جھوٹ کا دوسرا نام
سیاست کا کبھی احترام تھا اور یہ مال بنانے کی بجائے عوام کی خدمت کا ذریعہ تھی
سیاست کا کبھی احترام تھا اور یہ مال بنانے کی بجائے عوام کی خدمت کا ذریعہ تھی اور بعض رہنما سیاست کو بھی عبادت کا درجہ دیتے تھے اور کسی مفاد کے بغیر جو سیاست کی جاتی تھی اس میں اقربا پروری، ذاتی مفادات کے حصول، اپنوں کو نوازنا، ناجائز ذرایع اور سیاست کے ذریعے کروڑوں پتی اور اربوں پتی بننے کا کوئی تصور نہیں تھا۔
ہمارے ملک کے قیام کے بعد ہماری سب سے بڑی بد قسمتی یہ تھی کہ آزادی کے ایک سال بعد ہی پاکستان اپنے بانی اور پہلے گورنر جنرل قائد اعظم سے محروم ہو گیا اور ملک میں حصول اقتدار کی سیاست اور ریشہ دوانیاں شروع ہوئیں اور پہلے وزیر اعظم کی شہادت نے ساری کسر پوری کر دی۔
پاکستان اپنے قیام کے بعد اپنے بچپن ہی میں تھا کہ سیاسی مفاد پرستی نے جنم لیا، اقتدار کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جانے لگیں، چند ماہ میں حکومتیں تبدیل ہونے لگیں جس سے بیوروکریٹ غلام محمد نے فائدہ اٹھایا اور خود سیاست دانوں نے جمہوریت کو مستحکم نہیں ہونے دیا۔ غلام محمد کے بعد اسکندر مرزا پہلے صدر بنے اور 1956ء کے آئین کو دو سال ہی گزرے تھے کہ سیاست دانوں کی اپی حماقتوں سے 27 اکتوبر 1958ء کو قیام پاکستان کے 11 سال بعد ہی ملک کو پہلے مارشل لا کا منہ دیکھنا پڑا۔
سیاست دان ہمیشہ جمہوریت کو آمریت سے بہتر قرار دیتے ہیں اور بد ترین جمہوریت کو بھی آمریت پر ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ نام نہاد جمہوریت ہی سے سیاست دانوں کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں اور وہ کبھی اپنی گندی سیاست، اپنے مکروہ عزائم، سیاسی حماقتوں، سیاسی مفادات، سیاسی انتقام اور کی جانے والی کرپشن کو برا نہیں سمجھتے اور جس چیز کو برا سمجھا ہی نہ جائے وہ درست کیسے ہو سکتی ہے۔
سیاست دان اور سیاسی پارٹیاں چاہتی ہیں کہ جب وہ اقتدار میں ہوں تو وہ خود کو ملک اور صوبوں کو مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہونا چاہیے۔ کہیں سے کسی بھی قسم کی مداخلت ہو نہ کوئی ان کے کاموں میں رکاوٹ ڈالے اور دیگر جماعتیں ان کی مخالفت نہ کریں اور میڈیا جی حضوری میں لگا رہے ایسا تو آمریت میں بھی ممکن نہیں ہو سکتا۔ فوجی حکومتوں کی بھی مخالفت ہوتی رہی ہے، نام نہاد جمہوریت کے حکمرانوں کی بادشاہت کون تسلیم کرے گا۔
سیاسی حکومتیں اور حکمران یہ بھی چاہتے ہیں کہ فوج ان کی تابعدار اور اعلیٰ عدالتیں خاموش تماشائی بنی رہیں اور ہمیں اپنی مدت من مانیوں کے ذریعے پوری کرنے دی جائے اور اگر ہم خراب ہوئے تو آیندہ الیکشن میں عوام ہمیں خود ہی مسترد کر دیں گے جیسا زرداری کے دور میں ہوا اور 5 سال من مانیاں کر کے وہ ملک میں مسترد تو ہو گئے مگر پھر بھی منصوبہ بندی کے تحت سندھ کا اقتدار ان کے پاس ہی رہا۔ مگر ملک کو ان پانچ سال کی حکمران اور من مانیوں کی جو قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے اس کا جواب کس سے مانگا جائے؟
