ہونا شروع ہوجائیگی، ہمیں یہاں میچز نہ ہونے کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے، ہمارے سامنے جنوبی افریقہ کی مثال موجود ہے جس نے عالمی کرکٹ کے دروازے بند ہونے کے باوجود اپنے ڈومیسٹک کرکٹ کو انتہائی مضبوط بنائے رکھا جس کی وجہ سے پابندی ختم ہوتے ہی بہترین کھلاڑی سامنے آئے ، پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے، اس لیول پر انٹرنیشنل معیار کی سہولیات فراہم کرنے اور پروفیشنلزم لانے کی سخت ضرورت ہے۔