پی آئی اے پروازوں میں مسافروں کو ناقص کھانے کی فراہمی کا انکشاف

پی آئی اے اس وقت 226ارب روپے کا مقروض ہے اورسالانہ 26ارب روپے کانقصان اٹھانا پڑتا ہے


Numaindgan Express September 04, 2015
اسلام آبادایکسپریس وے توسیعی منصوبے پرکام روکنے کی ہدایت،ماحولیاتی تحفظ ایکٹ میںترمیم کی تجویز، 2بل موخر فوٹو: فائل

ISLAMABAD: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ میںپی آئی اے کی پروازوں میں مسافروں کو ناقص کھانوں کی فراہمی کا انکشاف ہوا ہے۔

کمیٹی کااجلاس رکن اسمبلی پروین مسعود بھٹی کی زیر صدارت پی آئی اے بلڈنگ میںمنعقدہوا۔کمیٹی نے سول ایوی ایشن کی طرف سے کارگوچارجزکی مدمیں قومی خزانے کو 671.39 بلین روپے کا نقصان پہنچانے کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پربرہمی کا اظہار کیا۔

کمیٹی نے ہربین الاقوامی اوراندرون ملک پرواز پر مسافر سے بالترتیب ایک ہزار اور300روپے کی وصولی کے معاملے پر غور بھی آئندہ اجلاس تک موخرکردیااورپی آئی اے پروازوں میںغیرمعیاری خوراک اوردیگر سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی سیکریٹری سول ایوی ایشن محمد علی گردیزی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی آئی اے نے 320 کے 9طیارے خرید لیے ہیں جبکہ 4مزید عنقریب آنیوالے ہیں۔

پی آئی اے اس وقت 226ارب روپے کا مقروض ہے اورسالانہ 26ارب روپے کانقصان اٹھانا پڑتا ہے،مینجمنٹ ایک بینک سے قرضہ لے کردوسرے بینک سے ری شیڈول کراتی ہے ماہانہ13ارب روپے سودکی مد میں اداکرنے پڑتے ہیں۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق رکن کمیٹی مریم اورنگزیب نے انکشاف کیاکہ پروازوں میں غیرمعیاری کھانے دیے جاتے ہیں۔

ارکان کمیٹی پی آئی اے میںناقص سہولتوں پھٹ پڑے اورکہاکہ کرایے آئے روز بڑھادیے جاتے ہیں، لوگوں نے پی آئی اے میںسفرکرناچھورڈیاہے۔کمیٹی نے پی آئی اے کے ملازمین کی تنخواہوں، مراعات میںاضافے اورٹیکس میںچھوٹ کی تجویزمستردکردی۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایک ماہ کے اندر پی آئی اے کارگو میں 671.39ملین بے ضابطگیوںکی انکوائری مکمل کرکے رپورٹ فراہم کریں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے چیئرمیں سینیٹر محمد یوسف بادینی نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کوہدایت کی کہ وہ اسلام آبادایکسپریس وے توسیعی منصوبے پرجاری کام روک دیں، مجاز ادارے سے این اوسی لیے بغیرکام شروع کرناغیرقانونی ہے۔کمیٹی نے ماحولیاتی آلودگی کوقابوکرنے سے متعلق ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کومزیدبااختیار بنانے کیلیے ماحولیاتی تحفظ ایکٹ میںترمیم کی تجویزدی تاکہ آلودگی کا سبب بننے والوں کوسخت سزائیں دی جاسکیں۔

کمیٹی نے وفاقی سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی سے سابق ڈائریکٹرجنرل ای پی اے ڈاکٹرخورشید احمدکے خلاف مالی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائزاستعمال سے متعلق الزامات پرجاری انکوائری کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔کمیٹی نے تجویزدی کہ وفاق سمیت چاروں صوبوں،گلگت بلتستان،آزادکشمیر،اورفاٹا میںموسمیاتی تبدیلی سے متعلق موادتعلیمی نصاب میں شامل کرنے کے اقدام کریں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئر مین چوہدری محمد بشیر ورک کی سربراہی میں ہوا۔کمیٹی نے پارلیمنٹ میں اقلیتوں کی نشستوں میں اضافہ کرنے کا مجوزہ بل غورکے لیے اصلاحات کمیٹی کو بھیج دیا ہے جبکہ نیب آرڈیننس میں ترمیم کے بل پر مزیدغور محرک کی عدم موجودگی کے باعث موخر کردیا۔

مقبول خبریں