سیاسی اور فوجی مقبولیت
اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے دبئی میں کہا ہے کہ جنرل راحیل کی مقبولیت سے کسی کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے
ISLAMABAD:
سابق صدر پرویز مشرف کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ جنرل راحیل شریف کی مدت میں ابھی ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہے اور مختلف جائزوں کے مطابق جنرل راحیل شریف کو اس وقت تقریباً 83 فی صد عوام کی حمایت اور مقبولیت حاصل ہے جب کہ وزیر اعظم نواز شریف سمیت ملک کے کسی بھی سیاست دان کو جنرل راحیل جیسی مقبولیت حاصل نہیں اور وہ ملک میں مقبولیت کی معراج پر ہیں۔
اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے دبئی میں کہا ہے کہ جنرل راحیل کی مقبولیت سے کسی کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے اور ابھی ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی بات جس سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کی ہے۔
ان کی ملک میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ خورشید شاہ نے یہ بھی کہا کہ کسی جنرل کی مدت ملازمت میں توسیع کی باتوں سے جنرل کی عزت متاثر ہوتی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ سابق پی پی حکومت اور سابق صدر آصف زرداری نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کر کے ان کی عزت خراب کی تھی، جنرل کیانی کے لیے تاثر تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کے حامی تھے اور وہ پی پی پی اور سابق صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی کے لیے کوئی مسئلہ بھی نہیں تھے اور ان سے حکومت کو کوئی خطرہ بھی نہیں تھا۔
اس لیے پی پی حکومت نے انھیں بے ضرر سمجھ کر مزید تین سال آرمی چیف برقرار رکھا تھا تو اس وقت خورشید شاہ نے چپ شاہ کا روزہ رکھ لیا تھا اور وفاقی وزیر ہوتے ہوئے کابینہ صدر یا وزیر اعظم کو مشورہ نہیں دیا تھا کہ پی پی حکومت جنرل کیانی کی عزت برقرار رہنے دے تا کہ جنرل کی عزت متاثر ہونے سے بچانے کے لیے انھیں توسیع نہ دے مگر پی پی دور میں ان کی توسیع کی گئی تھی اور جنرل کیانی اپنی کوئی مقبولیت بھی ملک میں قائم نہ کر سکے تھے۔
سید خورشید شاہ نے اب کہا ہے کہ نہیں لگتا کہ جنرل راحیل اپنی مدت کی تکمیل کے بعد مزید توسیع کے خواہش مند ہوں گے۔ خورشید شاہ کیا اتنا بھی نہیں جانتے کہ جنرل راحیل فوجی ہیں اور کوئی فوجی جنرل اپنی مدت ملازمت میں توسیع کا برملا کبھی اظہار نہیں کرتا اور حکومت کسی جنرل کو توسیع دینا اپنے مفاد میں سمجھے تو اسے توسیع دے دیتی ہے۔
عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید بھی جنرل راحیل کی توسیع پر اظہار خیال کرتے آ رہے ہیں اور وہ فوجی صدر کے دور میں وزیر بھی رہے ہیں اور فوج کے کھلم کھلا حامی بھی ہیں مگر انھوں نے بھی خورشید شاہ جیسی باتیں نہیں کہیں، خورشید شاہ کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ جنرل راحیل کی مدت میں توسیع کے حامی نہیں ہیں اور پیپلز پارٹی دکھاوے کے لیے پاک فوج کی حامی ہے مگر وہ کسی ایسے جنرل کی حامی نہیں ہے جسے وہ اپنے لیے نقصان دہ سمجھتی ہو۔ پی پی کو جنرل کیانی جیسا جنرل ہی سوٹ کرتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں سابق وزیر اعظم گیلانی سمجھتے ہیں کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر نہیں ہیں جب کہ حکومتی حلقے کہتے ہیں کہ حکومت اور فوج ایک ہی پیج پر ہیں اور دونوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔
آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کی تو خواہش ہو گی کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر نہ ہوں اور دونوں میں دوریاں رہیں تا کہ پی پی رہنما اپنی بدعنوانیوں پر حکومتی کارروائی سے ہی محفوظ رہیں۔ پی پی کے بعض رہنما کس خوف کے تحت ملک سے باہر ہیں اور کہتے ہیں کہ کرپشن کے الزام میں پی پی رہنماؤں کے خلاف جو کارروائی ہو رہی ہے وہ وزیر اعظم نواز شریف کی رضامندی سے ہی ہو رہی ہے جو پی پی سے انتقام لے رہے ہیں۔
ملک میں عام تاثر یہ ہے کہسندھ میں کرپشن کے الزامات میں جو کارروائی ہو رہی ہے اسے روکنا نہ حکومت کے بس میں ہے اور نہ حکومت اس کی حامی ہے، حکومت کو یہ بھی خوف ہے کہ کسی بھی وقت (ن) لیگ کے کرپٹ رہنماؤں کو بھی گرفت میںلیا جاسکتا ہے۔ عمران خان بھی یہی چاہتے ہیں کہ اب (ن) لیگ کے خلاف بھی کارروائی شروع ہو۔
نواز شریف ماضی میں جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہوئے تھے اور اب وہ اپنی سیاست کو اپنے محسن جنرل ضیا الحق کی پالیسی سے دور لے جا چکے ہیں حالانکہ ان کی سیاست بھی جنرلوں ہی کی مرہون منت تھی۔
شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں جنرل راحیل شریف اپنی مدت میں توسیع چاہیں گے اور نہ وزیر اعظم نواز شریف انھیں مزید تین سال آرمی چیف توسیع دیں گے۔ شیخ رشید کی اس بات کی واقعی اہمیت ہے کیوں کہ ملک میں عام تاثر یہ ہے کہ نیب اور ایف آئی اے سمیت رینجرز جو کارروائیاں کر رہے ہیں ان کے پیچھے حکومت نہیں بلکہ کوئی اور ہے اور ایکسپریس کے اینکر آفتاب اقبال کی تحریر کے مطابق آرمی چیف کے ہاتھ کا ڈنڈا مضبوط بھی ہے اور سب سے نمایاں بھی اور ہر جگہ یہی ڈنڈا نظر بھی آتا ہے مگر ہر جگہ نام حکومت کا لیا جاتا ہے۔
وزیر اعظم اگرچہ جنرلوں ہی کی دریافت ہیں مگر وزیر اعظم بننے کے بعد گزشتہ دونوں حکومتوں میں ان کی فوج سے کم ہی بنی ہے اور اسی وجہ سے انھوں نے جنرل ضیا الدین بٹ کو پسند کر کے ان کے تقرر کی کوشش کی تھی جو جنرل پرویز مشرف نے ناکام بنا کر انھیں معزول بھی کر دیا تھا۔
جنرل راحیل کو دھرنے والوں نے اکسانے کی کوشش تو بہت کی تھی مگر وہ سیاست سے دور ہی رہے اور آج وہ نہ صرف عوام میں سب سے زیادہ مقبول ہیں بلکہ حکومت یہ کہتے نہیں تھکتی کہ وہ اور فوج ایک ہی پیج پر ہیں۔