پیپلز پارٹی نے جو کچھ کیا اس کا حساب اگر (ن) لیگ کی حکومت لے تو وہ سیاسی انتقام قرار دے دیا جاتا ہے اور میثاق جمہوریت میں دونوں پارٹیاں طے کر چکی ہیں کہ انھیں مدت پوری کرنے دی جائے، ملک کا بیڑا غرق ہو تو ہو۔ ملک میں ہمیشہ مارشل لا سیاسی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے لگے۔ پی پی حکومت کے 5 سال کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں بھی دو سال میں جو کچھ ہوتا رہا وہ ماضی سے زیادہ مختلف نہیں، وفاقی حکومت اور وزیر اعظم کے متعدد فیصلوں کو سپریم کورٹ نے غلط قرار دیا اور من مانی نہیں چلنی دی، سندھ میں سات سال سے لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کا بازار گرم تھا۔
اس کا مزید عروج نیب اور ایف آئی اے سے برداشت نہ ہوا اور انھوں نے سندھ میں ایکشن لیا تو پی پی حکومت اور اس کے رہنما سنگین الزامات عائد کر رہے ہیں، وزیر اعظم کو بھی خبردار کیا جا رہا ہے اور بندوق کی طاقت پر بھی تنقید ہو رہی ہے مگر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ سندھ میں جو ہو رہا ہے اس کی ڈور کہیں اور سے ہل رہی ہے جن کو وزیر اعظم بھی نہیں روک سکیں گے اور عوام بہت خوش ہیں۔
چند سالوں سے ملک میں انصاف کا بول ضرور بالا ہوا ہے اور اعلیٰ عدالتوں میں انصاف کرنے والوں نے اپنے فیصلوں سے حکمرانوں کو نالاں بھی کیا ہوا ہے اور ایسے میں تحریک انصاف کو بھی پذیرائی ملی ہے۔
عوام کو توقع تھی کہ تحریک انصاف سچائی کو فروغ دے گی مگر ملک کی جمہوریت اس مقام پر آ چکی ہے جہاں سچائی چھوڑ کر جھوٹ کو سیاست میں اہمیت اور ترجیح دینا پڑتی ہے۔ ملک میں سچائی پسپائی اختیار کر کے جھوٹ کو فروغ دیا جا چکا ہے۔ صدر آصف علی زرداری اپنی حکومت میں کسی کرپشن کو ماننے کو تیار ہی نہ تھے اور انھوں نے جھوٹے دعوؤں میں 5 سال گزار دیے اور اب اپنے دور کی کرپشن پر سیخ پا ہو رہے ہیں۔
(ن) لیگی رہنما چند ماہ میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعویدار تھے مگر دو سال میں جھوٹے دعوے دھرے رہ گئے۔ دو سال میں عوام کی حالت تو نہ بدلی مگر لیگیوں کی حالت ضرور بہتر ہوئی ہے۔ وفاق اور پنجاب میں اقتدار کے باعث ضمنی الیکشن میں کامیابیاں بھی مل رہی ہیں مگر عوام جھوٹ سچ کا حساب 2018ء میں ضرور لیں گے۔
تحریک انصاف سے سچائی اور عمران خان سے دو بڑی پارٹیوں جیسی جھوٹ کی سیاست نہ کرنے کی توقعات تھیں مگر اب انھوں نے بھی اپنی سیاست میں جھوٹ کو شامل کر لیا ہے کیونکہ انھیں بھی اقتدار سچ بول کر ملنے کی امید نہیں رہی اور اسی لیے اب انھوں نے جھوٹ کو تحریک انصاف کا مشن بنا لیا ہے۔
انھیں 2015ء میں عام انتخابات نظر آ رہے تھے اب نہیں آ رہے اور 2014ء میں نواز شریف کا استعفیٰ لے کر ہی اسلام آباد سے لوٹنا تھا مگر لوٹ آئے اور اب نواز شریف اور آصف علی زرداری جیسی سیاست پر مجبور ہیں جہاں سچائی کا کبھی دخل نہیں رہا۔ ملک کو کبھی جھوٹ سے پاک سیاست نصیب ہو گی یا نہیں یہ سوال بے کار ہو چکا کیونکہ اب سیاست جھوٹ کا دوسرا نام ہے۔