حکومت کا جبری بھتہ
حکومت نے بینکوں سے 50 ہزار روپے سے زائد نکلوانے پر بجٹ میں 0.06 فی صد ٹیکس نافذ کیا
کہنے کو تو عوام کی منتخب حکومتوں کو عوامی حکومت کہا جاتا ہے جب کہ من مانیوں، عوام دشمنی، اقربا پروری، بد انتظامی اور کرپشن میں وہ آمرانہ حکومتوں سے بھی بدتر ثابت ہوتی ہیں مگر کہا جاتا ہے کہ بدترین جمہوری حکومت آمریت سے بہتر ہے، خواہ وہ اپنے عوام کا جینا حرام کر دے اور عوام پر ایسے ٹیکس بھی عائد کر دے جو عوام پر دنیا کے کسی بھی ملک میں عائد نہ ہوں۔
یہ کارنامہ وزیراعظم کے قریبی عزیز اور با اعتماد وزیر خزانہ نے کر دکھایا ہے جس پر عوام پریشان اور ملک بھر کے تاجر سراپا احتجاج ہیں اور یہ کالا قانون جسے تاجروں نے سرکاری بھتہ وصولی کا قانون قرار دیا ہے، وزیر خزانہ نے خاموشی سے پارلیمنٹ سے بھی منظور کرا لیا اور عوام کے منتخب نمایندوں نے اس پر احتجاج تک نہیں کیا اور خاموش تماشائی بنے رہے کیوں کہ ان کی جیبوں پر کوئی بوجھ نہیں پڑا بلکہ ان کی مراعات بڑھ گئی ہیں۔
حکومت نے کسی ٹیکس کے بغیر بینکوں سے 50 ہزار روپے تک نکلوانے کی اجازت کئی سال قبل اس وقت دی تھی جب 50 ہزار معقول رقم ہوا کرتی تھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ رقم بڑھا کر ایک لاکھ کر دی جاتی مگر عوام پر عوام کی حکومت نے ایسا وار کیا جس سے امیر ہو یا غریب سب تلملا اٹھے ہیں کیوں کہ دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہے جہاں عوام کی جمع پونجی سے بھی حکومت جبری ٹیکس وصول کرنے لگے۔ یہ کمال وزیر خزانہ نے حکومتی آمدنی بڑھانے کے لیے کیا جس کی ملک بھر میں مذمت کی جا رہی ہے اور عید کے بعد تاجر احتجاج اور شٹر ڈاؤن پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔
حکومت نے بینکوں سے 50 ہزار روپے سے زائد نکلوانے پر بجٹ میں 0.06 فی صد ٹیکس نافذ کیا جب کہ اس سے قبل 50 ہزار روپے سے زائد رقم کے چیک یا پے آرڈر پر کوئی ٹیکس نہیں تھا مگر وزیر خزانہ دور کی کوڑی لائے اور جبری ٹیکس لگا کر عوامی احتجاج پر یہ ٹیکس 0.06 فی صد سے 0.03 فی صد کرنے پر راضی ہو گئے گویا انھوں نے قوم پر یہ احسان کیا ہو مگر چند مفاد پرست چیمبرز کے عہدیداروں کے علاوہ ملک بھرکی تاجر برادری اور لوگوں نے یہ فیصلہ مسترد کر دیا اور حیران کن بات یہ ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں نے بھی اس حکومتی جبری بھتہ وصولی کے فیصلے پر احتجاج تک نہیں کیا اور خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
0.06 فی صد ٹیکس وصولی میں رعایت بھی مشروط ہے۔ وزیر خزانہ کو پتہ تھا کہ ایک لاکھ روپے کے چیک پر کوئی چھ سو روپے نہیں دے گا اس لیے تاجروں کے اس گروپ سے مذاکرات کیے گئے جو حکومت کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے جو اس جبری ٹیکس کو نصف کرنے پر راضی ہو گیا اور حکومت کو مفت میں ایک لاکھ پر تین سو روپے بطور جبری ٹیکس ملنے لگے ہیں۔
تاجروں اور عوام کے نزدیک یہ جبری ٹیکس نہیں بلکہ سرکاری جبری بھتہ ہے جو حکومت بینکوں کے ذریعے زبردستی وصول کر رہی ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں غریبوں کے پاس تو بچت کا تصور ہی ختم ہو چکا ہے کیوں کہ مہنگائی کے باعث غریب اور چھوٹے و درمیانی تنخواہ دار موجودہ آمدنی میں مشکل سے ہی گزارا کر پا رہے ہیں بلکہ گھر کی قیمتی اشیا فروخت کر کے گزارا کر رہے ہیں۔ مہنگائی بڑھا کر حکومت نے کم تنخواہ کے ملازمین کو کرپشن اور دکانداروں کو عوام کو لوٹنے پر مجبور کر رکھا ہے جب کہ کوئی ایسا سرکاری محکمہ باقی نہیں بچا جہاں کرپشن نہ ہو۔
