بھارت میں اسپاٹ اور میچ فکسنگ پر سزا کے لیے قانون ہی موجود نہیں

ابھی تک کوئی ایسا قانون نہیں بنا جس میں کھیلوں میں اسپاٹ یا میچ فکسنگ قابل گرفت ہو،ایڈیشنل سیشنز جج


Sports Desk July 27, 2015
ابھی تک کوئی ایسا قانون نہیں بنا جس میں کھیلوں میں اسپاٹ یا میچ فکسنگ قابل گرفت ہو،ایڈیشنل سیشنز جج۔ فوٹو: فائل

آئی پی ایل فکسنگ کیس کی سماعت کرنے والی دہلی ٹرائل کورٹ کا کہنا ہے کہ ابھی تک بھارت میں کوئی ایسا قانون ہی نہیں بنا جس میں اسپاٹ اور میچ فکسنگ قابل گرفت جرائم میں شمار ہوں۔

ایڈیشنل سیشنز جج نینا بنسال کرشنا کا کہنا ہے کہ ایسا ہی ایک کیس 2000 میں بھی سامنا آیا تھا جس میں سابق کپتان اظہر الدین اور دیگر کے نام لیے گئے تھے، سی بی آئی کی جانب سے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی جس نے اپنی تحقیقات کے بعد کہا تھا کہ یہ کھلاڑی کسی بھی موجودہ قانون کی خلاف ورزی میں ملوث نہیں پائے گئے اور اب اتنے برس گزر جانے کے باوجود بھی صورتحال جوں کی توں ہے، ابھی تک کوئی ایسا قانون نہیں بنا جس میں کھیلوں میں اسپاٹ یا میچ فکسنگ قابل گرفت ہو۔ انھوں نے یہ بات آئی پی ایل فکسنگ کیس میں شری شانتھ، چھاون اور چنڈیلا کو بری کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہی۔