دھوپ سینکنے کے عمل سے ماں بننے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے ماہرین

سورج کی کرنیں خواتین کے بیضوں کو زیادہ بارآور بنادیتی ہیں، ماہرین


ویب ڈیسک June 19, 2015
ماہرین کے مطابق دھوپ سینکنے سے وٹامن ڈی اور خواتین کے بیضے زیادہ نمو پاتے ہیں جس سے حمل ٹھہرنے میں مدد ملتی ہے۔

لاہور: طبی ماہرین کے مطابق دھوپ سینکنے کے عمل سے خواتین کے ماں بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

لزبن میں ہونے والی تولید سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ جب دھوپ جلد پر پڑتی ہے تو اس سے وٹامن ڈی بنتا ہے جس کے بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین کی جانب سے ایسی خواتین پر تحقیق کی گئی جو فطری طریقے کی بجائے ٹیسٹ ٹیوب ( ان وٹرو فرٹیلائزیشن) کے ذریعے ماں بنی تھیں تاہم ماہرین کا اصرار ہے کہ دھوپ ان خواتین کے لیے بھی اہم ہے جو قدرتی طریقے کے ذریعے ماں بننا چاہتی ہیں۔

برطانیہ میں ایک تولیدی صحت کے مرکز کے ماہر کے مطابق بے اولاد خواتین کو مہنگی دوائیں، ہارمون اور کریموں کی ضرورت نہیں بلکہ اچھی غذا، سکون، مسرت اور سورج کی دھوپ کی ضرورت ہے تاکہ وہ ماں بن سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج کی کرنیں خواتین کے بیضوں کو زیادہ بارآور بنادیتی ہیں اس لیے اگر دھوپ سینکنے کا عمل جاری رکھا جائے تو کسی خاتون کے حاملہ ہونے کے امکانات ایک تہائی حد تک بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ اگر موسم گرم اور خشک ہو اور سورج کی بھرپور شعاعیں زمین تک آرہی ہوں تو اس موقع پر ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے بے اولاد خواتین کے ماں بننے کے امکانات 35 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