اب تک ملک میں بجلی میں جو سرکاری لوٹ مار ہو رہی ہے وہ ہی عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے اور مہنگی بجلی خود چوری پر مجبور کرتی ہے اور بجلی کے بڑھتے نرخوں کے ساتھ بجلی کی چوری بھی بڑھ رہی ہے مگر حکومت نہیں سمجھتی۔ موجودہ دور میں غریب اپنا پیٹ کاٹ کر اور متوسط طبقہ بہ مشکل کچھ بچت کر پاتا ہے جب کہ حکومتی عہدیداروں، ارکان اسمبلی اور بڑے امیروں کے لیے مہنگائی کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ ساری عمر محنت کر کے کچھ سرمایہ جمع کرنے والے بزرگوں اور پنشن کی رقم سابق سرکاری ملازم بینکوں میں نفع کے لیے رقم جمع کرتے تھے جہاں اب منافع نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے جب کہ قومی بچت کے مراکز میں رش بڑھنے سے عملے کے نخرے بڑھ گئے ہیں۔
اس ملک میں 90 ملین گھروں کی کمی ہونے سے گھروں کے کرائے بے حد بڑھ چکے ہیں۔ گھروں کے کرائے اور بجلی کے بل ادا کرنے کے بعد لوگ تین کی بجائے دو بار کھانا کھاکر زندگی گزار رہے ہیں جن لوگوں نے اپنا گھر بنانے، پلاٹ خریدنے، بچوں کی شادی اور مہلک بیماریوں سے بچنے کے لیے مشکل سے بچت کر کے جو رقم بینکوں میں جمع کرا رکھی ہے وہ وزیر خزانہ کے نئے ٹیکس سے عذاب میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ چھوٹا پڑنے کی وجہ سے انھوں نے اپنا گھر فروخت کر کے دوسرا گھر خریدنے کا معاہدہ کیا۔
انھیں مکان فروخت کرنے اور ان کا مکان خریدنے والوں کا موقف درست ہے کہ ''قبضہ دو رقم لو'' نئے مکان کا قبضہ لینے کے لیے اپنے مکان کی رقم ملنے تک انھوں نے مختصر مدت کے لیے اپنے عزیزوں سے جو قرضہ لیا ہے اس کے چیکوں پر ٹیکس لگ گیا ہے جو قرضہ دینے والا تو نہیں بھرے گا بلکہ قرض لینے والے کو ہی یہ ٹیکس بھرنا پڑ رہا ہے۔ اپنے مکان کی رقم ملنے کے بعد جب وہ قرضہ واپس کریں گے اس پر بھی ٹیکس دینا ہو گا اور قرضہ لے کر جو رقم وہ نئے مکان کے مالک کو دیں گے اس پر بھی ٹیکس کٹے گا اور اس طرح انھیں تین جگہوں پر ہزاروں روپے بطور ٹیکس مفت میں حکومت کو دینے پڑ رہے ہیں۔
عوام کی منتخب حکومتیں عوام کو سہولیات اور مراعات دیتی ہیں مگر مسلم لیگ ن کی تیسری حکومت نے بھی اپنی عوام دشمن پالیسی ختم کرنے کی بجائے اس میں ایسا اضافہ کیا ہے کہ اس کی مثال دنیا کے کسی غریب سے غریب ملک میں بھی نہیں ملتی کہ عوام کی مشکل سے کی گئی بچت کے استعمال پر بھی 0.03 فی صد بینک ودہولڈنگ ٹیکس عائد کر دیا جائے۔ انکم ٹیکس و دیگر سرکاری ٹیکسوں میں تو ہیر پھیر اور چوری ہو سکتی ہے مگر بینکوں کے ذریعے جبری طور وصول کیے جانے والے ٹیکس سے کوئی نہیں بچ سکے گا اور غریب ہوں یا تاجر جو بھی بینک میں 50 ہزار روپے سے زائد کا چیک دے گا اس کے اکاؤنٹس سے یہ ٹیکس کٹ جائے گا۔
کوئی مکان خریدے تو اس کے لیے یہ ٹیکس عذاب بن جائے گا اور وہ ہزاروں روپے سے محروم ہو جائے گا۔ کسی کو بچوں کی شادی یا گھریلو اخراجات کے لیے رقم استعمال کرنا ہو تو وہ پہلے حکومت کو یہ ٹیکس ادا کرے گا اور اپنی حق کی محنت کی کمائی میں حکومت کو جبری طور لیا جانے والا یہ سرکاری بھتہ جب وہ دے گا تو ساتھ میں حکومت کو بد دعائیں بھی دے گا۔ اس حکومتی اقدام سے لوگ بینکوں سے لین دین محدود کر دیں گے اور گھروں میں رقم رکھیں گے تو انھیں ڈاکوؤں کا بھی خوف رہے گا اور جرائم بڑھیں گے مگر حکومت کی صحت متاثر نہیں ہو گی۔