خون کے ذریعے منتقل ہونے والے نئے لیکن بے ضرر وائرس کا انکشاف

کولمبیا یونیورسٹی کے مطابق یہ وائرس ہیپاٹائٹس کی نسل سے ہے لیکن انسانوں کے لیے بے ضرر ہے۔


ویب ڈیسک October 02, 2015
ہیپا ٹائٹس وائرس جیسا نیا وائرس انسانوں کے لیے مفید بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ تحقیق کار فوٹو: فائل

لاہور: سائنسدانوں نے بہت عرصے بعد خون کے ذریعے منتقل ہونے والے ایک نئے وائرس کا انکشاف کیا ہے جس پر مزید تحقیق کی جارہی ہے۔

اس وائرس کا نام ہیپیگی وائرس ون یا HHpgV-1 ہے جو بظاہر ہیپاٹائٹس وائرس کی طرح دکھائی دیتا ہے اور شاید انسانوں کے لیے مفید بھی ہو۔ کولمبیا یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایِان لپکن اور ان کے ساتھیوں نے اس وائرس پرتحقیق کی تھی ۔ وہ کہتے ہیں کہ نیا وائرس خون سے منتقل ہوتا ہے لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہیپاٹائٹس پھیلانے کی وجہ بنتا ہے۔ اس دریافت سے وابستہ ایک اور ماہر ڈاکٹر امیت کپور کے مطابق وائرس سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ نہ ہی یہ سارس ہے اور نہ ہی ایچ آئی وی کی طرح ہے اور شاید یہ انسانوں کے لیے مفید ہے۔

تحقیق کے دوران 106 افراد کے خون کے نمونے دیکھے گئے اور دو افراد میں یہ وائرس تھا اور ایک شخص گزشتہ پانچ برس سے اس سے متاثرنظر آیا۔ ماہرین نے HHpgV-1 کا جینیاتی نقشہ بھی بنادیا ہے جو دوسرے سائنسدانوں کو پیش کیا جائے گا۔ دنیا بھر میں کروڑوں افراد خون کے عطیات دیتے اور وصول کرتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شاید یہ ہیپاٹائٹس کے خاندان کا لیکن بے ضرر وائرس ہے۔