چاول کی برآمدات میں 45فیصد کمی 2ارب ڈالر کا ہدف دشوار ہوگیا

بھارتی چاول پاکستانی چاول سے کم قیمت پرآگیا ہے


Kashif Hussain October 22, 2012
جولائی سے ستمبر کے دوران چاول کی برآمد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں مالیت کے لحاظ سے27فیصد (ڈالر ٹرم) اور بلحاظ مقدار 45فیصد کمی ہوئی ہے۔ فوٹو: فائل

KARACHI: پاکستان سے اس سال 2ارب ڈالر کے چاول کی برآمدات کیلیے سہ ماہی ہدف پورا نہیں ہوسکا اورجولائی تا ستمبرچاول کی ایکسپورٹ 500ملین ڈالرکے ہدف کے مقابلے میں 308ملین ڈالرتک محدود رہی۔

جولائی سے ستمبر کے دوران چاول کی برآمد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں مالیت کے لحاظ سے27فیصد (ڈالر ٹرم) اور بلحاظ مقدار 45فیصد کمی ہوئی ہے۔ پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 3لاکھ 44ہزار ٹن چاول برآمد کیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں6لاکھ 24ہزارٹن چاول برآمد کیا گیا تھا۔رائس ایکسپورٹرزایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید غوری کے مطابق برآمدات میں کمی کی اہم وجہ بھارتی چاول سے مسابقت میں دشواری ہے بھارت کی جانب سے چاول کی ایکسپورٹ پر ہرطرح کے ڈیوٹی ٹیکسزختم کیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی چاول پاکستانی چاول سے کم قیمت پرآگیا ہے جس سے پاکستانی برآمدات کو دبائوکاسامنا ہے ۔

انھوں نے کہاکہ سہ ماہی اعدادوشمار کو دیکھتے ہوئے اس سال 2ارب ڈالر کا ہدف بھی مشکل ہوگیا ہے۔ بھارتی چاول سے مسابقت دشوار ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ اثر باسمتی چاول کی برآمد پر پڑرہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پہلی سہ ماہی کے دوران باسمتی چاول کی برآمد میں بلحاظ مالیت 40فیصد اور بلحاظ مقدار 52فیصد کمی ہوئی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 147ملین ڈالر کا ایک لاکھ 32ہزار ٹن چاول ایکسپورٹ کیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 2لاکھ 77ہزار ٹن چاول برآمد کیاگیا تھا۔

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں نان باسمتی چاول کی برآمد 2لاکھ 12ہزار ٹن رہی جو گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 3لاکھ 46ہزار ٹن ریکارڈ کی گئی تھی اس طرح نان باسمتی چاول کی برآمد میں بھی قیمت کے لحاظ سے 8فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 39فیصد کمی ہوئی ہے۔ جاوید غوری کے مطابق چاول کی کاشت کے لیے ہائی برڈ بیجوں کے استعمال کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے اور نئی فصل بہتر اور بھرپور ہونے کی توقع ہے تاہم برآمدات میں مسابقت کو آسان بنانے کیلیے حکومت کی توجہ اور سپورٹ ناگزیرہے۔

انھوں نے بتایاکہ رائس ایکسپورٹرزایسوسی ایشن رائس انڈسٹری کی مستحکم بنیادوں پرترقی، تربیت یافتہ ہنرمند افرادی قوت کی فراہمی اور ویلیو ایڈیشن کے فروغ کیلیے جامع روڈ میپ تیار کررہی ہے ۔ رائس انڈسٹری میں20فیصدچاول پراسیسنگ میں ضائع ہوجاتا ہے جسے تربیت یافتہ افرادی قوت کے ذریعے بچایا جاسکتاہے۔ اس مقصد کیلیے جاپان کے تعاون سے تکنیکی تربیت کامرکز قائم کیاجائیگا۔

مقبول خبریں