پٹیشن کی واپسی کے بعد عدالت سے باہر راضی نامے کا امکان

11ہزار بھیڑوں کی تلفی کا خدشہ، لائیو اسٹاک جانوروں کے مضرصحت ہونے کے مؤقف پر قائم


Business Reporter October 19, 2012
11ہزار بھیڑوں کی تلفی کا خدشہ، لائیو اسٹاک جانوروں کے مضرصحت ہونے کے مؤقف پر قائم ۔ فوٹو: فائل

آسٹریلیوی بھیڑیں درآمد کرنے والی پی کے لائیو اسٹاک اینڈ میٹ کمپنی کی جانب سے بھیڑوں کو بیمار قرار دے کر تلف کیے جانے کے اقدام کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں دائر کردہ پٹیشن واپس لیے جانے کے بعد ایک بار پھر 11ہزار سے زائد بھیڑوں کو تلف کیے جانے کا خدشہ لاحق ہوگیا ہے تاہم عدالت سے باہر راضی نامے کا امکان بھی موجود ہے۔

لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ کے ذرائع کے مطابق ڈپارٹمنٹ بھیڑوں میں بیماری پائے جانے کے اپنے مؤقف پر قائم ہے اور بحرین کے حکام کی جانب سے دفتر خارجہ کے ذریعے عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ اور اب درآمد کنندگان کی جانب سے پٹیشن واپس لیے جانے کے بعد لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ کے موقف کو تقویت مل گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ عدالت کی جانب سے تحریری فیصلے کا منتظر ہے اور فیصلے کے بعد ایک بار پھر بھیڑوں کو تلف کرنے کا عمل شروع ہوسکتا ہے۔

لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ کے ذرائع کے مطابق پٹیشن واپس لیے جانے کے بعد صورتحال اسی جگہ پہنچ گئی ہے جہاں سے تلف کیے جانے کا عمل شروع کیا گیا تھا تاہم کوئی بھی قدم عدالت کے فیصلے سے قبل نہیں اٹھایا جائے گا۔ صوبائی وزارت لائیو اسٹاک اب بھی اس مؤقف پر قائم ہے کہ بھیڑوں سے سندھ میں مویشیوں کی بیماری پھیل سکتی ہے جو مویشیوں کے ساتھ انسانوں کی صحت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ ادھر بھیڑیں درآمد کرنے والی کمپن کے ترجمان نے بھیڑوں کی تلفی روکنے کے لیے دائر کردہ پٹیشین واپس لیے جانے کی وجوہ بتانے اور باقی بھیڑوں کے مستقبل کے بارے میں موقف دینے سے یکسر انکار کردیا ہے۔

دو روز قبل درآمد کنندگان کی جانب سے مخصوص صحافیوں سے ملاقات میں سندھ حکومت اور میڈیا کے خلاف دیے جانے والے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے جس میں درآمد کنندہ نے عدالتی فیصلے کا انتظار کیے بغیر سندھ حکومت کے متعلقہ افسران اور بھیڑوں کی درآمد کے دوران سنگین بے قاعدگیوں کی رپورٹس شائع کرنے والے صحافیوں کے خلاف فیصلہ صادر کرتے ہوئے انھیں نقصان کا ذمے دار قرار دیا اور کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس بیان کے شائع ہونے کے بعد درآمد کنندہ کے رزاق آباد میں واقع فارم ہائوس کی تعمیرات کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کارروائی کے لیے متعلقہ محکمے کو حرکت میں لایا گیا اور اگلے روز ہی درآمد کنندہ نے اپنی پٹیشن واپس لے لی۔

مقبول خبریں